آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق وزیراعظم نوازشریف کی رائے ہے کہ عام انتخابات کے دوران نیب قوانین کو معطل کردیا جائے۔اس حوالے سے صدارتی آرڈیننس کی تجویز زیر غور ہے۔مسلم لیگ ن کے تحفظات ہیں کہ عام انتخابات کے دوران نیب سیاستدانوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے میں کارگر ثابت ہوگا۔2002کی یاد تازہ کی جائے گی۔اس مرتبہ تحریک انصاف پر بھی اعتماد نہیں کیا جائے گا۔بلکہ آزاد اراکین کا ایک بڑا گروپ کامیاب ہوگا اور پھر من پسند شخص کو وزیراعظم بنایا جائے گا۔جی ہاں! مسلم لیگ ن کو آؤٹ کرنے کے بعد تحریک انصاف دوسرا آپشن بھی نہیں ہے۔کسی نے درست تبصرہ کیا تھا کہ عمران خان کے ہاتھ میںوزارت عظمیٰ کی لکیر ہی نہیں ہے۔مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے حوالے سے حالات دن بدن پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں۔مسلم لیگ ن کو مائنس کرنے کے بعد آپشن میں تحریک انصاف بھی نہیں ۔ملکی ادارے وزارت عظمیٰ جیسے منصب کے لئے عمران خان کو بہتر نہیں سمجھتے۔عمومی تاثر ہے کہ عمران خان بہت پیچیدہ انسان ہے اور اس کے ساتھ چلنا آسان کام نہیں ہے۔مسلم لیگ ن کو نکال کر عمران خان پر بھروسہ کرنا ایسا ہی ہے کہ "آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا"۔
سابق وزیراعظم نوازشریف کا نیب کے حوالے سے حالیہ موقف اصولی طور پر درست ہے۔عام انتخابات کے دوران کسی بھی سیاسی جماعت کو انتظامی طاقت استعمال کرنے کی

اجازت نہیں دی جاتی۔کوئی بھی جماعت اپنے فائدے کے لئے سرکاری مشینری کااستعمال کرے تو قانون حرکت میں آتا ہے۔اسی طرح کسی بھی جماعت کے خلاف انتظامی طاقت کا استعمال ہونا بھی غلط ہے۔نگران دور کے تین ماہ کے دوران احتساب کومنجمد کرنے سے کوئی قیامت نہیں آئے گی مگر عام انتخابات کی شفافیت پر مہر ثبت ضرور ہوجائے گی۔کیوں کہ اگر نگران دور حکومت کے دوران پنجاب کے تمام انتظامی افسران کو صوبہ بدر کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ارباب و اختیار کسی قسم کا فائدہ حاصل نہ کرسکیں تو پھر یہ بھی ضروری ہے کہ عام انتخابات کے دوران کسی بھی سیاسی جماعت کو احتساب کے نام پر دیوار سے نہ لگایا جائے۔اگر عام انتخابات کے دوران احتساب کے عمل میں تیزی لائی جائے گی اور کسی ایک جماعت کو زیادہ نشانہ بنایا جائے گا تو پھر تاثر شدت اختیار کرے گا کہ اس عمل کا مقصد ایک جماعت کو محدود کرنا ہے۔اس حوالے سے کوئی قباحت نہیں ہے کہ عام انتخابات کے دوران نیب ہر قسم کی سرگرمیاں روک دے اور جب انتخابات مکمل ہوجائیں تو پھر وہیں سے دوبارہ آغاز کرے جہاں سے سلسلہ بند ہوا تھا۔اگر ایسا نہ کیا گیا اور حکومت کے جانے کے بعد نگران دور حکومت کے دوران کارروائیاں کی گئیں تو سارے ادارے کی ساکھ پر شدید تنقید ہوگی۔عین ممکن ہے کہ نیب جو بھی ایکشن کرے وہ میرٹ کے مطابق اور درست ہو مگر اس کی ٹائمنگ نیب کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لئے کافی ہوسکتی ہے۔اس لئے عام انتخابات کے دوران کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہئے۔اداروں کا بھرم باقی رہنے میں ہی پاکستان کی بہتری ہے۔
جبکہ حالیہ صورتحال سے جڑا دوسرا معاملہ آپشن نمبر دو ہے۔مستند اطلاع ہے کہ عام انتخابات میں تحریک انصاف آپشن نمبر دو نہیں ہوگی۔گمان ہے کہ ایک آزاد گروپ کو کامیاب کروایا جائے گا اور پھر وہی گروپ وزارت عظمیٰ کا فیصلہ کرے گا۔اس حوالے سے پیپلزپارٹی بڑی اسٹیک ہولڈر ہوسکتی ہے مگر تحریک انصاف کا نمبر پی پی پی کے بعد آئے گا اور عمران خان کو پرانی تنخواہ پر گزارہ کرناپڑ سکتا ہے۔عام انتخابات کے دورا ن بڑے پیمانے پر الیکشن ڈے کو manageکرنا بہت مشکل نظر آتا ہے۔لیکن اس مرتبہ حالات بہت پیچیدگی کی طرف جائیں گے۔اگر پوری قوت کے ساتھ مسلم لیگ ن کو روک لیا گیا تو پھر (Hung) ہنگ پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔جس میں سنجرانی جیسے کسی غیر مقبول شخص کو وزیراعظم بنایا جائے گا۔جبکہ تحریک انصاف کے وہ سیاستدان جو منظور نظر تصور کئے جاتے ہیں ،انہیں چند وزارتیں دے کر رام کیا جائے گا۔آئندہ کی کابینہ میں پی پی پی سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر ہوگی ،جبکہ زرداری کی نظر صدارتی محل کی طرف ہے۔لیکن اگر معاملات اس کے برعکس ہوئے اور کوئی بھی منصوبہ عوامی سمندر کا راستہ نہ روک سکا تو پھر حالات مختلف ہونگے۔ایسے میں کشیدگی بہت بڑھ جائے گی۔ٹکراؤ کے سوا دوسرا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔اس لئے اگر مسلم لیگ ن اپنی بقا چاہتی ہے تو معاملات کو صلح صفائی سے حل کرے۔
کئی ماہ قبل سابق وزیراعظم نوازشریف کے ایک قریبی ساتھی نے مجھے کہا کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ اور اداروں کے درمیان زیادہ کشیدگی پیدا نہیں ہوگی،معاملات کسی بھی قیمت پر پوائنٹ آف نو ریٹرن کی طرف نہیں جائیں گے۔ہلکی پھلکی تنقید کے بعد معاملات ٹھیک ہوجائیں گے۔اگر سابق وزیراعظم نوازشریف کو کسی بھی اسٹیج پر محسوس ہوا کہ ان کے دو قدم پیچھے ہٹنے اور شہباز شریف کے دو قدم آگے بڑھنے سے معاملات ٹھیک ہوتے ہیں اور مسلم لیگ ن حالیہ بحران سے نکل جاتی ہے تو نوازشریف پیچھے ہٹنے کو ترجیح دیں گے۔مگر میری اطلاع کے مطابق نوازشریف صاحب آج کے دن تک ڈٹے ہوئے ہیں۔صلح صفائی کی موثر کوششوں کو نوازشریف نے زیادہ اہمیت نہیں دی۔لیکن مسلم لیگ ن کے اکابرین کو یاد رکھنا چاہئےکہ اگر حالیہ صورتحال مزید کچھ عرصہ برقرار رہی تو جماعت کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔سویلین بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی شرط اول ہے مگر حکمت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔مسلم لیگ ن کے پاس آخری موقع ہے۔اگر موثر بات چیت سے مسائل کا حل نکال لیا گیا تو تاریخ دان نوازشریف کو فاتح لکھے گا۔باقی جنگ کا آپشن تو ہر وقت موجود ہوتا ہے۔جنگ کے نتائج کو نوازشریف سے بہتر کون جانتا ہے۔
صرف اک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے
دوسری کسی بھی صورت میں مارا جاؤں گا
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں