آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ11؍ربیع الثانی 1440ھ 19؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سیلس بَری حملہ: مغرب، روس پھر آمنے سامنے

اس وقت رُوس اور مغرب کے درمیان سرد جنگ کے بعد سب سے سنگین تنازع جاری ہے۔ تنازعے کے آغاز سے لے کر اب تک فریقین کی جانب سے 175سے زاید سفارت کاروں کو مُلک بدر کیا جا چُکا ہے۔ ان میں سے ایک سو سے زاید رُوسی سفارت کاروں کو مختلف مغربی ممالک نے مُلک بدر کیا ، جب کہ رُوس نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے بڑی تعداد میں اپنے حریف ممالک کے سفارت کاروں کو مُلک سے بے دخل کیا۔ 

اس تنازعے کا آغاز برطانیہ کے چھوٹے سے شہر، سیلس بَری میں سابق رُوسی ایجنٹ، سرگئی اسکری پال اور اُن کی صاحب زادی، یولیااسکری پال کو نرو گیس کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش سے ہوا، جس کا الزام برطانوی حکومت کی جانب سے رُوس پر عاید کیا گیا۔ 

سیلس بَری حملہ: مغرب، روس پھر آمنے سامنے

خیال رہے کہ نرو گیس کو ایک کیمیائی ہتھیار تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کا استعمال جُرم ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مغرب اور رُوس کے درمیان جاری تنازع معمولی نوعیت کی سفارتی جنگ نہیں، بلکہ اس نے رُوس اور مغربی دُنیا کے تعلقات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ۔کریمیا پر رُوسی قبضے کے بعد مغرب کی جانب سے ایسی جارحانہ کارروائی شاید پہلی مرتبہ دیکھی گئی ہے۔ اس تنائو کے عالم میں سب سے زیادہ حیرت کا اظہاراس بات پر کیا جا رہا ہے کہ دوسرے مغربی ممالک نے برطانیہ کے ساتھ جس طرح یک جہتی کا اظہار کیا، وہ دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی مثال آپ ہے۔ 

گو کہ رُوس کے خلاف شدید ردِ عمل کا اظہار سب سے پہلے برطانیہ نے کیا، لیکن امریکا اور یورپی یونین اس کی پُشت پر تھے ، جب کہ امریکی صدر، ٹرمپ سے متعلق یہ تاثر غلط ثابت ہوگیا کہ وہ اپنے رُوسی ہم منصب، پیوٹن کے لیے دِل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ نیز، یورپ اور امریکا کے درمیان پائی جانے والی مخاصمت اور ’’بریگزٹ‘‘ کے بعد برطانیہ کی یورپ میں تنہائی کا تاثر بھی غلط ثابت ہوا اور یہ تنازع سامنے آنے کے بعد پوری مغربی دُنیا متّحد اور یک جا نظر آئی، جس کی قیادت امریکی صدر کے پاس تھی کہ انہوں نے ہی رُوس کے خلاف سب سے زیادہ شدید ردِ عمل ظاہر کیا۔

رُوس اور مغربی تنازعے کی مزید تفصیل میں جانے سے قبل ہم سیلس بَری واقعے پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ رُوس کے منحرف ایجنٹ، 66سالہ سرگئی اسکری پال اور اُن کی 33سالہ صاحب زادی، یولیا برطانیہ کے غیر معروف شہر، سیلس بَری میں خاموشی کی زندگی گزار رہے تھے کہ 4مارچ کو اچانک یہ خبر موصول ہوئی کہ انہیں قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بعد ازاں، یہ تفصیلات منظرِ عام پر آئیں کہ دونوں پر ’’نوی چوک‘‘ نامی کیمیائی گیس سے حملہ کیا گیا ۔یولیا واقعے سے ایک روز قبل ہی رُوس سے ہیتھرو پہنچی تھیں اور یہ کیمیائی حملہ 4مارچ کو اسکری پال کے گھر کے دروازے پر کیا گیا۔

گرچہ فوری طور پر تو باپ، بیٹی پر حملے کا کوئی اثر نہیں ہوا، لیکن جب وہ قریبی پارک میں گئے، تو اُن کی حالت غیر ہو گئی۔ انہیں بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں طبّی معائنے کے دوران اُن پر گیس کے اثرات کا انکشاف ہوا۔ مذکورہ زہریلی گیس کے اثرات پارک میں موجود کم و بیش ایک سو بچّوں پر بھی ہوئے، جن کا اس انکشاف کے بعد باقاعدہ طبّی معائنہ کیا گیا۔ 

سابق رُوسی ایجنٹ اور اُن کی صاحب زادی پر حملے کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پورے مُلک میں پھیل گئی ۔ یہاں تک کہ24گھنٹے گزرنے سے قبل ہی برطانوی وزیرِ اعظم، تھریسامے نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حملے میں استعمال ہونے والا مواد، اُس ’’گروپ آف نرو ایجنٹس‘‘ میں شامل ہے، جسے رُوس میں تیار کیا جاتا ہے اور اس کا نام، ’’نوی چوک‘‘ہے۔ 

برطانوی وزیرِ اعظم نے رُوس پر الزام عاید کیا کہ وہ برطانیہ کی سرزمین پر ہونے والے کیمیائی حملے میں براہِ راست ملوّث ہے اور یہ تقریباً ’’ایکٹ آف وار‘‘ ہے، کیوں کہ ماسکو نے ملٹری گریڈ نرو ایجنٹ استعمال کیا۔ تھریسامے نے 24گھنٹے کے اندر رُوس سے وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ کیا، جسے ماسکو نے نظر انداز کر دیا۔ رُوس کی جانب سے وضاحت پیش نہ کرنے پر برطانیہ نے 23رُوسی سفارت کاروں کو مُلک سے نکل جانے کا حُکم دیا اور جس انداز سے برطانوی حکومت نے رُوس پر الزامات عاید کیے، اُس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ لندن، پیوٹن کو اس واقعے کا براہِ راست ذمّے دار سمجھتا ہے۔ 

برطانیہ کے اس طرزِ عمل نے معاملے کو انتہائی سنگین نوعیت کی سفارتی محاذآرائی میں تبدیل کردیا اور ماسکو نے بھی دبائو میں آنے سے انکار کر دیا ، بلکہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے اس سے بڑی تعداد میں برطانوی سفارت کاروں کو رُوس سے بے دخل کر دیا۔ 

سیلس بَری حملہ: مغرب، روس پھر آمنے سامنے

خیال رہے کہ کسی سنگین تنازعے کی صورت ہی میں مُلک میں موجود غیر مُلکی سفارت کاروں کو بے دخل کیا جاتا ہے۔ ویانا کنونشن کی رُو سے سفارت کاروں کو میزبان مُلک میں قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے ، البتہ قانون کی خلاف ورزی پر ان سے مُلک میں رہنے کا حق چھینا جا سکتا ہے۔ اسی قانون کی روشنی میں لاہور میں مقامی شہریوں کے قتل میں ملوّث امریکی باشندے، ریمنڈ ڈیوس کو اُس وقت کے امریکی صدر، باراک اوباما نے سفارت کار قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی سے استثنیٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ 

عموماً سفارت کاروں کو مُلک بدر کرنے کی تین وجوہ ہوتی ہیں۔ اوّل، وہ میزبان مُلک کا قانون توڑیں۔ دوم، میزبان مُلک ان کی کسی حرکت سے ناخوش ہو اور سوم یہ کہ میزبان مُلک اور اُس مُلک کے درمیان کوئی سفارتی بُحران پیدا ہو جائے، جس سے وہ سفارت کار تعلق رکھتا ہے اور اس وقت رُوس اور برطانیہ کے درمیان سفارتی بُحران ہی پایا جاتا ہے۔ 

ویانا کنونشن کے آرٹیکل،9کی روشنی میں میزبان مُلک کسی بھی وقت، کسی بھی وجہ سے، کسی بھی سفارت کار کو نا پسندیدہ شخصیت قرار دے کر مُلک چھوڑنے کا حکم دے سکتا ہے۔ نیز، اسی قانون کے تحت، کوئی مُلک اپنے ہاں تعیّنات غیر مُلکی سفراء کو دفترِ خارجہ طلب کر کے اپنی ناراضی کا اظہار بھی کر سکتا ہے، جیسا کہ اکثر پاکستان لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری کی خلاف ورزی سمیت دیگر ناخوش گوار واقعات پر بھارتی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتا ہے۔ مذکورہ کنونشن میں سفارت کاروں کے خلاف کارروائی کے لیے کوئی حدود متعیّن نہیں کی گئیں اور اسے میزبان ممالک کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

برطانیہ، رُوس تنازعے کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو سفارتی ہے، جس کا دُنیا بَھر میں چرچا ہے، کیوں کہ یہ عالمی صورتِ حال پر اثر انداز ہو رہا ہے، جب کہ دوسرا پہلو تیکنیکی ہے، جس کا تعلق کیمیائی ایجنٹ ’’نوی چوک‘‘ کے استعمال سے ہے۔ ماسکو پر حملے کا الزام عاید کرنے کے بعد لندن اس لیے مطمئن نظر آتا ہے کہ یہ کیمیائی ہتھیار رُوس ہی میں تیار ہوتا ہے اور پھر ابھی تک ماسکو نے اس کی تردید بھی نہیں کی، لیکن اس کیمیائی ہتھیار کی ہلاکت خیزی اور حملے کی جزئیات کی بین الاقوامی اداروں سے تصدیق بھی ضروری ہے۔ 

واضح رہے کہ جب اگست 2016ء میں شام میں بشار الاسد کی افواج کی جانب سے کیمیائی حملے کی مدد سے اپنے تقریباً 500شہریوں کو ہلاک کرنے کی خبریں سامنے آئی تھیں، تو امریکا اور یورپ نے شامی صدر کو ریڈ لائن کراس کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں، لیکن بعدازاں امریکا اور رُوس کے درمیان ہونے والے ایک سمجھوتے کے نتیجے میں عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی،’’ آئی اے ای اے‘‘ کی جانب سے چھان بین کے بعد کیمیائی ہتھیار تلف کرنے کی شرط پر یہ معاملہ سرد خانے کی نذر کر دیا گیا۔ 

تاہم، برطانیہ کے عوام اور حکومت بے بس نہیں اور برطانوی حکومت نے تین اہم بین الاقوامی اداروں سے بھی اس معاملے میں مداخلت کے لیے کہا، جن میں اقوامِ متّحدہ کی سلامتی کائونسل، یورپی یونین اور آرگنائزیشن فار پروٹیکشن آف کیمیکل ویپنز شامل ہیں۔ دوسری جانب رُوس نے بھی موخر الذّکر ادارے کے ماہرین سے بات چیت کی ہے اور اس کے ساتھ ہی یولیا اسکری پال تک رسائی کا مطالبہ بھی کیا ہے، جو رُوسی شہری ہیں۔

بہر حال،یہ دو فریقی تنازع اُس وقت ایک بین الاقوامی تنازعے کی شکل اختیار کر گیا کہ جب 30مغربی ممالک اور اُن کی عسکری تنظیم، نیٹو، جسے دُنیا کا سب سے طاقت وَر اتحاد تسلیم کیا جاتا ہے، پوری طاقت کے ساتھ برطانیہ کی پُشت پر جا کھڑے ہوئے۔ اس موقعے پر رُوسی وزیرِ خارجہ، سرگئی لاروف نے برطانیہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’وہ اس گروپ کا رِنگ لیڈر ہے، جو ماسکو پر الزامات عاید کر رہا ہے۔‘‘ ماہرین اسے برطانوی وزیرِ اعظم، تھریسامے کی زبردست سفارتی کام یابی قرار دے رہے ہیں کہ انہوں نے بریگزٹ کے باوجود نہ صرف پورے مغربی بلاک کو اپنا ہم نوا بنا لیا، بلکہ مغربی ممالک کو رُوسی سفارت کاروں کو مُلک بدر کرنے جیسا انتہائی قدم اُٹھانے پر بھی آمادہ کر لیا۔ 

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برطانیہ آج بھی ایک طاقت وَر مُلک ہے اور اس کی خارجہ پالیسی بھی کام یاب ہے اور بریگزٹ کی وجہ سے مُلک میں پائی جانے والی تقسیم کے باوجود جس طرح تمام برطانوی سیاسی جماعتوں اور عوام نے یک جہتی کا مظاہرہ کیا، وہ بھی لائقِ تقلید ہے۔ 

یہاں ایک قابلِ ذکر اَمر یہ بھی ہے کہ گزشتہ برس ہونے والے قبل از وقت انتخابات کے نتیجے میں تھریسامے ایک کم زور حُکم ران کے طور پر سامنے آئی تھیں، کیوں کہ انہیں مخلوط حکومت تشکیل دینی پڑی تھی۔ اکثر ماہرین کا خیال تھا کہ اُن کی یہ کم زوری شاید برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں بھی نظر آئے گی، لیکن اس واقعے کے بعد برطانوی عوام نے انہیں جو اعتماد اور حوصلہ عطا کیا، وہ پوری دُنیا کے سامنے ہے اور آج ایک عالم اُن کے مٔوقف کا حامی ہے۔

تاہم، دوسری جانب اس تنازعے نے رُوس کو پوری دُنیا میں تنہا کر دیا اور اس کا سب سے بڑا اور طاقت وَر پڑوسی مُلک، چین بھی اس کے مٔوقف کی حمایت پر آمادہ نہیں اور خاموش ہے ۔ناقدین چین کی اس خاموشی کو رُوس کے مخالفین کے حق میں نیم رضامندی قرار دے رہے ہیں۔ گرچہ 18مارچ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر پیوٹن کو ’’مردِ آہن‘‘ قرار دیا گیا اور اُن کے امریکی ہم منصب، ٹرمپ نے بھی انہیں کام یابی کی مبارک باد دی، لیکن پھر چند روز بعد ہی 60رُوسی سفارت کاروں کو امریکا سے بے دخل کرنے کے ساتھ سیٹل میں واقع رُوسی قونصل خانہ بھی بند کر دیا۔ 

ٹرمپ کے ان جارحانہ اقدامات نے جہاں دُنیا کو حیرت میں مبتلا کر دیا، وہیں یہ سب اُن کے رُوسی ہم منصب کی توقعات کے بالکل برعکس بھی تھا۔ ماہرین کے مطابق، صدارتی انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد امریکا اور یورپی ممالک سے رُوسی سفارت کاروں کی بے دخلی نے پیوٹن کو یقیناً اضطراب میں مبتلا کر دیا ہو گا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہوں گے کہ کیا شام میں بشار الاسد کو فتح دِلانا اور یوکرین کے معاملے پر مغرب کی مخالفت مول لینا، دانش مندانہ اقدامات تھے اور کہیں انہوں نے اپنے متعلق ’’مردِ آہن‘‘ کے مغربی پراپیگنڈے کے زیرِ اثر آکر بین الاقوامی اسٹیج پر رُوس کی انٹری میں جلد بازی سے تو کام نہیں لیا۔ 

یاد رہے کہ کریمیا پر قبضے کے بعد لگنے والی اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں رُوس کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا اور رُوسی کرنسی، روبل کی بے قدری نے اس کے معاشی ضعف میں مزید اضافہ کیا، جس کا اعتراف خود رُوسی وزیرِخارجہ، سرگئی لاروف بھی کر چُکے ہیں۔

رُوس کے برعکس اس کے پڑوسی مُلک، چین نے ٹرمپ کی شعلہ بیانیوں کے باوجود توازن برقرار رکھا اور امریکا و یورپ سے کسی فوجی تنازعے میں نہیں اُلجھا، حالاں کہ اس کے مغربی ممالک سے کئی تنازعات ہیں ، مگر وہ مستقلاً بات چیت پر زور دیتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چینی لیڈر شپ قوم پرست ہونے کے باوجود خاصی حقیقت پسند ہے اور اپنی معاشی مضبوطی اور طے شدہ اہداف کے حصول کو جذباتی ردِ عمل کی صورت قربان کرنے پر آمادہ نہیں۔ 

ان دنوں رُوس کے اُس بین البراعظمی میزائل کا ذکر عام ہے، جسے دُنیا کا مُہلک ترین ہتھیار قرار دیا جاتا ہے، لیکن ناقدین یہ بھی یاد دِلاتے ہیں کہ جب گزشتہ صدی کے اختتام پر سوویت یونین بکھرا تھا، تو اُس وقت سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار اسی کے اسلحہ خانے میں موجود تھے ، لیکن کیا وہ سوویت یونین کی شکست ویخت کو روک سکے۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ رُوس کے تیل و گیس ذخائر سے برطانیہ کے مفادات وابستہ ہیں ۔ اس کے باوجود برطانیہ کا یہ شدید ردِ عمل ماسکو کی قیادت کے لیے ایک چیلنج ہی نہیں، بلکہ باعثِ تشویش بھی ہے۔ رُوس کبھی بھی ایشیا میں ایک کم زور مُلک نہیں رہا اور اُس نے ہمیشہ علاقے کے چھوٹے ممالک سے بہ زورِ شمشیر اپنے مطالبات منوائے، لیکن اس کے مقابلے کا میدان ہمیشہ یورپ ہی رہا ہے۔

ناقدین کا ماننا ہے کہ رُوس کی شام اور کریمیا میں فوجی پیش رفت کے بعد ہی مغرب اُسے آزمانے کا فیصلہ کر چُکا تھا اور کسی مناسب موقعے کا منتظر تھا، جو اسے برطانیہ اور رُوس کے حالیہ تنازعے نے فراہم کر دیا۔ نیز، اپنے جارحانہ اقدامات سے صرف پیوٹن ہی کو نہیں، بلکہ پوری دُنیا کو یہ واضح پیغام دینا مقصود تھا کہ اگر رُوس یا کوئی اور طاقت کسی مغربی مُلک کو چیلنج کرنے کی کوشش کرے گی، تو تمام مغربی ممالک نتائج کی پروا کیے بغیر اُس کے خلاف متّحد ہو جائیں گے۔ 

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ رُوس کے ساتھ تنازعے پر اگر فرانس، جرمنی، اٹلی، یونان اور پولینڈ جیسے یورپی ممالک برطانیہ کا ساتھ دے رہے ہیں، تو بحرالکاہل کے اُس پار واقع امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا بھی اس کی پُشت پر کھڑے ہیں۔ یہ تمام ممالک صرف اس بنا پر برطانیہ کا ساتھ دے رہے ہیں کہ اُس نے رُوس پر اپنی سر زمین پر حملہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ 

رُوس کے خلاف مغربی ممالک کے اس اتحاد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اقوامِ متّحدہ کے سیکریٹری جنرل، انتونیو گوتیرس اسے ’’سرد جنگ کا احیا‘‘ قرار دینے پر مجبور ہو گئے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس تنازعے کو مزید بڑھاوا دینے سے مغرب کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچے گا، کیوں کہ جن رُوسی سفارت کاروں کو مُلک بدر کیا گیا، اُن پر جاسوسی کے الزامات بھی عاید کیے گئے۔ 

باالفاظِ دیگر دُنیا کو یہ باور کروایا گیا کہ رُوس ایک بار پھر بدنامِ زمانہ، کے جی بی کی طرز پر اپنا جاسوسی نیٹ ورک پھیلا کر دُنیا کے لیے خطرہ بن رہا ہے، جس کا ثبوت کیمیائی حملے کی صُورت ہمارے سامنے ہے، جس سے شاید ہی کوئی بین الاقوامی ادارہ اختلاف کرے۔اسلامی ممالک کو مغربی اتحاد پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ میں دو افراد پر حملہ ہوا، تو کسی نے یہ شور نہیں مچایا کہ مغربی تہذیب خطرے میں ہے، لیکن اس کے باوجود بیش تر مغربی ممالک نے برطانیہ کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔ 

اسلامی ممالک کے رہنما ہر دَم اتحاد کا نعرہ بلند کرتے ہیں، لیکن تقسیم بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ برطانیہ میں ایک کیمیائی حملہ ہوا، تو اُس نے دُنیا کو ہلا کر رکھ دیا، جب کہ گزشتہ 7برس کے دوران شام میں 5لاکھ مسلمان جاں بحق ہو چُکے ہیں، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ہم اپنے ہی عوام کو بے وقوف بنانے کی مُہم میں سرگرداں ہیں اور اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کہ حالات بدلنے کے ساتھ متبادل تلاش کرنا کتنا اہم ہے۔ ہمارے تو باہمی اختلافات ہی ختم نہیں ہوتے۔ 

کوئی رُوس کے بلاک میں جا رہا ہے، تو کسی کو امریکا کا غم کھائے جا رہا ہے۔ ہم دعوے تو اتحاد کے کرتے ہیں، لیکن ساری توانائیاں اپنی غلطیوں، کوتاہیوں کو بیرونی سازشوں کی آڑ دینے میں صَرف ہو جاتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں