آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے اپنی مدت پوری ہونے سے چند ہفتے قبل قومی محاصل میں اضافے کیلئے وزیر اعظم عباسی نے جس ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ ابھی اس کیلئے صدارتی آرڈیننس جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم اسکے جو خدوخال سامنے آئے ہیں، اس سے کئی فوائد اور خدشات سامنے آئے ہیں، تاہم اس بارے میں بین الاقوامی سطح پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے اور ہمارے اندرون ملک اور بیرون ملک امیر طبقے سے تعلق رکھنے لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا نہیں۔
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب آنے والے دنوں میں ملے گا،تاہم قومی سطح پر یہ بات ہرجگہ زیر بحث ہے کہ ایک تو یہ حکومت جاتے جاتے اپنے دور میں چھٹا بجٹ بھی عام روایات سے ہٹ کر 27اپریل کو پیش کررہی ہے۔ دوسرا اگر یہ ایمنسٹی ا سکیم لانی ہی تھی تو پھر اس کو نئے مالی سال کے بجٹ کے ساتھ لنک کردیا جاتا۔ دوسرا یہ کہ عمومی طور پر ایسی اسکیمیں کالے دھن کو سفید کرنے کے نام پر جاری کی جاتی ہیں لیکن اس سے فائدہ چند افراد یا خاندانوں کو پہنچتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایف بی آر کا ٹیکس نظام خاصا پیچیدہ ہے جس کی وجہ سے اچھے بھلے لوگ بھی ٹیکس دینے سے بھاگتے ہیں، تاہم نئی اسکیم کی عین اس وقت کوئی ہنگامی ضرورت نہیں تھی۔ اسلئے کہ کاروباری طبقے کی نئی ٹیکس ریٹرن تو اب ستمبر میں جمع کرانے کا وقت ہے

جبکہ اس ایمنسٹی اسکیم کی مدت 30جون کو ختم ہورہی ہے جہاں تک پاکستانیوں کے غیر ملکی اثاثوں کو ٹیکس نٹ میں لانے کا سوال ہے، یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اسلئے کہ دنیا بھر میں صرف پاکستانی نہیں، امریکہ، یورپ سمیت ہر جگہ ٹیکس چھپانااور چوری کرنا ہر ایک کی فطرت میں شامل ہے لیکن وہاں ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کرپٹ نہیں ہوتےیہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، اگر ایسا نہ ہو تو 1998کے عرصہ میں عالمی بینک کے ایک ایگزیکٹو نے اسلام آباد میں کہا تھا کہ پاکستان کے معاشی اور کاروباری نظام میں 800سے 900ارب روپے کے ریونیوکی وصولی کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کیلئے سیاسی قیادت کوبھرپور جذبے اور موثر اکنامک گورننس کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس وقت ہر طرف یہی تاثر دیا جارہا ہے کہ اس ایمنسٹی ا سکیم سے اچھا خاصا ریونیو مل جائے گا، اللہ کرے ا یسا ہوجائے مگر ایسے خواب دیکھنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے۔ ایسا سوچنے سے پہلے ماضی کی مختلف ایمنسٹی ا سکیموں کا مختصراً جائزہ لیں تو صدر ایوب خان کے دور میں بونس وائوچر ا سکیم کے اجراسے کیا حاصل ہوا۔ ہمارے محترم ڈاکٹر محبوب الحق نے 22خاندانوں کے قومی دولت اور اثاثوں کا قوم کو بتایا اور کالے دھن کو سفید کرنے کی ایک جامع ا سکیم کا اعلان کیا۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا، وہ قوم کے سامنے ہے اسکے بعد 2008ءاور 2013ءکے عرصہ میں پیپلز پارٹی کے دو ر میں ایسی اسکیموں سے حکومت کو صرف 3.16 ارب روپے اور 10کروڑ روپے کے اثاثے وصول ہوئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ نئی ایمنسٹی اسکیم میں بڑا واضح لگتا ہے کہ حکومت کو اپنے بجٹ کے حالات بہتر بنانے کیلئے ڈالر چاہئیں تاکہ اس کا مالی خسارہ کم ہوسکے اور ادائیگیوں کے توازن میں بہتری لائی جاسکے۔ اسلئے کہ اس وقت ہزار دعوئوں کے برعکس حکومت کے مالی حالات کوئی اطمینان بخش نہیں ہیں۔ اسلئے کہ مصنوعی طریقے سے برآمدات میں معمولی اضافہ کے باوجود تجارتی خسارے کا حجم کم نہیں ہورہا، تاہم ڈالر کی قیمت 117روپے تک بڑھنے سے مجموعی طور پر قومی معاشی مسائل اور مختلف شعبوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، اس لئے حکومت کے پاس شاید کوئی اور راستہ نہیں تھا کہ ایسا کرتی، بہرحال مجموعی طور پر اقتصادی ماہرین کی اکثریت سمجھتی ہے کہ کسی ایمنسٹی ا سکیم کے اجرا کے بجائے قومی سطح پر نئے ٹیکس کلچر کو متعارف کرایا جائےاور ہر شخص کی ا ٓمدنی پر براہ راست ٹیکس سسٹم کا اجراکیا جائے جو 3، 4فیصد سے زائد نہ ہو۔ اسکے علاوہ ود ہولڈنگ اور دوسرے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا خاتمہ کرنے سے ٹیکس وصول کرنے والے اداروں اور ٹیکس دینے والے بااثر اداروں اور افراد کے پاس قومی سطح پر ٹیکس چوری کرانے اور کرنے کے مواقع کم ہوجائینگے۔ وزیر اعظم عباسی نے اس ا سکیم میں ٹیکسوں کے ریٹ میں کمی کا اچھا اعلان کیا ہے لیکن ا صل حقائق تو صدارتی آرڈیننس کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ ماضی کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایک بار ڈاکٹر محبوب الحق نے 22خاندانوں کے پاس قومی دولت کے ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اب لگتا ہے کہ آبادی اور قومی وسائل کا حجم بڑھنے کے حوالے سے7ہزار سے زائد خاندان ہیں جن میں اس دور کے چند پرانے خاندان اور نام باقی رہ گئے ہیں باقی سب نئے امیر لوگ ہیں، اس حوالے سےPIDE،IBA، LUMS جیسے اداروں کو تحقیق کرنی چاہئے کہ پاکستان میں دولت کا ارتکاز اس قدر تیزی سے کیسے بڑھا اور دوسری طرف دولت کے غیر منصفانہ تقسیم کے ہمارے معاشرتی اور معاشی نظام پر کیا کیا منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس کی روشنی میں نئی ٹیکس پالیسی مرتب کی جانی چاہئے جس کا نعرہ ٹیکس دیناسب کیلئے لازمی لیکن اس کیسا تھ ساتھ ریاست بھی ٹیکسوں کی آمدنی کو سیاسی اور غیر پیداواری مقاصد کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔ ایسا کرنے سے شاید پاکستان میں بار بار ایمنسٹی ا سکیمیں لانے کا رواج ختم ہوسکے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں