آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جسٹس اعجاز کے گھر پر حملہ، ہم سب کا معاملہ ہے، سینئر تجزیہ کار

کراچی(جنگ نیوز)جیو نیوز پروگرام”نیا پاکستان“ میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ جسٹس اعجاز واقعہ تشویش ناک ہے لیکن اس واقعے میں میڈیا کی کوریج میں مبالغے سے کام لیا گیا ہے، جس طرح یہ واقعہ ہوا ہے ویسے ہی بیان کیا جانے سے اس کا تاثر کچھ اور ہوگا، مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جو اداروں کے درمیان بد اعتمادی اور فاصلے پیدا ہوگئے ہیں تو اس رد عمل سے اس کی بھی عکاسی ہوتی، وزیر اعلیٰ کے پی ایس او سے جسٹس اعجاز نے ملاقات سے انکار کیا ہے، مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ، ہمیں تشویش ہوتی ہے کہ جب چیزوں کو ان کے صحیح تناظر میں نا تو دیکھتے ہیں اور نہ ہی تولتے ہیں، ہمارے سیاسی رہنما نے بھی اس معاملے پر بھی قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے، کسی عام آدمی پر حملے پر بھی اظہا ر افسوس اور مذمت کیا جائے گا، یہ سپریم کورٹ کا نہیں ہم سب کا معاملہ ہے ، ایف آئی اے کا مقدمہ لڑنے والے بیریسٹر زاہد جمیل پردوران سماعت گھر پر دھماکہ ہونے سے وہ کیس سے ہی دستبردار ہوگئے تھے لیکن کسی

نے اس کی تحقیقات نہیں کیں، جب پرویز مشرف پیشی پر جارہے تھے تو راستے سے اسلحہ بر آمد ہوا تھا اور کسی نے اس کی بھی تحقیقات نہیں کیں ہر واردات کی تحقیقات مکمل ہونی چاہئیں اور دیکھنا چاہئے کہ ہم کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد خان نے کہا کہ جسٹس اعجازکے گھر سے سوائے دو سکوں کے ابھی کچھ بر آمد نہیں ہوا، ابھی تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس میں فائرنگ کے واضح اشارات ملے ہوں، ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی ایسی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں جس میں فائرنگ کرنے والوں سے متعلق کوئی شواہد ملے ہوں، یہ واقعہ در اصل کہاں پیش آیا، فائرنگ معاملہ ایک معمہ بن چکا ہے، ملک خان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس چاہے نواز شریف کا کیس سن رہے ہیں وہ میرے چیف جسٹس ہیں، ہمیں وہاں کسی سیکیورٹی افسر کی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، بعض لوگ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا چاہتے ہیں، ہمارا پولیس کا اسپیشل ونگ سی پی او کی زیر نگرانی میں اعلیٰ عہدیداروں کی سیکیورٹی پر مامور ہو تا ہے، تحریک انصاف کا اس معاملہ میں کردار بڑا گراوٹ کا شکار دکھائی دیتا ہے ، ہم پہلے سے کہتے ہیں کہ محاذ آرائی کی سیاست سے آخر میں ایسا تاثر ابھرے گا جس سے اداروں کے درمیان ایک خراب صورتحال پیدا ہوجائے گی۔ بیورو چیف لاہور رئیس انصاری کا کہنا تھا کہ یہ بات تو کنفرم ہے کہ ان کے گھر کے باہر فائر ہوا ہے، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فائر ہوا کہاں سے ہے، انکے گھر سے چند گز کے فاصلے پر ہی شہباز شریف کا بھی گھر موجود ہے، اس لئے وہاں سیکیورٹی ہائی الرٹ رہتی ہے اور کوئی شہری بغیر تلاشی کے وہاں سے گزر نہیں سکتا، شہری سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کون ہے اور کس کے گھر جارہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ دو ملنے والے سکے جسٹس صاحب کے گھر میں گرے ہیں، وہاں تو وزیرا علیٰ پنجاب اور دیگر گھر بھی ہیں لیکن سوال اٹھتا ہے کہ صرف جسٹس صاحب کے گھر ہی سکے کیوں گرے، یہ بات تحقیق طلب ہے کہ و ہ آئے کہاں سے ، ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی چیز قریب سے آکر لگتی ہے تو اس کا اثر دوسری طرح کا ہوتا ہے، اس سے محسوس ہورہا ہے کہ گولی قریب سے نہیں آئی، رئیس انصار ی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بہت تشویش ناک ہے اور پنجا ب حکومت کو اس کی فوری تحقیقات کرنی چاہئیں اور ماہرین کی خدمات لینی چاہئیں، اس وقت تحقیقات سرد اور ایف آئی آرد ر ج نہیں کی گئی ہے۔صدر سپریم کورٹ بارسید کلیم احمد خورشید نے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب کی درخواست پر ہم نے ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے، ہم نے ہڑتال کی کال اظہار یکجہتی کیلئے دی تھی کہ ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کی زیادتی کی صورت میں عدلیہ کا تحفظ کیا جائے گا ۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان رہنما علی رضا عابدی نے کہا کہ فاروق ستار کی جانب سے صبح کو طلب کی جانے والی پریس کانفرنس میں دو ممبر قومی اسمبلی نشاط قادری اور جمال احمد بھی موجود تھے ، ان دونوں کو دو ہفتے سے پی ایس پی میں شمولیت کیلئے پراسس میں ڈال دیا گیا تھا، ان کے درمیان کچھ سہولت کار موجود تھے جنہوں نے ان کو بلایا تھا، جب انہوں نے سوچنے کی مہلت مانگی تو دباؤ بڑھایا گیا اور دھمکیاں دی گئیں، ان کا کہنا تھا کہ دونوں کی اگر جیو فینسنگ کردی جائے تو اس سے تمام ریکارڈ نکل آئے گا، پی ایس پی میں شروع میں جو رہنما گئے وہ دھونس دھمکی پر گئے تھے پھر یہ سلسلہ رک گیا تھا، جن پر کیسز تھے وہ پی ایس پی میں جانے کے بعد کلین ہو جاتے ہیں، میزبان طلعت حسین نے بتایا کہا تحریک انصاف کی جانب سے پشاور میں شروع کیا جانے والا بس منصوبہ جس پر 50ارب کی لاگت آئی ہے تاخیر کا شکار ہوچکا ہے جس سے قیمت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ، اس کیلئے قرضہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے لیا گیا ہے، یہ منصوبہ2017دسمبر میں مکمل ہونا تھا، اس منصوبے کا ڈیزائن بائیس مرتبہ تبدیل ہوچکا ہے، لوگ وہاں خوار ہوچکے ہیں، پروگرام میں شہریوں نے بھی اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہا کہ وہ جگہ جگہ راستے بند ہونے سے سخت پریشان ہیں، ہمارے ساتھ بدمعاشی کی جارہی ہے ، ایک شہری نے کہا یہ بے کار منصوبہ ہے اور اس کو بند ہونا چاہئے، اس منصوبے نے لوگوں کے کاروبار کو ختم کیا ہے، کیا یہ ان کا وژن، تبدیلی اور انصاف ہے، اس منصوبے سے تاجری برادری بھی سخت پسند ہیں، ایک تاجر نے کہا کہ یہ منصوبہ چھ مہینے میں نہیں بلکہ 2019میں ختم ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں