آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بائیں بازو کے ایک بہت بڑے مفکر نے اپنی ایک تصنیف کے شروع میں ہی کارکنوں سے ایک بنیادی سوال کیا کہ کیا تم مزدوروں کو جا کر یہ بتانا چاہتے ہو کہ ان کی تنخواہیں بہت کم ہیں اور ان کی حالت بہت خراب ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت تو خود مزدوروں کودانشوروں سے زیادہ معلوم ہے کیونکہ وہ اس بری حالت کو بھگت رہے ہیں۔ پھر انہوں نے خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مزدور اور عوام دانشوروں سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کس طرح ریاست اور اس کے ادارے ان پر مسلط نظام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہی بات آج بھی سچ ہے کہ عوام جن بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہیں اس کا ان سے زیادہ کسی کو علم نہیں ہے، لہٰذا صرف عوام کے مسائل کی دہائی دینا کافی نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ضروری ہے کہ موجودہ ریاست کس نظریے اور کس حکمت عملی سے جابرانہ نظام قائم کئے ہوئے ہے۔
اس پہلو سے دیکھیں تو اس وقت کوئی گروپ یا سیاسی پارٹی عوام کو ریاستی نظام کے بارے میں واضح نقطہ نظر دینے سے قاصر ہے۔ موجودہ سیاسی صف بندی میں ایک طرف نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) ہے تو دوسری جانب ہر سیاسی پارٹی اور میڈیا اس کی مخالفت میں کھڑا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی مخالفت میں کھڑا پورا سیاسی ہجوم یہ شور مچا رہا ہے کہ سب مسائل کی جڑیں شریف خاندان کی بدعنوانیوں پر مبنی سیاست میں گڑی ہیں۔ اس کے جواب میں نواز

شریف کا بیانیہ ہے کہ بنیادی مسئلہ سول اداروں کی بالا دستی قائم کرنا ہے۔ اس یدھ میں میاں نواز شریف عوام میں زیادہ مقبولیت حاصل کر رہے ہیں کیونکہ عوام کو علم ہے کہ بدعنوانی کے حمام میں سب ننگے ہیں۔ گویا کہ عوام میڈیا اور دوسرے سیاسی صالحین کے شور و غوغا سے زیادہ توجہ بنیادی سیاسی ڈھانچے کے کنٹرول پر دے رہے ہیں۔
یہ پرانی حکایت ہے کہ نظام اسی کا چلتا ہے جس کے پاس سیاسی طاقت ہوتی ہے۔ اور جس کے پاس سیاسی طاقت ہوتی ہے وہ اسے قائم رکھنے کے لئے نظریہ سازی کرتا ہے۔ چنانچہ اصل حکمرانی ایک مخصوص نظریے کے تحت قائم ہوتی ہے۔ اس پہلو سے پچھلے چند ماہ کے واقعات کو لیں اور دیکھیں کہ اصل طاقت کس کے ہاتھ میں ہے۔ مثلاً پچھلے چند ہفتوں سے پاکستان کے سب سے بڑے چینل جیو کو ملک کے اکثر حصوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس سلسلے میں بے بس نظر آتی ہے۔جس کا مطلب ہے کہ اصل طاقت بظاہر دکھائی دینے والے حکمرانوں کے پاس نہیں کہیں اور ہے۔
انہی دنوں فیض آباد چوک میں کئی ہفتے دھرنا دینے والے خادم حسین رضوی کو اشتہاری ملزم قرار دیا گیا ہے لیکن وہ لاہور میں کھلم کھلا دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ کسی بھی عدالتی حکم کو ماننے سے انکار ی ہیں اور حکومت ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ اگر اس کے پس منظر کو دیکھیں اور واقعات کی ترتیب کو سامنے رکھیں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ریاست کے کچھ طاقتور لوگ ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اس سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جیو کو بند کرنے والے خادم حسین رضوی کے انتہائی قدامت پرست نظریے کو استعمال کر رہے ہیں۔اور اسی نظریے کے استعمال کے لئے فاٹا میں پشتون تحفظ تحریک کے خلاف مظاہرہ کرنے والے گروہ کو راتوں رات اکٹھا کر لیا جاتا ہے یا بلوچستان کی حکومت گرادی جاتی ہے۔اگر ہم اس نظریے کی روح کو دیکھیں تو یہ آشکار ہوتا ہے کہ ایک عوامی جمہوری نظام کو روکنے کے لئے انتہائی قدامت پرست نظریے کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس پس منظر میں دیکھیں تو حقیقی دانشوروں کا یہ فرض ہے کہ وہ جاری شور و غوغا کو نظرانداز کرتے ہوئے ان طاقتوں کا اصلی چہرہ دکھائیں جو پاکستان کے پراگندہ سیاسی نظام کو ایک مخصوص نظریے کے تحت چلا رہی ہیں۔ لیکن ہو یہ رہا ہے کہ میڈیا پر ابھرنے والے نئے دانشور طبقے نے ایک خاندان کی بد عنوانی کے خلاف جہاد کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے۔ ان میں سے بہت سے دانشور اپنے تئیں انتہائی ایمانداری سے ملک کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں بلھے شاہ کا ایک مشہور شعر ہے:
بلھیا واری جائیے اوہناں دے جیہڑے مارن گپ شڑپ
سوئی لبھے تے دس دیندے نیں، بغچے گھاؤں گھپ
(بلھیا، ان پر قربان جو محض گپیں ہانکتے ہیں۔ ان کو اگر سوئی پڑی ہوئی مل جائے تو بتا دیتے ہیں لیکن اگر کوئی بڑا خزانہ مل جائے تو اسے غائب کردیتے ہیں)۔
مطلب یہ ایسے لوگ ہیں جو چھوٹی چھوٹی برائیوں کے بارے میں سب کچھ بتا دیتے ہیں لیکن جو اصل اور بنیادی معاملہ ہے اس کے بارے میں خاموش ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے سارے دانشور دانستہ یا نا دانستہ طور پر مقتدرہ طاقتوں کے حامی ہیں اور اصل میں اسی کے بیانیے کو آگے بڑھانے کا فرض سر انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اس امر سے بھی بے خبر ہیں کہ وہ ایسا کر رہے ہیں: ان کی گھٹی میں ایسے خیالات سما چکے ہیں کہ ان کو سچ سنائی ہی نہیں دیتا۔ شاہ حسین کہتے ہیں :
سچی گل سنیوے کیونکر ، کچی ہڈاں وچ رچی)
( ان کو سچی بات سنائی ہی نہیں دیتی کیونکہ کچی یا خام باتیں ان کی ہڈیوں میں رچ چکی ہیں)۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں