آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آئیے! چینی سیکھیں

چین کی سرکاری زبان’’ مینڈا رین‘‘ 2010ء سے اقوامِ متحدہ کی اُن چھے آفیشل زبانوں میں شامل ہے، جن کا ہر سال’’ عالمی یوم‘‘ منایا جاتا ہے۔ دیگر پانچ آفیشل زبانوں میں انگریزی، عربی، فرانسیسی، روسی اور اسپینش شامل ہیں۔ سرکاری چینی زبان کا عالمی یوم،2011 ء سے ہر سال20 اپریل کو باقاعدگی سے منایا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں، خود چین کی حکومت بھی ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت دنیا بھر میں اپنی زبان کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس مد میں سالانہ اربوں یوآن خرچ کر رہی ہے۔ 

شاید آپ کے لیے یہ بات حیران کُن ہو کہ سابق امریکی صدر، بارک اوباما کی بیٹی اور فیس بُک کے مالک، مارک زکر برگ کی جانب سے چینی زبان سیکھنے کے بعد، امریکی عوام میں بھی اس زبان کو سیکھنے کی خواہش بڑھ گئی ہے اور یوں، اب چینی زبان سیکھنے کی دَوڑ میں امریکا بھی کسی دوسرے مُلک سے پیچھے نہیں رہا۔ 

امریکی حکومت نے2020 ء تک دس لاکھ امریکیوں کو چینی زبان سِکھانے کا پروگرام شروع کررکھا ہے، جو اس بات کی غمّازی کرتا ہے کہ امریکی منصوبہ ساز مستقبل میں چینی زبان کی اہمیت کا بھرپور ادراک رکھتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے چینی زبان کتنی ضروری…؟ ایک محتاط اندازے کے مطابق، ہمارے مُلک میں بیس سال تک کی عُمر کے نوجوانوں کی تعداد دس کروڑ کے قریب ہے۔ اس اثاثے کا درست استعمال ہماری تقدیر بدل سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم نوجوانوں کو اُن روشن راہوں سے روشناس کروائیں، جو اُن کی ترقّی کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوں۔ 

اگر ہم بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات اور مُلکی صُورتِ حال کا جائزہ لیں، تو ہمارے نوجوانوں کو جس قدر جلد ممکن ہو، چینی زبان میں مہارت حاصل کرلینی چاہیے، کیوں کہ’’ وَن بیلٹ، وَن روڈ‘‘ منصوبہ مکمل ہوتے ہی چین اقوامِ عالم میں سُپر پاور کی حیثیت اختیار کر جائے گا اور چین کے ساتھ ہماری اس دوستانہ’’ معاشی شراکت‘‘ کے فوائد اُسی وقت حاصل ہوسکیں گے کہ جب ہمارے نوجوان چینیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور اس کے لیے لازم ہے کہ وہ چینی زبان میں مہارت رکھتے ہوں تاکہ اُنہیں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ 

اسی حوالے سے ایک قابلِ غور پہلو یہ بھی ہے کہ چینی عام طور پر اپنی زبان کے علاوہ کوئی دوسری زبان اختیار کرتے ہوئے جھجکتے ہیں، اسی لیے وہ انگریزی زبان میں ایسی مہارت نہیں رکھتے، جو عالمی سطح پر رابطے استوار کرنے کے لیے درکار ہے، مگر ہمارے نوجوان چینیوں کی نسبت زیادہ اچھی انگریزی جانتے ہیں، اس لیے اُمید کی جاسکتی ہے کہ اگر چینی مستقبل میں پاکستانی نوجوانوں کے ساتھ مل کر کام کریں، تو چین کو ہمارے نوجوانوں کی صُورت، ایسے قابلِ اعتماد اور قابلِ بھروسا شراکت دار میّسر آ سکیں گے، جو اُن کی دنیا بھر میں درست ترجمانی کر سکتے ہیں۔

چینی زبان کتنی کھٹّی، کتنی میٹھی… مختلف ویب سائٹس یا فلمز وغیرہ میں چینی زبان کے رسم الخط کی عجیب و غریب شکل دیکھنے کے سبب ہم میں یہ مغالطہ بھی پایا جاتا ہے کہ شاید چینی زبان، دنیا کی مشکل ترین زبانوں میں سے ایک ہے، حالاں کہ حقیقت اس سے یک سَر مختلف ہے۔ 

چینی ایک آسان زبان ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں دوسری زبانوں کی طرح اسم، اسمِ معرفہ، فعل، مذکّر، مونث جیسی اصطلاحات نہیں ہیں۔ چینی زبان پچاس ہزار حروفِ تہجی پر مشتمل ہے، مگر گھبرانے کی بات نہیں، اگر آپ صرف دو سے تین ہزار حروفِ تہجی سے آگہی حاصل کرلیں، تو آپ کسی بھی چینی اخبار یا رسالے کا باآسانی مطالعہ کرسکتے ہیں اور اگر چھے سے آٹھ ہزار تک حروفِ تہجی سیکھ لیے، تو پھر آپ دوسروں کو چینی زبان پڑھا سکتے ہیں، کیوں کہ چینی کالجز اور یونی ورسٹیز سے فارغ التّحصیل طلبہ بھی صرف اتنے ہی حروفِ تہجی سے واقفیت رکھتے ہیں۔ یہاں ایک دِل چسپ بات یہ بھی بتاتے چلیں کہ بیس، بچیس ہزار سے زیادہ حروفِ تہجی سے آشنائی تو چین کے ماہرینِ لسانیات بھی نہیں رکھتے۔ 

اس لیے اطمینان رکھیں کہ چینی زبان بولنا، سیکھنا شاید آپ کے لیے اتنامشکل ہدف ثابت نہ ہو، جتنا آپ تصوّر کیے ہوئے ہیں۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ چینی زبان سیکھنا، ایک دقّت طلب اور صبر آزما کام ضرور ہے، کیوں کہ یہ زبان مختلف جانوروں یا مظاہرِ فطرت کے نشانات یا علامات سے بنائی گئی ہے۔ اس لیے ہمیشہ ہی سے چینی زبان کو لکھنا نسبتاً مشکل رہا ہے، لیکن چینی حکومت نے اب اس کا بھی حل نکال لیا ہے۔ چینی ماہرینِ لسانیات نے ساٹھ ایسے حروفِ تہجی منتخب کر لیے ہیں، جن میں سے بیس لکھنے میں انتہائی آسان ہیں اور جن کی مشق سے چینی زبان کی ساخت کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ 

اس کے بعد بیس حروفِ تہجی ایسے ہیں، جو لکھنے میں قدرے مشکل ہیں اور آخر میں بیس ایسے حروف تہجی کی درجہ بندی کی گئی ہے، جو انتہائی مشکل ہیں، لیکن اگر کوئی شخص بالتّرتیب ان ساٹھ حروفِ تہجی کی بھرپور مشق کر لے، تو وہ دیگر ہزاروں حروف لکھنے میں بھی بہت حد تک کام یابی حاصل کر سکتا ہے۔

کہاں سے اور کیسے سیکھیں؟…سی پیک کے آغاز ہی سے بڑے شہروں میں راتوں رات چینی زبان سِکھانے کے ادارے کُھل گئے اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ان میں زیادہ تر ادارے، صرف پیسے کمانے کی فیکٹریز ہیں۔ اس لیے چینی زبان سیکھنے کے لیے کسی بھی ادارے کا انتخاب کرنے سے پہلے کم از کم اتنی تحقیق تو ضرور کرلیں کہ آیا وہاں پڑھانے والے اساتذہ نے بھی چینی زبان باقاعدہ طور پر کہیں سے سیکھی ہے یا نہیں۔ 

ہماری دانست میں سب سے اچھا مشورہ تو یہ ہی دیا جاسکتا ہے کہ چینی زبان سیکھنے کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں یا حکومتی سرپرستی یا حکومت کے ساتھ منسلک نجی تعلیمی اداروں کا انتخاب ہی آپ کے لیے زیادہ بہتر رہے گا۔ نیز، اس کے علاوہ کچھ ایسے طریقے بھی ہیں، جن کی مدد سے کسی اکیڈمی میں داخلہ لیے بغیر بھی ابتدائی چینی زبان سیکھی جا سکتی ہے۔(1) چینی زبان گھر بیٹھے سیکھنے کا ایک انتہائی اہم ذریعہ، ریڈیو چین کی اُردو سروس بھی ہے۔’’چائنا ریڈیو انٹرنیشنل ‘‘عوامی جمہوریہ چین کا سرکاری ریڈیو اسٹیشن ہے، جس کی نشریات کا آغاز 3 دسمبر1941 ء کو ہوا۔ اس کا مقصد دنیا کو چین کے بارے میں آگاہ کرنا، چینی عوام اور دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔ 

چائنا ریڈیو انٹرنیشنل، تینتالیس زبانوں میں اپنے پروگرام نشر کرتا ہے، جس میں اُردو سرِ فہرست ہے۔ ریڈیو چین کی اُردو سروس، ایک کام یاب اور مقبول ترین سروس ہے، جسے یکم اگست2018 ء کو باون برس ہوجائیں گے۔ یہ نشریات پاکستان کے علاوہ بھارت، بنگلا دیش اور دیگر جنوب ایشائی مُلکوں میں بھی سُنی جاتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریڈیو چین کی نشریات میں بھی کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اب یہ نشریات، مقامی ایف ایم ریڈیو کے تعاون سے پاکستان کے کئی علاقوں میں نشر کی جاتی ہیں، جب کہ اُردو نشریات کے پروگرام انٹرنیٹ اور موبائل ایپ کی ذریعے بھی سُنے جاسکتے ہیں۔ 

اردو سروس سے نشر ہونے والے پروگرامز کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ سامعین کو زیادہ سے زیادہ چینی ثقافت اور اس سے ہم آہنگ پاکستانی ثقافت کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا رہے۔ ایک دِل چسپ بات یہ بھی ہے کہ پروگرام میں پاکستانیوں کے ساتھ، چینی بھی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں، جو نہایت عُمدہ اُردو بولتے ہیں۔ سو، چینی زبان سیکھنے کے خواہش مند، اُردو سروس سے روزانہ کی بنیاد پر نشر ہونے والے پروگرام’’ آئیے ،چینی سیکھیں‘‘ سے با آسانی چینی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ 

نیز، چینی زبان سیکھنے کے خواہش مند افراد کو ریڈیو چین کی جانب سے چینی زبان سکھانے کی کتب بھی بغیر کسی معاوضے کے بھیجی جاتی ہیں۔ پھر یہ بھی کہ گاہے بہ گاہے مختلف انعامی مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں اور کئی ایسے بھی انعامی مقابلے کروائے جاتے ہیں، جن میں کام یابی حاصل کرنے والے سامعین کو ریڈیو چین اردو سروس کی جانب سے چین مدعو کیا جاتا ہے۔ تو پھر دیر کس بات کی ہے، جلدی سے اس لنک http://wi.cr/soThکو اپنے اسمارٹ فون پر ٹائپ کر کے ’’ چائنا ریڈیو انٹرنیشنل ‘‘ کی اُردو سروس روزانہ اپنے موبائل فون پر سُنیں اور اپنے دوست، چین کی زبان، ثقافت اور تاریخ سے بھرپور واقفیت کا آغاز کریں۔(2) ’’حوا شانگ ویکلی‘‘ اسلام آباد سے شایع ہونے والا چینی زبان کا پہلا اخبار ہے، جس کی اشاعت پانچ ہزار بتائی جاتی ہے۔ اخبار کی چیف ایڈیٹر، چینی نژاد رما ہیں، جب کہ عملے میں چینی اور پاکستانی یک ساں طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ چینی زبان میں’’ حوا‘‘ کا مطلب ہے پھول اور’’ شانگ‘‘ کاروبار کو کہتے ہیں۔ 

اس طرح ’’ حوا شانگ ویکلی‘‘ کا لفظی مطلب ہوا،’’ پھول جیسا خُوب صورت کاروبار۔‘‘ یہ اخبار، چینی زبان کے ساتھ انگریزی میں بھی شایع ہوتا ہے۔مزید تفصیلات کے لیے مختصر ویب سائٹ لنک http://wi.cr/uSdP9Gc یا پھر فیس بُک پیچ huashangweekly وزٹ کریں۔(3) اگر آپ بغیر ٹیوشن یا کسی نگران کے بغیر گھر میں لکھنے پڑھنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں، تو پھر آپ کے لیے ایک خوش خبری یہ ہے کہ آپ اپنی مستقل مزاجی، محنت اور شوق کو بروئے کار لائیں تو چینی زبان آن لائن بھی سیکھ سکتے ہیں یا اُس کے بارے میں کم از کم بنیادی معلومات تو حاصل کر ہی سکتے ہیں اور وہ بھی بالکل مفت۔ یہاں ہم آپ کی رہنمائی کے لیے چند مستند ویب سائٹس اور موبائل ایپس پیش کر رہے ہیں، جن کی مدد سے آپ چینی زبان پر ابتدائی دسترس باآسانی حاصل کر سکتے ہیں۔

٭ سب سے پہلے ورچوئل یونی ورسٹی کی چینی زبان سِکھانے کی ویب سائٹ کے بارے میں بتاتے ہیں، جہاں آپ انتہائی قابل اساتذہ کی مدد سے اُردو میں چینی زبان کو مختلف ریکارڈ شدہ ویڈیوز لیکچرز کی مدد سے سیکھ سکتے ہیں ۔ ویب سائٹ کا مختصر لنک http://wi.cr/fcyQS ہے۔

٭چینی زبان بولنے اور لکھنے میں مہارت حاصل کرنے کی ایک اور انتہائی بہترین ویب سائٹ، برطانوی خبر رساں ادارے، بی بی سی کی بھی ہے۔ اس ویب سائٹ پر ایک ایسا دِل چسپ کھیل بھی ہے، جس کی مدد سے آپ باآسانی چینی زبان لکھنے میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لیے ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں، جس کا لنک http://bbc.in/2h8d1tw ہے۔

٭چینی زبان سیکھنے اور اس کے بارے میں تمام بنیادی نوعیت کی معلومات فراہم کرنے والی ایک اور انتہائی مفید ویب سائٹ’’ کلیئر چائنیز‘‘ کے نام سے بھی ہے۔ دنیائے انٹرنیٹ پر چینی زبان سِکھانے کے حوالے سے اس ویب سائٹ کی ساکھ انتہائی مستند خیال کی جاتی ہے۔ اس ویب سائٹ کا مکمل ایڈریس اس طرح ہے http://www.clearchinese.com/

٭ ڈولنگو (Duolingo) مختلف زبانیں سِکھانے کے لیے مفت کورسز فراہم کرنے والی ایک مشہور موبائل ایپ ہے۔ اس نے حال ہی میں چینی زبان سیکھنے کے کورس کو بھی اپنی موبائل ایپ میں شامل کر لیا ہے، جسے چار حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 

اس ایپ میں ملاقات، اسپورٹس، صحت اور کھانے پینے سے متعلق روزمرّہ گفتگو کے الفاظ اور مختصر جملے شامل کیے گئے ہیں، جس کی مدد سے چینی زبان میں روزمرّہ گفتگو کو سیکھا جاسکتا ہے۔ اس مقبولِ عام ایپ کو آپ گوگل پلے اسٹور پر جاکر Duolingo لکھ کر باآسانی تلاش کر کے اپنے اسمارٹ فون میں انسٹال کرسکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں