• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پی پی پی نے میاں نواز شریف سے قطعی دور رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ میاں صاحب سے جب بھی ہاتھ ملایا انہوں نے دغا دیا اور اسٹیبلشمنٹ سے مل کر پیپلز پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ۔ یہی سب باتیں نئے چیئر مین بلاول بھٹو کہتے ہیں۔ ہم پی ٹی آئی کو سندھ اور کراچی میں عبرتناک شکست دیں گے جبکہ پی ٹی آئی نے حال ہی میں سینیٹ کے چیئرمین کیلئے پی پی پی کے لائے ہوئے بندے کو سپورٹ کیا اور مسلم لیگ (ن) کےجیتےہوئے اُمید وار راجہ ظفر الحق ، سینیٹ کے چیئر مین کے الیکشن میں ہار گئے ۔ انجانے ہاتھ کام دکھا گئے ۔ نواز شریف اپنی مسلسل پسپائیاں اپنی گود میں سمیٹنے کے باوجود ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ پہلے وزارت عظمیٰ ہاتھ سے گئی تو پورا پاکستان سر پر اُٹھا ڈالا اور ہر شہر میں جا جا کر جلسے کر کے پوچھتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا؟۔ پھر ان ہی ہاتھوں نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت بھی چھین لی پھر بھی ان کے مشیر یہ کہتے رہے کہ کوئی گل نہیں تسی شیر ہو۔ اب کانوں میں آوازیں آرہی ہیں کہ اڈیالہ جیل میں چند کمروں کی مرمت کی جارہی ہے ۔ کسی خاص مہمان کی آمد آمد ہے ، جو مریم نواز اور مریم اورنگزیب کو پسند نہیں ہے ۔ اوپر سے نیب کا فیصلہ ہونے والا ہے ۔ اگر وہ بھی خلاف آیا تو غالباً گنیز بک کا ریکارڈ بن جائے گا کہ ایک غریب ترین ملک پاکستان جو 100ارب ڈالر کا مقروض ہے اس کا وزیر اعظم 4مرتبہ نکالا گیا پھر معزول ہوا ، جلا وطن بھی ہوا اور آخر میں اپنی ہی پارٹی کی صدارت سے نکالا گیا۔ پھر جیل بھی جانا پڑا تومیں اس کو کیا لکھوں ۔ اب یار لوگ میاں صاحب کو تسلی دے رہے ہیں کہ صدر پاکستان ان کو بچا سکتے ہیں۔ سزا معاف کرنے کا اختیار ان کے پاس تو ہے نا؟
اب کئیر ٹیکر گورنمنٹ کی آوازیں اور مشاورت بھی شروع ہو چکی ہے۔ گویا آخری پاور گیم شروع ہو چکا ہے ۔ کہتے ہیں کہ 90دن کے لئے نئی حکومت تشکیل دی جائے گی۔ ماضی کی طرح یا پھر بلوچستان اسمبلی کی طرح ہو گی۔ اگر بلوچستان اسمبلی کی طرح ہوئی تو یہ غائب ہاتھوں کی ہیٹ ٹرک ہو گی جو مسلم لیگ (ن) کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔ویسے لگتا نہیں ہے 90دن میں ہوں گے۔کیونکہ ابھی 10بارہ ایم این اے اور ایم پی اے تو مسلم لیگ (ن) چھوڑ چکے ہیں۔تو بقول میاں نواز شریف یہ لوگ تو مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہی نہ تھے۔ تو (ن) سے (ق) بننے والے سیاستدان کیا پھر سے (ن) کو خیر باد نہیں کر سکتے ۔ بقول مریم اورنگزیب یہ تو لوٹے تھے ، لوٹ گئے ۔ مگر ابھی تو صرف 10بارہ گئے ہیں ، اگر (ق) لیگ کی پوری تعداد اکٹھی دوبارہ گئی تو مسلم لیگ (ن) کو اُمید وار بھی ملنا مشکل ہو جائے گا۔ گزشتہ 2سال سے بد قسمتی مسلم لیگ (ن) اور بالخصوص میاں نواز شریف کا مقدر بنتی جارہی ہے ۔ بقول شاعر ! ـــ"مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی" ۔
عوام کی آنکھوں میں مسلم لیگ (ن) کے وزراء ، مشیر دھول جھونکنے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ عدلیہ اور فوج دونوں سے بیک وقت 2دو ہاتھ ہو رہے ہیں۔ 2قدم میاں صاحب آگے بڑھتے ہیں تو چھوٹے میاں صاحب پیچھے جا کر کہتے ہیں کہ بڑے میاں صاحب کو کچھ نہ کہو ، میں ہوں ناں۔ اب مسلم لیگ (ن) مسلم لیگ (ش) بن چکی ہے ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ شہباز شریف عقلمندی کا مظاہرہ کر کے کہتے ہیں کہ جانے والوں کو کچھ نہ کہو ، تو دوسرے دن کے اخبارات مریم نواز اور مریم اورنگزیب کے طعنوں اور فقروں سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ آخر میڈیا کو بھی تو کچھ چاہئے ۔ اپنے قارئین کو پڑھنے اور سننے کے لئے ۔ ہر طرف بجلی کی لوڈ شیڈنگ عروج پر جارہی ہے ، جوں جوں گرمیاں آرہی ہیں حکومت کے وہ سارے وعدے وعید کہ ہم لوڈ شیڈنگ ختم کر دیںگے ۔ خصوصاً سندھ اور کراچی میںجان بوجھ کر عوام کو ستا یاجارہا ہے ۔ کے الیکٹرک اپنے مکروہ عزائم ہر سال گرمی میں دکھاتی ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ مرکز کی طرف سے یہ ہو رہا ہے ۔ عوام کو آدھے دن کی بجلی دے کر ڈیڑھ دن کے برابر بل بھیج دیا جاتا ہے ، تاکہ کمپنی کو نقصان نہ ہو۔ یہ کیسا تماشہ ہے کہ جب کراچی الیکٹرک سپلائی کو بیچ دیا پھر سبسڈی کس کی جیب میں جارہی ہے ۔ قوم کوتو فائدہ نہ ہوا بجلی کا بحران اسی طرح برقرار ہے ۔ اربوں روپے کے اصلی پیتل کے تار اُتار کر بیچ دیئے گئے ۔ ٹیکس پر ٹیکس لگا کر ہزاروں کا بل لاکھوں کا ہوگیا۔ جنریٹر پر علیحدہ ڈیزل خرچ کر کے صارفین دہری مشکلات جھیل رہے ہیں ۔ سیاستدان سیاست ، سیاست آپس میں کھیل رہے ہیں۔ اکیلے چیف جسٹس صاحب اوپر سے لے کر نیچے تک کے معاملات نمٹا نے میںمصرو ف ہیں۔ یار لوگ تو اب کہنے لگے ہیں کہ جوڈیشل مارشل لا لگا کر پہلے سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو درست کردیں ، پھر نئے الیکشن کروائیں۔ ورنہ یہ کرپٹ سیاستدان گھوم گھما کر پھر مل کر اقتدار کے مزے لوٹیں گے اور بدقسمت عوام اپنی قسمت کو کوسیں گے ، جو 70سال سے ہو رہا ہے ۔ اگلے 5سال بھی یہی ہوگا۔ بجلی کی ایک رپورٹ میری نظر سے گزری ، ماضی میںمیاں صاحب نے کسی جرمن انجینئر کو بلا کر پاکستان میں بجلی کا نظام درست کرنے کا ٹاسک دیا ۔ 2ماہ بعد اس نے رپورٹ دی کہ 30فیصد بجلی سرکاری اداروں میں چوری کی جاتی ہے۔ 30فیصد نجی اداروں میں چوری ہوتی ہے ۔ 10فیصد غریب عوام کنڈے ڈال کر چوری کرتے ہیں۔ صرف 30فیصد لوگ بجلی کا بل باقاعدہ ادا کرتے ہیں۔ چوری کرنے والے نجی اور سرکاری اداروں کی اکثریت صوبہ پنجاب میں ہے ۔ جن پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا ۔ اوپر سے حکم آیا کہ پہلے کنڈے ڈالنے والے غریبوں پر ہاتھ ڈالو۔ اس نے سر پیٹ لیا ، دوسرے ہی دن اس نے اپنا بستر لپیٹا اور اگلی فلائٹ سے جرمنی چلا گیا۔ جاتے جاتے وہ کہہ گیا کہ جس ملک میں غریبوں پر تو قانون لاگو ہوتا ہے مگر امیروں اور سرکاری اداروں کو کھلی چھوٹ ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا اور حقیقت بھی یہی ہے ۔ گزشتہ 5سال سے کرپشن کیسز میں ثبوت ہونے کے باوجود کسی کو ابھی تک سز ا نہیں ہوئی ۔ ایک دن جیل جاتے ہیں تو کچھ دن بعد چھوٹ جاتے ہیں۔ ماضی کے وزراء اور وزرا اعلیٰ کھربوں کی رقم ہضم کر گئے ۔ آرام سے نئے سیٹ اپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں سابق صدر آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم مسلم لیگ (ن) کو اس الیکشن میں ختم کر دیں گے ، جیسا بلوچستان میں ہم نے کیا تھا۔ بظاہر لگتا نہیں ہے کیو نکہ پی پی پی نے ماضی میں بہت مایوس کیا تھا۔ اسی وجہ سے پی پی پی سمٹ کر صرف سندھ میں نظر آتی ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین