آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بھارت، معذورافرادکو حج کی سعادت سے محروم کرنے کا فیصلہ

بھارتی حکومت نے معذورافرادکو حج کی سعادت سے محروم کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ مودی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کے سامنے موقف اختیار کیا کہ معذوروں کو حج پر بھیجا تو وہ بھیک مانگنے لگیں گے ۔

بھارتی میڈیاکے مطابق اقلیتی امور کی وزارت نے دہلی ہائی کورٹ کے نگراں چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس سی ہری شنکر پر مشتمل دو رکنی بنچ کو ایک حلف نامہ جمع کرایا جس میں کہا گیاہے کہ حکومت نے معذوروں کو حج پر نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ وہاں جا کر بھیک مانگنا شروع کر سکتے ہیں۔ ایسی مثالیں موجودہیں کہ ایسے لوگ وہاں جا کر بھیک مانگنے لگتے ہیں جبکہ سعودی عرب میںبھیک مانگنا منع ہے۔

غیر معمولی حلف نامے میں حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 2012 میں جدہ میں واقع بھارتی قونصل جنرل نے ’اسکریننگ‘ کا بھی مشورہ دیا تھا۔ یہ فیصلہ ان واقعات کے پیش نظرکیا گیا ہے جن میں کئی افراد بھیک مانگتے پائے گئے۔ بھیک مانگنا سعودی عرب میں ممنوع ہے۔

بھارت، معذورافرادکو حج کی سعادت سے محروم کرنے کا فیصلہ

حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حج اس امر کا متقاضی ہے کہ عازم جسمانی لحاظ سے مکمل صحتمند ہو ورنہ تھکاوٹ یا بھگدڑ مچ جانےکی صورت میں معذور افراد کی زندگی کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

اخبار کے مطابق سعودی عرب نے حج کے سلسلے میں معذور افراد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی بلکہ سعودی حکومت نے ان کے لئے سہولیات میں اضافہ کیا ہے۔

حج کا فریضہ ادا کرنے کےلئے آنے والے معذور عازمین حج کو تمام سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں،ان کے لیے خصوصی وہیل چیئرزہیں۔ضعیف العمر افراد کے لیے الگ اور معذوروں کے لیے الگ وہیل چیئرز ہیں۔بھارت نے معذورافراد کو حج کی سعادت حاصل کرنے کےلئے سہولیات کی فراہمی کی بجائے ان کے حج پرجانے کا سلسلے ہی ختم کرنے کی جانب قدم اٹھایا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ میں 2018-2022 کی حج پالیسی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کے تحت حج کمیٹی نے معذور افراد کے حج پر جانے پر پابندی عائد کی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل گورو کمار بنسل کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی معذور افراد سے وابستہ آر پی ڈبلیو ڈی (رائٹ آف پرسنس وید ڈسیبلٹیز) ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی آئین میں دیئے گئے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار نے پالیسی میں معذور افراد کے لئے استعمال کی گئی زبان پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

بھارت کی اقلیتی امور کی وزارت نے ترمیم شدہ 2018-2022 حج پالیسی میں نہ صرف معذور افراد کے حج پر جانے پر پابندی لگانے والی قابل اعتراض شق کو برقرار رکھا بلکہ قابل اعتراض زبان کو بھی تبدیل نہیں کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں