آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارا معاشرہ بھی جھوٹ سچ کی تمیزسے آزاد ہوچکا ہے، سیاستدانوں کا زیادہ تر گزارہ ہی جھوٹ پر ہے، اسی لئے لوگوں نے سیاست کا دوسرا نام جھوٹ رکھ چھوڑا ہے۔کل ہی ایک بزرگ غصے میں تھے۔ پتا چلا لوڈشیڈنگ نے انہیں غصہ چڑھا رکھا ہے۔ میں نے ذرا چھیڑا تو مسکرانےلگے اور سیاستدانوں کے چند ماہ قبل دیئے گئے بیانات یاد کرکے ہنسنے لگے۔ کہنے لگے یہ ہمارے لیڈران کرام بیان پر بیان اور اشتہار پہ اشتہار دے رہے تھے کہ ہم نے اندھیروں کو مار بھگایا ہے، ہم نے لوڈشیڈنگ ختم کردی ہے، ہم ملک کو اندھیروں سے نکال کر اجالوں میں لے آئے ہیں۔ اب بتایئے کہ ان میں ’’صادق‘‘ کون ہے۔ گرمی ابھی شروع نہیں ہوئی اور کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ یہی نہیں انہو ںنے کون سا وعدہ پورا کیا ہے؟ مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمے کا وعدہ، جہالت کے خاتمے اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کا وعدہ.... سب جھوٹ!!
وبا پھیلتی ہے تو وہ سارے طبقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کوئی فرشتے نہیں رہتے کیونکہ فرشتے تو صرف آسمانوں میں رہتے ہیں لیکن آپ ان کے اخبارات پڑھیں تو اندازہ ہوگا کہ کالم نگاری محض ہوائی فقروں، مزاحیہ واقعات، من پسند تجزیوں اور سچ سے محروم واردات یا ’’ایکسرسائز‘‘ نہیں ہوتی بلکہ اکثر کالم نگار تحقیق کرکے سچ کی تلاش کرتے

ہیں اورسنی سنائی باتوں پرکالموں کی عمارت تعمیر نہیں کرتے۔ اصول یہ ہے کہ سچ کا تحقیق سے گہرا تعلق ہے اور تحقیق لکھاری کے مزاج کا حصہ ہوتی ہے۔ خاص طور پر جب آپ کسی تاریخی شخصیت کے حوالے سے لکھیں تو ’’بیان‘‘دینے سے قبل تحقیق ناگزیر ہے اور حوالہ مستحب ہے۔ ہمارے ہاں بلاتحقیق تاریخ کے نام پر ہوائیاں چھوڑی جاتی ہیں۔ میں ان نوجوان دانشوروں کی بات نہیں کررہا جو کالم کا پیٹ بھرنے کے لئے دوسروں پر تنقید، تنقیص اور ٹانگ کھنچائی سے کام لیتے ہیں۔ میری تشویش ان لکھاریوں کے رویے سے جنم لیتی ہے جوسنجیدہ، ذمہ دار اور پڑھے لکھے ہیں اور اکثر اوقات واقعات کو گڈ مڈ کردیتے ہیں یا سنی سنائی پر بلاتحقیق بھروسہ کرکے غیرمصدقہ دعوے کر جاتے ہیں جن سے قارئین گمراہ ہوتے اور غلط فہمیوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔
موضوع وسیع ہے لیکن میں چند وضاحتیں قائداعظم محمد علی جناح کے حوالے سے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ عقیدت اور بے پناہ عقیدت کے باوجود ہمارے لکھاری اکثر اوقات قائداعظم سے انصاف نہیں کرتے، نہ عقیدت کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔ ان کے ضمن میں بلاتحقیق مشکوک باتیں لکھ دی جاتی ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک سینئر کالم نگار نے لکھا کہ ’’قائداعظم نے برطانوی وزیراعظم ولنگڈن سے قدرے سختی سے کہا کہ میں قابل فروخت نہیں ہوں۔‘‘ اصل واقعہ یوں ہے کہ جب 1935کے ایکٹ کے تحت ہندوستان کو فیڈریشن کی آفر کی گئی تو قائداعظم اس کی مخالفت کرنے والوں کی صف ِ اول میں تھے کیونکہ ان لوگوںکا مطالبہ آزادی تھا۔ برطانوی وزیراعظم لارڈ رمزے میکڈانلڈ نے محمد علی جناح کو علیحدگی میں ملاقات کی دعوت دی۔ یہ وہ دور تھا جب برطانوی حکومت کاعہدہ لوگوں کاخواب ہوتا تھا اور حد درجہ وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس ملاقات کا مقصد جناح پر ڈورے ڈالنا تھا چنانچہ برطانوی وزیراعظم نے بڑے پیارسے یہ فقرہ ڈراپ کیا ’’اگر سنہا ایک صوبے کاگورنربن سکتا ہے تو کوئی دوسرا بھی بن سکتا ہے۔ اگر سنہا کو لارڈ کا خطاب مل سکتا ہے تو کسی دوسرے ہندوستانی کوبھی مل سکتا ہے۔‘‘ پیغام یہ تھاکہ تم فیڈریشن کی مخالفت ترک کردو تو تم کو بھی بڑا عہدہ مل سکتا ہے۔ قائداعظم غصےسے ایک لفظ کہے بغیر اٹھ کھڑے ہوئے۔ برطانو ی وزیر اعظم اس خلاف ِ توقع رویے سے نہایت پریشان اورشرمندہ ہوا اور قائداعظم محمد علی جناح کو خدا حافظ کہنے کیلئے دفترکے دروازے کی جانب بڑھا۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے گڈبائی کہنے کے لئے ہاتھ بڑھایا توقائداعظم نے ہاتھ ملانے سے انکارکردیا۔ جب برطانوی ویراعظم نے اس سرد مہری کی وجہ پوچھی تو ان کا جواب تھا ’’میں آئندہ آپ سے نہیں ملوںگا۔ میں بکائو مال (Purchasable commodity) نہیں ہوں۔‘‘
یاد آیا کہ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے گورنر جنرل تھے۔ ایک روز برطانوی سفیر ملنے آیا اور درخواست کی کہ انگلستان کےبادشاہ کا بھائی کراچی آ رہا ہے، آپ براہ کرم اسے ہوائی اڈے پر ریسیو کرلیں۔ قائداعظم کا جواب تُرت تھا ’’اگر میرا بھائی انگلستان جائے تو کیا بادشاہ اس کا استقبال کرے گا؟‘‘
یہ ہے وہ ناقابل فروخت، اعلیٰ کردار کا نمونہ، اصولوں کی علامت اور صادق و امین شخص جس کے بارے میں میرے دیرینہ دوست عرفان حسین نے ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے کالم (7اپریل) میں لکھا ہے کہ جناح نے قیام پاکستان کے عوض برطانوی حکمرانوں کو پاکستان میں (Bases) یعنی فوجی اڈے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ کالم نگار نے نہ کوئی حوالہ دیا ہے اور نہ سند۔ ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے میرے محدود علم کے مطابق یہ جھوٹ ہے۔ اس طرح کا بیانیہ قائداعظم کی شخصیت سے نہ لگا کھاتا ہے نہ ہی ممکن لگتا ہے۔ ہوائی اڈہ تو دور کی بات، وہ بادشاہ کے بھائی کا استقبال کرنے سے انکاری تھے اور انہوں نے آخری وائسرائے مائونٹ بیٹن کو بھی 13اگست کو کراچی آمد پر ہوائی اڈے پر ریسیو نہیں کیا تھا۔ گورنر سندھ اس کے استقبال کے لئے موجودتھے۔ وعدہ کیا تھا تو پھر پاکستان میں برطانوی استعمار کو کوئی رعایت، کوئی اڈہ یا کوئی اہمیت دی ہوتی۔ اس میں شبہ نہیں کہ علامہ اقبال اور قائداعظم روسی الحاد کی یلغار کی راہ میں جغرافیائی حوالے سے پاکستان کو ایک رکاوٹ سمجھتے تھے۔ علامہ اقبال کا الہٖ آباد (1930) کا خطبہ اور قائداعظم کے ایک دو انٹرویوز اس خیال کا اظہار کرتے ہیں لیکن برطانیہ کو آزادی کے عوض ہوائی اڈہ دینے کی آفر وہ سودے بازی ہے جو قائداعظم کے مزاج کے منافی ہے۔ وہ اپنی قومی خودمختاری اور اقتدار ِ اعلیٰ پر سمجھوتہ کرنے والا مزاج نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے یا تو اس بیان کا ثبوت دیں یا پھر اسے واپس لیں تاکہ آئندہ درفنطنیوں کا دروازہ بند ہو۔
محترم ضمیر نیازی نے اپنی کتاب میں ایک چوتھائی سچ بیان کیا تھا جسے بلاتحقیق بار بار بیان کرکے سچ بنا دیا گیا ہے۔ تواتر سے کہا جارہا ہے کہ قائداعظم کی گیارہ اگست 1947کی تقریر سنسر کی گئی تھی۔ دوستو! صرف اتنا سوچو کہ اس وقت قائداعظم عملی طور پر پاکستان کے سربراہ تھے، وہ بابائے قوم اور بانی ٔ پاکستان تھے۔ ان کی شخصیت کی سچائی کے سامنےکسی کو دَم مارے کی جرأت نہ تھی۔ کیا ان حالات میں کوئی ان کی تقریر سنسر کرنے کی جسارت کرسکتا تھا؟ توپ سے مکھی مارنے والے شاید قائداعظم کے وقار اورکردارکے دبدبے سے آگاہ نہیں۔ اگر ان کا د عویٰ مان لیا جائے تو مجھے صرف اتنا بتائیں کہ پھر دستورساز اسمبلی (DEBATES) میںگیارہ اگست کی کارروائی میں قائداعظم کی تقریر من و عن کیسے شائع ہوئی؟ اگر آپ قائداعظم کی تقاریر کے مجموعے دیکھیں تو ان میں یہ مکمل تقریرمختلف اخبارات سے لے کر شامل کی گئی ہے۔ اگراس وقت بارہ اورتیرہ اگست 1947کے اخبارات میں مکمل تقریر چھپی تھی تو پھر سنسر کے دعوے کا کیا مطلب؟ میں نے اس بیانیے کی تحقیق کی تو پتاچلا کہ چند ایک مسلم لیگی زعما کو اس تقریر کے حوالے سے کچھ خدشات اور تحفظات تھے۔ جب ایک انگریزی اخبار کے مدیر کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں اسے قائداعظم کے نوٹس میں لاتا ہوں۔ پھر اس کے بعد اس خواہش کے چراغوں میں روشنی نہ رہی، وہ حضرات جھاگ کی مانند بیٹھ گئے۔ کس کی مجال تھی کہ قائداعظم کی تقریر کو سنسر کرتا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں