آپ آف لائن ہیں
پیر6؍شعبان المعظم 1439ھ 23؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
تخلیق کار اور باطنی صداقت

فراست رضوی

ایک زمانے میں ہماری تنقید میں داخلیت اور خارجیت کی اصطلاحات بہت عام تھیں۔ داخلیت کا مطلب تھا کہ تخلیق کار اپنی باطنی صداقت کو لکھے، کیونکہ اس کا ذاتی تجربہ ہی سب سے بڑی سچائی ہے۔ تخلیق کار کی ذات کے آئینے میں اس کا عہد از خود منعکس ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا کہ جو ایک فرد کا سچ ہے، وہی ساری انسانیت کا سچ ہے۔ 

x
Advertisement

اس رویے سے سب سے زیادہ مماثل وجودیت کا فلسفہ تھا، جو وجود کو جوہر پر مقدم سمجھتا تھا۔ سو وجودی خیالات نے ہماری ماضی قریب کی جدیدیت کو بڑا سہارا دیا۔ لایعنیت، سریلزم اور اشاریت کی تحریکوں نے نثری نظم، علامتی افسانے، بلکہ اینٹی اسٹوری متعارف کرایا۔ یہ سب اصناف، داخلیت کے ابہام زدہ مظاہر اور عدم ابلاغ کا شاہ کار ثابت ہوئیں۔

دوسری جانب سر سید کے زیرِ اثر حالی کے مقصدی ادب کا نظریہ تھا اور کچھ ہی فاصلے پر سجاد ظہیر کی ترقی پسند تحریک کا فکری اور ادبی محاذ تھا، جہاں پر غیر طبقاتی معاشرے کا خواب تھا، سرمایہ دارانہ نظام کی سفاکیوں کا مداوا، تھا، دولت کی مساوی تقسیم تھی، پرائیویٹ پراپرٹی کے تصور کا خاتمہ تھا، مزدوروں اور کسانوں سے یکجہتی کا اظہار تھا، پر ولتاریہ کا انقلاب تھا اور سرخ سویرے کے قدموں کی چاپ تھی۔ 

اپنی ذات سے ماورا ہوکر حقیقت کے مشاہدے پر اصرار تھا، یعنی ترقی پسندوں کے مسلک میں معاشرہ، ذات پر فوقیت رکھتا تھا۔ سو اُن کی تخلیقی اساس، خارجیت مدار تھی۔ اُن دونوں تخلیقی رویوں کو بیان کرنے کے لیے اُردو تنقید نے نئی نئی Vocabularyتراشی۔ اسے ادب برائے ادب اورا دب برائے زندگی بھی کہا گیا، غمِ جاناں اور غمِ دوراں بھی کہا گیا، انفرادیت اور اجتماعیت بھی کہا گیا، ذات اور کائنات بھی کہا گیا، ظاہر و باطن اور دل و دماغ کی اصطلاحوں میں بھی اُن دونوں رجحانات کے مفہوم کو ادا کیا گیا، اسے شخصی آگہی اور سماجی شعور بھی کہا گیا، اسے فکر اور جذبہ بھی کہا گیا، اسے دلّی اور لکھنؤ کے دبستانوں میں بھی تقسیم کیا گیا۔ غرض، لفظ کچھ بھی رہے ہوں، یہی دو تخلیقی زاویے سدا موضوعِ بحث رہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں نقطہ ہائے نظر کی موافقت اور مخالفت میں دلائل کے انبار موجود ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا تخلیقی عمل میں ایسی دو اور د و چار قسم کی قطعی تقسیم ممکن ہے؟ کیا داخلیت میں جارجیت کا کوئی پہلو نہیں ہوتا اور کیا خارجیت میں داخلیت کا کوئی رنگ نہیں ہوتا؟ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بڑی حقیقتیں ہمیشہ Paradoxکی شکل میں ہوتی ہیں، پھر یہ محاذ آرائی کیوں؟ مسلمانوں کا زوال، ایک خارجی واقعہ تھا، مگر یہ دُکھ اقبال کا ذاتی تجربہ بن گیا۔ ہمارے بڑے بڑے نقاد ، ترقی پسند، ادب پر پروپیگنڈہ لٹریچر ہونے کا الزام لگا کر اسے رد کرتے رہے۔ 

دوسری طرف ترقی پسند نقاد 1857سے پہلے کی ساری شاعری کو جاگیر دارانہ اور بورژوا نظام کی پیداوار کہہ کر مطعون کرتے رہے اور اسے دریا برد کرنے کی باتیں کرتے رہے۔ اُن دونوں انتہا پسندانہ رویوں سے ادب کا نقصان ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، مگر ادب کے قاری کا نقصان ضرور ہوا۔ آج ہمیں ان دونوں تخلیقی نظریوں کے سلسلے میں اپنے تنقیدی افکار کی تشکیل نو کرنا ہوگی، بالکل ایسے ہی، جیسے اقبال نے اپنے خطبات میں اسلام اور مغرب کے درمیان ہم آہنگی کی بنیادیں ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ یہ کام عصرِ نو میں کون کرے گا، مجھے معلوم نہیں۔ 

میں تو فقط ایک چھوٹی سی بات جانتا ہوں کہ آج کے دور میں کوئی بھی ادیب یا شاعر، عالمی سیاسی منظر نامے سے غافل ہوکر بڑا ادب تخلیق نہیں کرسکتا، اگر دنیا سمٹ کر گلوبل ولیج بن گئی ہے تو پھر ایک ادیب کے موضوعات بھی محدود نہیں رہے۔ آج کے ادیب کے سامنے بڑے چیلنج ہیں، جو شاید اس سے پہلے نہیں تھے۔ تاریخ ہمیں بین الاقوامی اور عالمگیر موضوعات کی طرف متوجہ کررہی ہے۔ 

ایسے میں ہمیں اپنے علم میں اضافہ کرنا ہوگا اور اپنی ذات کے خول سے نکل کر عصرِ جدید کا ادراک کرنا ہوگا، اپنے نظریۂ تخلیق میں عہدِ نو کے مطابق ضروری ترمیم کرنا ہوگی، کیونکہ آج دنیا کے ادیبوں کی خوشیاں اور درد مشترک ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ اگر ہم ماضی کے اندھیرے غارسے باہر نہ نکلے تو ادب کے بازار میں تماشا بن کر رہ جائیں گے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں