آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ11؍ربیع الثانی 1440ھ 19؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ، اقدام قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج

لاہور ( نمائندہ جنگ، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاناماکیس کے نگران جج سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ 112 ایچ ٹو ماڈل ٹائون لا ہور پر 2بار پراسرار طور پر فائرنگ پر چیف جسٹس آف پاکستان نے نوٹس لے لیا ۔ انہوں نے آئی جی پنجاب کو طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ فائرنگ کے محرکا ت کا جائزہ لیا جائے، حکومت پنجاب نے اسے بہت شرمناک واقعہ قرار دیا ہے۔وزیر اعلی ٰ پنجاب شہباز شریف نے ملزمان کی گرفتار ی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ رات گئے تک اس بات کا تعین نہیں ہو سکا کہ فائرنگ کس نے کی اور اسکی سمت کیا تھی کیونکہ فائرنگ سے گھر یا کسی اور چیز کو نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کردی گئی ہے۔ پنجاب حکومت کے ترجمان کے مطابق ایڈیشنل آئی جی پنجاب محمد طاہر جے آئی ٹی کے سربراہ ہونگے جس میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سلطان چوہدری کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے نمائندے بھی شامل ہونگے۔ پہلی بار ہفتہ اور اتوار کی

درمیانی شب رات10 بجکر45 منٹ پر ایک گولی کا سکہ رہائش گاہ پر تعینات رینجرز اہلکار کو ملا، جس نے متعلقہ ذمہ داران کو آگاہ کیا۔دوسری بار ایک سکہ صبح10 بجکر 45 منٹ پر مسٹر جسٹس کے اسٹاف آفیسر کو نظر آیا جس پر مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن کو آگاہ کیا گیا کہ تقریباً 9 گھنٹوں میں2 گولیوں کے سکے گھر کے پاس سے ملے ہیں جس پر مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن نے اس واقعہ سے چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ثاقب نثار کو آگاہ کیا جو فوری طور پر انکی رہائش گاہ آئے جس پر انہوں نے نوٹس لیا تو سیکرٹری داخلہ، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور، ڈائریکٹر جنرل فرانزک سائنس ایجنسی سمیت دیگر خفیہ اداروں کے ذمہ داران موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے تمام واقعہ کی تحقیقات شروع کر دیں۔ بتایا گیا ہے کہ بظاہر دونوں گولیاں نائن ایم ایم پستول سے فائرکی گئیں ۔ فارنزک ٹیموں نے دو مرتبہ جائے و قوعہ کا دورہ کیا اور گولیو ں کےسکے، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد اکھٹے کرلئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جناب مسٹر جسٹس کا گھر حساس جگہ پر ہے وہاں اس طرح کا واقعہ ہونا تشویشناک ہے۔ واقعہ کی اطلاع کے بعد مسٹر جسٹس منظور اے ملک، مسٹر جسٹس عطاء بندیال اور دیگر جج صاحبان وہاں پہنچ گئے اور اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ جس نے بھی فائرنگ کی اس نے اسلحہ پر سیلنسر لگایا ہوگا اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایک ہی وقت میں یہ فائرنگ کی گئی ہو اور ایک سے زائد فائر داغے گئے ہوں تاہم ان میں سے دو سکے گھر کے پاس آکر گرے۔پاناما کیس کے نگران جج کے گھر پر نائن ایم ایم پستول سے فائرنگ ہوئی،خول فرانزک ٹیسٹ کیلئے لیب بھجوا دئیے گئے، فاضل جج کی رہائشگاہ پر رینجرز اور اسپیشل برانچ کے اہلکار تعینات کر دیئے گئے ۔واقعے کا ماڈل ٹائون پولیس اسٹیشن میں کانسٹیبل آصف کی مدعیت میں نامعلوم افراد کیخلاف فائرنگ کا مقدمہ کر لیا گیا ہے جس میں اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعہ شامل ہے ۔ترجمان پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کی سکیورٹی ہمارے لئے انتہائی اہم ہے، صوبائی حکومت تمام اقدامات اٹھا رہی ہے۔ واقعے پر آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جسٹس اعجاز الا حسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ قابل مذمت ہے، ریاستی اداروں کے مؤثر کردار کیلئے تمام فریقین محفوظ فضا یقینی بنائیں۔ مزید کہا گیا کہ امن و استحکام کی بہتری کیلئے کوششیں جاری رکھی جائیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین وقانون کی بالادستی کیلئے عدلیہ کیساتھ ہیں، ملزموں کوکٹہرے میں لایا جائے۔ وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نےبھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے شرپسند عناصر کو جلد از جلد بے نقاب ہونا چاہیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز و دیگر نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر نامعلوم افراد کی جانب سے 2 بار فائرنگ کی گئی، فائرنگ کے واقعات ہفتے کی رات پونے گیارہ اور اتوار کی صبح پونے دس بجےپیش آئے۔ پولیس کی جانب سے تاحال کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ابتدائی تحقیقا ت کے مطابق رات کو فائر کی گئی ایک گولی مرکزی دروازے اور صبح فائر کی گئی دوسری گولی کچن کی کھڑکی پر لگی ہے، فائرنگ نائن ایم ایم پستول سے کی گئی ہے۔ پولیس سی سی ٹی وی کیمروں سے جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہی ہے۔ سپریم کورٹ کےاعلامیے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار جسٹس اعجازالاحسن کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کو بھی جسٹس اعجازالاحسن کے گھر طلب کر لیا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اطلاع ملنے پر رینجرز، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار بھی تحقیقات کے لئے جائے وقوعہ پہنچ گئے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائشگاہ پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ ماڈل ٹائون پولیس اسٹیشن میں کانسٹیبل آصف کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف فائرنگ کا مقدمہ ( ایف آئی آر نمبر 113/18ہے)درج کر لیا گیاجس میں دہشت گردی کی دفعہ 324,427,7کی دفعات شامل ہیں۔دفعہ 427املاک کو نقصان پہنچانا اور 324اقدام قتل کی دفعہ ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی ہےکہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر فوری کارروائی کی جائے۔ادھر پنجاب حکومت کے ترجمان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی شرمناک واقعہ ہے، پنجاب حکومت ملزمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے کوشاں ہیں اور واقعے کی تمام تر معلومات جمع کی جارہی ہیں۔ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ کے جج ہیں، اور انہیں سیکورٹی فراہم کرنا ہر لحاظ سے اہم ہے اور صوبائی حکومت تمام اقدامات اٹھا رہی ہے۔ فائرنگ کے واقعہ کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے پی ایس او بھی جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر پہنچے لیکن سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے ان کی کسی سے ملاقات کرانے سے معذرت کی۔ واضح رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن سمیت سپریم کورٹ کے کئی ججز اس وقت لاہور میں ہیں جو لاہور رجسٹری میں اہم نوعیت کے بعض مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پر فائرنگ کی مذمت کی اور اپنے بیان میں ہدایت کی کہ ذمے داروں کو جلد سے جلد کٹہرے میں لایا جائے۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الحسن کے گھر پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلی ٰعدلیہ کے جج کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے، اعلی عدلیہ کے ججز کے گھروں پر حملہ ملکی سلامتی پر حملے کے مترادف ہے۔حکومت کو واقعہ کی جلدی انکوائری کر کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ پنجاب پولیس نے جسٹس اعجاز الا حسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپور ٹ جاری کر دی جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ایس پی آپر یشنز ماڈل ٹاؤن کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق وی آئی پی وینیو پر پاکستان رینجرز کے شفٹ انچارج نائیک عبدالرزاق نے بتایا کہ 14 اپریل کو رات تقریباً 10 بج کر 45 منٹ پر ایک اندھی گولی ماڈل ٹاؤن بلاک ایچ میں واقع گھر کے گیٹ کے بالائی حصے میں لگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں