آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ11؍ربیع الثانی 1440ھ 19؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جنوبی پنجاب ، ابن الوقت سیاستدانوں کی جنت

اسلام آباد(زاہد گشکوری) جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تقریباً تمام ارکان پارلیمنٹ نے ماضی قریب میں انتخابات سے قبل ان جماعتوں کے حق میں وفاداریاں تبدیل کیں جن کی کامیابی کے زیادہ امکانات تھے اور یہ رحجان اب بھی جاری ہے حتیٰ کہ جاوید ہاشمی، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی جیسے جانے مانے سیاستدان بھی نئی بہار سے لطف اندوز ہونے کے لئے نئے گروپوں میں شامل ہوتے رہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران اس نمائندے کی طرف سے اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی پنجاب کے 16 اضلاع کے تقریباً 99 فیصد سیاستدانوں نے 2002ء سے اب تک وفاداریاں تبدیل کی ہیں‘ جنوبی پنجاب سے صوبائی اسمبلی کے 120 ارکان میں سے 106 اور قومی اسمبلی کے 64 میں سے 57 ارکان نے نوازشات کے حصول کے لئے اپنی وفاداری دیگر جماعتوں سے وابستہ کر لی ان میں سے اکثریت چاہے اس نے مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا یا جیتنے کے بعد پھر پارٹی میں شامل ہوئے، 2002ء سے 2008ء تک اقتدار میں رہے۔ بعد ازاں ان تقریباً تمام ارکان نے 2008ء سے 2013ء تک اقتدار کے مزے لینے کے لئے اپنی وفاداری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سے وابستہ کر لی۔

بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ(نواز) نے ان 167 ارکان میں سے 110 کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے لئے ٹکٹ جاری کئے جن کی وفاداریاں ماضی میں پی پی پی اور مسلم لیگ ق کے ساتھ رہی تھیں اور اب جنوبی پنجاب سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 15 ارکان نے مسلم لیگ ن چھوڑ دی ہے اور باقی بھی لائن میں لگے ہوئے ہیں‘یہ بات جیو نیوز کو بتائی گئی۔ علاوہ ازیں 45 کے لگ بھگ ارکان پارلیمنٹ جو 2013ء کے انتخابات ہار گئے تھے پہلے ہی گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں‘ جیو نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ جنوبی پنجاب سے 30 کے لگ بھگ مزید ارکان پارلیمنٹ مختلف وجوہات کی بنا پر آنے والے ہفتوں میں مسلم لیگ ن چھوڑ سکتے ہیں۔ رحجانات سے ظاہر ہوتاہے کہ 3 اضلاع رحیم یار خان، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان سیاسی ابن الوقت شخصیات کا گڑھ ہیں۔ رحیم یار خان سے تقریباً تمام 13 ایم پی ایز اور 5 ایم این ایز 2002ء سے وفاداریاں تبدیل کرتے آرہے ہیں۔ ایم این اے خسروبختیار جنہوں نے گزشتہ ہفتے مسلم لیگ ن چھوڑ دی ہے ایک وقت میں مسلم لیگ ق کے رکن تھے اسی طرح نصراللہ دریشک اور اویس لغاری کی بھی پارٹیاں بدلنے کی لمبی تاریخ ہے‘ انہوں نے 2002-03ء میں بھی وفاداریاں تبدیل کیں جب مرحوم فاروق لغاری نے ملت پارٹی قائم کی جو بعد میں کنگ پارٹی (مسلم لیگ ق) میں ضم ہو گئی۔ دریشک اور بختیار جو پہلے پی ٹی آئی کے ساتھ فلرٹ کرتے رہے مگر بعد میں ذہن تبدیل کر لیا‘ گزشتہ ہفتے ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ کے نام سے نیا گروپ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈی جی خان سے تقریباً 7 ایم پی ایز اور 3 ایم این ایز نے اپنی وفاداریاں ملت پارٹی، مسلم لیگ ق ، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن سے وابستہ رکھیں جبکہ ذوالفقار کھوسہ نے اپنی سیاست کا آغاز تحریک استقلال سے کیا تھا۔ راجن پور سے 4 ایم پی ایز اور 2 ایم این ایز بشمول عاطف مزاری مسلم لیگ ن ، پی ٹی آئی، نصراللہ دریشک تحریک استقلال، پی پی پی، مسلم لیگ جونیجو، مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن سے اپنی سیاسی وابستگی رکھ چکے ہیں ۔مظفرگڑھ سے 10 ایم پی ایز اور 5 ایم این ایز (بشمول سلطان ہنجرا، غلام مصطفی کھر اور ربانی کھر) اپنی جماعتیں بدلتے رہے ہیں۔ لیہ کے 5 ارکان پارلیمنٹ سوائے 2 نئے ایم این ایز ثقلین بخاری اور ن لیگ کے فیض الحسن کے‘ اپنی سیاسی وابستگیاں تبدیل کرتے رہے ہیں ۔ ملتان سے ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت 12 ایم پی اے اور 6 ایم این ایز بشمول جاوید ہاشمی، سکندر بوسن اور شاہ محمود قریشی اپنی سیاسی جماعتیں تبدیل کر چکے ہیں ۔ لودھراں کے پانچ ایم پی ایز میں سے 4 اور دونوں ایم این ایز (سجاد جوئیہ ، اقبال شاہ) بشمول جہانگیر خان ترین ایک سے دوسری پارٹی میں وفاداریاں بدلتے رہے ہیں۔وہاڑی اور خانیوال سے 16 ایم پی ایز اور 8 ایم این ایز کی اکثریت (بشمول نذیر احمد) 2002ء سے حکمران جماعتوں میں چلے آ رہے ہیں، جیو نیوز کی تفصیلی تحقیق سے مزید پتہ چلتا ہے کہ بہاولنگر اور بہاولپور سے کل 18 ایم پی ایز میں سے 13 اور 8 ایم این ایز میں سے 2 نے سیاسی وفاداریاں تبدیل کیں۔ بھکر سے افضل ڈھانڈلہ کے سوا تمام چار ایم پی ایز اور 2ایم این ایز، میانوالی سے چار ایم پی ایز اور 2ایم این ایز (بشمول عبید اللہ شادی خیل اور شیرافگن نیازی کے بیٹے) چنیوٹ ملحقہ جھنگ سے ایک ایم پی اے اور 3ایم این ایز(بشمول قیصر احمد شیخ) پرانا جھنگ سے کل 9 ایم پی ایز اور 4 ایم این ایز (فیصل صالح حیات، غلام بی بی بھروانہ، شیخ اکرم شامل) پاکپتن سے 5ایم پی ایز اور ایم این ایز (بشمول منصب ڈوگر) ساہیوال سے 7 ایم پی ایز اور 4 ایم این ایز(بشمول عمران شاہ) اور خانیوال سے تمام 4 ایم این ایز (بشمول رضا حیات ہراج اور اسلم بودلہ) اور 8 ایم پی ایز میں سے 7نے حالیہ ماضی میں سیاسی وابستگیاں تبدیل کیں۔حال ہی میں پی ٹی آئی کے 11 ایم پی ایز، پی پی پی کے 4ایم پی ایز، 2آزاد ایم پی ایز، جے یو آئی (ف) ، مسلم لیگ(ضیاء) جماعت اسلامی اور بہاولپور نیشنل عوامی پارٹی کے ایک ایک رکن بھی اس کلب میں شامل ہوا ہے جس نے جنوبی پنجاب میں وفاداریاں تبدیل کیں۔ نئی مردم شماری کے نتیجے میں جنوبی پنجاب میں قومی اسمبلی کی 3نشستوں کا اضافہ ہوا ہے۔ 2013ء میں مسلم لیگ ن نے جن 100سے زائد ارکان پارلیمنٹ کو ٹکٹ دیئے وہ ایک وقت پاکستان مسلم لیگ (مسلم لیگ (ق) اور پی پی پی کے وفادار تھے ان کی اکثریت دیکھتی رہتی ہے کہ ’’ہوا کدھر کی ہے‘‘ اور اس کے بعد وہ فیصلہ کرینگے کہ آئندہ پانچ سال حکومت میں رہنے کے لئے کون سی پارٹی کا انتخاب کیا جائے۔ ان ابن الوقت سیاستدانوں کی فہرست میں سکندر حیات بوسن( این اے 151، مسلم لیگ ق ایم این اے) پیر رفیع الدین بخاری 2002ء اور 2008ء میں (این اے 154، مسلم لیگ ق ایم پی اے) عاشق حسین بخاری ( این اے 151مسلم لیگ ق ایم پی اے) سیدفخر امام (این اے 156) جو پی پی پی میں شمولیت سے قبل (ق) لیگ میں تھے اور 2000ء میں ہار گئے ، محمد اختر خان کانجو (این اے 155) مسلم لیگ ق ایم این اے) چوہدری اشرف (این اے 161، مسلم لیگ ق ) سعید منیس(این اے 169) مسلم لیگ جونیجو میں تھے اور ان کا بیٹا 2008ء میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر کامیاب ہوا، حفیظ الرحمان دریشک (این اے 175) مسلم لیگ ق کے ضلع ناظم تھے، ملک سلطان ہنجرا (این اے 176) 2002ء اور 2008ء میں مسلم لیگ (ق) کے پلیٹ فارم سے جیتے، خالد گورمانی (این اے 177) مسلم لیگ ق میں تھے ٹکٹ حاصل کیا مگرہار گئے ، عباد ڈوگر(این اے 178) مسلم لیگ ق سے تھے ، سردار جعفر لغاری (این اے 174 مسلم لیگ ق کے ایم این اے)پیر اسلم بودلہ (این اے 158‘پی پی سے تھے)‘چوہدری افتخار نذیر(این اے 159) پی پی پی سے تھے ، مخدوم باسط سلطان (این اے 179) مسلم لیگ ق سے تھے، عبداللہ شاہ بخاری (این اے 180) مسلم لیگ (ق) سے تھے، مخدوم زادہ حسن علی(این اے 183) مسلم لیگ ق سے تھے‘ میاں نجیب الدین اویسی (این اے 184) تحصیل ناظم بہاولپور تھے، خادم وٹو ( این اے 188) مسلم لیگ ق سے صوبائی وزیر تھے،عالم داد لالیکا(این اے 189) سابق وفاقی وزیر مرحوم عبدالستار لالیکا کے فرزند ہیں، وہ چوہدریوں کے وفاداریاں تبدیل کرنے سے قبل ہی مشرف کی گاڑی میں سوار ہو گئے تھے، طاہر بشیر چیمہ (این اے 190) 2002ء اور 2008ء میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا انتخاب لڑے اور اسی جماعت کے مخدوم عالم انور (این اے 190) شامل ہیں۔ وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کی فہرست میں سمیرا ملک (این اے 69‘ 2008ء میں مسلم لیگ ق ایم این اے) عبداللہ شادی خیل 2002ء اور 2008ء میں (این اے 71) ایم این اے، حمیر حیات روکڑی (این اے 72) سابق ضلع ناظم، رشید اکبر نوانی (این اے 74) مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر صلع ناظم بھکر تھے، صائمہ اختر بھروانہ (این اے90) 2002 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئیں اور مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کی اور 2008ء میں دوبارہ آزاد حیثیت میں لڑیں اور کامیابی حاصل کی، کرنل(ر) غلام رسول ساہی(این اے 75) 2002ء میں مسلم لیگ (ق) کے ایم این اے، محمد عاصم نذیر (این اے77)2008ء میں ق لیگ ایم این اے، قیصر احمد شیخ (این اے86) 2002ء میں تحریک انصاف اور 2008ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑے، صاحبزادے محبوب سلطان (این اے 91)سابق ضلع ناظم جھنگ اور مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر سابق ایم این اے بھی شامل ہیں اور ابھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں