آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں ۔ ملک کا وہ سیاسی نقشہ نہیں رہا ، جو 2013 ء کے انتخابات کے وقت تھا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو عدالت عظمی نے کسی بھی سرکاری اور عوامی عہدے کے لئے تاحیات نااہل قرار دے دیا ہے ۔ وہ نہ صرف آئندہ عام انتخابات 2018 ء میں حصہ نہیں لے سکیں گے بلکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) پر بھی ان کی گرفت پہلے کی طرح نہیں ہو گی ۔ اس جماعت کی ٹوٹ پھوٹ کے امکانات نمایاں ہو گئے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کا تین عشروں سے زیادہ جو کردار رہا ، اسے برقرار رکھنا اس کے لئے مشکل ہو گا ۔ اسی طرح سندھ کے شہری علاقوں میں تین عشروں سے زیادہ سیاسی اجارہ داری کی حامل اور ملکی سیاست میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے والی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے بھی حصے بخرے ہو گئے ہیں اور وہ کئی دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔ 2018 ء کے عام انتخابات کا انعقاد ان دو بڑی تبدیلیوں کے ساتھ ہو گا ۔ ان کے علاوہ ملک کی سیاسی حرکیات (Dynamic ) بھی بہت حد تک تبدیل ہو چکی ہیں ۔
سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اگرچہ سیاست سے دستبردار نہیں ہوئے لیکن ان کی نااہلی سے ایک سیاسی خلا پیدا ہو سکتا ہے ، جسے ان کے بھائی میاں شہباز شریف اور ان

کی سیاسی جماعت اپنے اندر تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ پر کر سکتی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی بھی اس خلا کو پر کرنے کے لئے بھرپور کوشش کریں گے ۔ اس سے پنجاب میں کوئی بڑا سیاسی ہیجان پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے ۔ ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ سے جو سیاسی خلاپیدا ہواہے ۔ وہ فوری طور پر اس لئے پر نہیں ہو سکتا ہے کہ سندھ کے شہری علاقے خصوصاً کراچی تین عشروں سے زیادہ ایسی سیاست کرتے رہے ، جس نے ہنگامہ خیزی اور شدت پسندی کے رحجانات کو جنم دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کی ٹوٹ پھوٹ سے ایک سیاسی ہیجان پایا جاتا ہے ۔ اگر ان رحجانات کو ایک مضبوط سیاسی تنظیم کے ذریعہ کوئی مثبت رخ نہ دیا گیا تو کراچی ایسے سیاسی انتشار کی طرف گامزن ہو سکتا ہے ، جو پہلے کی منظم بدامنی سے بھی زیادہ خطرناک ہو گا ۔
اس پس منظر میں اگر کراچی کے حالات کا ادراک کیا جائے تو پھر یہ ضروری محسوس ہو گا کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل کراچی کی سیاست کا ایسا رخ متعین کیا جائے کہ ہنگامہ خیزی اور شدت پسندی والے رحجانات وقت کے ساتھ ساتھ تحلیل ہو سکیں اور کوئی ان رحجانات کو اپنے منفی مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکے ۔ میرے خیال میں اس حوالے سے ایم کیو ایم میں شامل لوگ خود بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ان کا سیاسی مستقبل کیا ہو گا اور وہ ماضی کی ڈگر سے ہٹ کر کس طرح اپنی عوامی حمایت کو برقرار رکھ سکتے ہیں ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے دو دھڑوں یعنی ایم کیو ایم ( پی آئی بی گروپ ) اور ایم کیو ایم ( بہادر آباد) کے منتخب ارکان ، عہدیداران اور دیگر قابل ذکر لوگ پاک سرزمین پارٹی ( پی ایس پی ) میں شمولیت اختیارکررہے ہیں ۔ پی ایس پی کو ایم کیوایم کے منحرف رہنماؤں نے ایک نئی سیاسی جماعت کے طور پر قائم کیا ہے ۔ اس کے سربرا ہ سابق میئر کراچی مصطفی کمال ہیں ، جن کی کراچی کی ترقی کے لئے خدمات اور قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے ۔
ایم کیو ایم کے دیگر دھڑوں کے رہنما بڑی تعداد میں اگر پی ایس پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں تو یہ ان کی اجتماعی دانش ہے ۔ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کے لوگ یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ’’ غیر مرئی قوتوں ‘‘ کے اشارے پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔ سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا غیر مرئی قوتوں نے پہلی مرتبہ ایم کیو ایم کے لوگوں پر اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب خود ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کے لوگ منفی میں دیںگے ۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کےلوگ بڑی تعداد میں ایم کیو ایم والی نام کی پارٹیوں کو چھوڑ کر اس سیاسی جماعت میں کیوں جا رہے ہیں ،جس کے نام میں ایم کیو ایم شامل نہیں ہے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ ایم کیوا یم کے اکثر لوگوں کی دانست میں پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت ایک بہتر فیصلہ ہے اور وہ اس کی وضاحت خود کر سکتے ہیں ۔
پاک سرزمین پارٹی کا نعرہ ہے کہ ایم کیو ایم کا نام اور اس کا طرز سیاست اب سندھ کے شہری علاقوں میں نہیں چلے گا لیکن چار عشروں سے ایم کیو ایم کی سیاست کرنے والوں کو ایک دم ایم کیو ایم کے نام اور طرز سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ کام مرحلہ وار ممکن ہے ۔ میرا خیال یہ ہے کہ پاک سرزمین پارٹی اس حوالے سے پہلا مرحلہ ہے کیونکہ اس کے رہنما بھی پہلے ایم کیو ایم میں تھے ، جو اس کی سیاست سے منحرف ہوئے لیکن وہ ایم کیو ایم کے لوگوں کے لئے اجنبی نہیں ہیں ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے لوگوں کی نفسیات اور انداز فکر سے بھی واقف ہیں ۔ دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت کے لئے اس مرحلے پر ایم کیو ایم کے لوگوں کو سنبھالنا اور انہیں ’’ مین اسٹریم ‘‘ ( قومی دھارے ) میں لانا آسان نہیں ہو گا اور نہ ہی ایم کیو ایم کے لوگ دیگر سیاسی جماعتوں میں فوری طور پر خود کو آرام دہ محسوس کر سکیں گے ۔ کراچی میں رائج گزشتہ چار عشروں کی سیاست اور انداز فکر کا تبدیل ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ اس کی وجہ سے کراچی نہ صرف بنیادی دھارے سے الگ ہو گیا تھا بلکہ کراچی کو پورے ملک پر جو سیاسی فوقیت حاصل تھی ، وہ بھی ختم ہو گئی تھی ۔ قبل ازیں کراچی ملک کی تمام سیاسی ، محنت کشوں اور طلباکی تحریکوں کا مرکز تھا اور کراچی پاکستان کی سیاسی قیادت کرتا تھا ۔ پاک سرزمین پارٹی کراچی کی سیاست کو بنیادی دھارے میں لانے کے لئے اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ آئندہ عام انتخابات سے قبل اس سیاسی جماعت کی پوزیشن مضبوط ہوتی نظر آ رہی ہے
کیونکہ ایم کیو ایم کے بلدیاتی نمائندوں سے لے کر صوبائی اور قومی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان کے ساتھ ساتھ اہم عہدیدار اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن بھی پی ایس پی میں شمولیت کے لئے رجوع کر رہے ہیں ۔ نہ صرف آئندہ عام انتخابات بلکہ کراچی کے مستقبل کی سیاست کے حوالے سے پاک سرزمین پارٹی کی قیادت کے تدبر کا امتحان ہے ۔ کراچی کی سیاست کا ایک رخ متعین ہو سکتا ہے بشرطیکہ پی ایس پی کی قیادت بہتر سیاسی فیصلے کرے ۔ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی طویل عرصے بعد کراچی میں کھل کر سیاست کرنے کا موقع ملا ہے اور یہ موقع خود ایم کیو ایم کے دھڑوں کے لئے بھی ہے ۔ سب کویہ خیال کرنا ہے کہ سیاسی خلاسے پیدا ہونے والا سیاسی ہیجان کوئی منفی رخ اختیار نہ کرے ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں