آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ11؍ربیع الثانی 1440ھ 19؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن کی رہائش گاہ پر ہفتے کی رات اوراتوار کی صبح دوبارہونے والی پراسرار فائرنگ کاانتہائی افسوس ناک واقعہ ملکی حالات کے غلط سمت میں جانے کی غمازی کرتا ہے جس کی سیاسی وعسکری سطح سے لے کر وکلا برادری اورسول سوسائٹی سمیت ہرطبقےنے بجا طور پر شدید مذمت کی ہے اورگہری تشویش کااظہار کیاہے۔یہ شرمنا ک حرکت جس کسی نے بھی کی یاکرائی ہے۔اس نے ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی خلفشار،دہشت گردی اورلاقانونیت کے رجحانات امن واستحکام کی فضا کو مسموم کررہے ہیں،قوم کے اعتماد کو متزلزل کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔فائرنگ سائلینسر لگے اسلحہ سے کی گئی جس کی آواز نہیں سنائی دی۔ایک گولی رات کو رہائش گاہ کے مرکزی دروازے اوردوسری صبح کچن کی کھڑکی پرلگی۔دونوں گولیوں کے خول ملے جن سے نامعلوم افراد کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کاپتہ چلا،خوش قسمتی سے گھر یا اہل خانہ کوکوئی نقصان نہیں پہنچا اطلاع ملنے پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار فوری طور پر جسٹس اعجازالاحسن کے گھر پہنچ گئے اور اب وہ اس معاملے سے متعلق امور کی خود نگرانی کررہے ہیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ ملزموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرہے میں لایاجائے

وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی ملزموں کی فوری گرفتاری کا حکم جاری کیاہے اورآئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ حکومت پنجاب نے واقعےکوانتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے اسکی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے اورمحکمہ داخلہ نے پولیس آئی بی،آئی ایس آئی، ایم آئی اور فرانزک ماہرین پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن کمیٹی کے قیام کااعلان کیا ہے جس نے باقاعدہ تحقیقات کاآغاز کردیا ہے۔جناب چیف جسٹس نے بھی آئی جی پولیس کو طلب کر کے فائرنگ کے محرکات کاجائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔چیئرمین سینٹ اورسپیکر قومی اسمبلی نے اعلیٰ عدلیہ کے جج کے گھر پرحملے کو ملکی سلامتی پرحملہ قرار دیتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کو موثر طور پر کام کرنے کےلئے ساز گار ماحول فراہم کرنا تمام سٹیک ہولڈر ز کی ذمہ داری ہے اس ضمن میں امن واستحکام کی بہتری کے لئے کوششیں جاری رکھی جائیں۔سپریم کورٹ بار نے اس واقعے کے خلاف عدلیہ سے اظہار یک جہتی کے لئے ہڑتال کافیصلہ کیا تھا جو اس نے چیف جسٹس کی اپیل پر واپس لے لیا۔انصاف کی فراہمی مشکل ترین کام ہے اور امریکہ،برطانیہ،ترکی،اٹلی اور بھارت سمیت دنیا بھر میں ججوں اور ان کے اہل خانہ پر حملوں کے واقعات اس کام کو مزید مشکل بناتے رہے ہیں لیکن عدالتی عمل ایسے حملوں سے رک نہیں سکتا۔پاکستان میں بھی جج اور ان کے اعزاو اقارب وقتافوقتاحملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمے کے ٹرائل کے دوران بھی ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔جسٹس اعجازالحسن پانامہ کیس کے علاوہ نیب کے مختلف کیسز سننے والے عدالتی بنچوں کا بھی حصہ ہیں۔ان کے گھر پر فائرنگ جن لوگوں نے بھی کی خواہ وہ سیاسی ہوں یا کوئی اور،مکمل تحقیقات کے ذریعے انہیں بے نقاب کرنا چاہئے۔اس حوالے سے جے آئی ٹی کا قیام ایک اچھا اقدام ہے۔عدلیہ سمیت ریاست کے تمام ادارے ایسے ستون ہیں جن پر ملکی استحکام کی عمارت کھڑی ہے۔ ان کا احترام سب پر لازم ہے۔ وہ مضبوط ہونگے تو انتشار بداعتمادی اور بدگمانی کی فضا ختم ہو گی اور ملک ترقی و استحکام کی جانب آگے بڑھے گا۔جن لوگوں کیخلاف عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں۔ انہیں خاص طور پر اپنے کارکنوں کو تحمل اور برداشت کا سبق دینا چاہئے۔دوسری طرف ایسی حرکات میں مخالف عناصربھی ملوث ہو سکتے ہیں۔انہیں بھی عدالتوں اور ججوں کا احترام ملحوظ رکھنا چاہئے اور ایسے معاملات کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ یہ مجرمانہ فعل ہے۔معروضی حالات کے پیش نظر حکومت کو چاہئے کہ ججوں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں