آپ آف لائن ہیں
پیر2؍ذیقعدہ 1439ھ 16؍جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فاروق ستار دس دکانیں دیکھ کر سودا کرنے والے آدمی ہیں،مصطفیٰ کمال

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں سینئر صحافی حامد میر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ریاستی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، عدلیہ آرٹیکل 90کے تحت کسی بھی ادارے کو مدد کیلئے طلب کرتی ہے تو عدلیہ کی مدد کرنا اس پر فرض ہے، ن لیگی حکومت نے بانی ایم کیو ایم کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کو کہیں چیلنج نہیں کیا تھا، اس وقت کہا جارہا تھا کہ ایک سیاستدان سے شروع ہونے والا کام دوسروں تک بھی پہنچ سکتا ہے، آرٹیکل 19 میں واضح ہے کہ توہین عدالت پر مبنی مواد نشر اور چھاپا نہیں جاسکتا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ 2015ء میں سپریم کورٹ نے پیمرا کا کوڈ آف کنڈکٹ نافذ کردیا تھا، پیمرا کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 3 میں شامل شقوں کے مطابق عدلیہ پر الزامات نہیں لگائے جاسکتے ہیں، آرٹیکل 4میں کرنٹ افیئرز پروگراموں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات پر فیئر رائے دی جاسکتی ہے لیکن ایسی بات نہیں کریں گے جس سے تعصب کا اظہار ہو، پیمرا کو بہت پہلے خیال کرنا چاہئے تھا

کہ الیکٹرانک میڈیا پر عدلیہ کیخلاف ایسی چیز نشر نہ ہو جس سے عدلیہ کی توہین کا پہلو نکلتا ہے، بدقسمتی سے پیمرا نے اپنے کوڈ آف کنڈکٹ پر صحیح طرح عمل نہیں کیا اور ہمیشہ عدالتوں پر ذمہ داری ڈال دی، پیمرا نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی جس کی وجہ سے لاہور ہائیکورٹ کو یہ فیصلہ دینا پڑا۔ حامد میر نے کہا کہ ٹی وی چینلز براہ راست تقاریر کے دوران عدلیہ مخالف باتوں پر بیپ لگاسکتے ہیں، عدلیہ مخالف باتوں کو دوبارہ نشر نہیں کرنا چاہئے، اگر کوئی عدالتی فیصلے میں قانونی سقم بتاتا ہے تو وہ نشر ہونا چاہئے، عدالت کے فیصلے پر فیئر کمنٹ ہوسکتا ہے لیکن ججوں کی ذات پر حملہ نہیں ہونا چاہئے، ن لیگ کے رہنمائوں نے ماضی میں ججوں کی ذات پر حملے کیے اور ان پر الزامات لگائے، اس قسم کی باتوں کو نہ نشر اور نہ ہی کہیں چھپنا چاہئے، عدالت نے اس رویے کو روکنے کی کوشش کر کے بالکل ٹھیک کیا ہے۔سربراہ پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ فاروق ستار دس دکانیں دیکھ کر سودا کرنے والے آدمی ہیں،فاروق ستار نے کبھی ہمیں اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی بات نہیں کی، ہم چاہیں بھی تو فاروق ستار ہمیں ایم کیو ایم میں نہیں لیں گے ،ہم جہاں ہوں گے وہاں ہماری چلے گی، انیس قائم خانی جہاں ہوں گے وہی آرگنائزیشن چلائیں گے، ایم کیو ایم کا برانڈ خراب اور پٹ گیا ہے، مہاجر کمیونٹی کے لوگوں کو اسے ٹھیک کرنا ہے، ایم کیو ایم پاکستا ن نے خود اپنے ساتھ جو کیا اس کے بعد انہیں دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم فاروق ستار اور دیگر لوگوں کو پی ایس پی میں شامل کرنے کی کوشش کررہے تھے، فاروق ستار دس دکانیں دیکھ کر سودا کرنے والے آدمی ہیں، فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کے فیصلے سے قبل 24مارچ کو رات ایک بجے انیس قائم خانی سے اکیلے ملاقات کی خواہش ظاہر کی، فاروق ستار نے انیس قائم خانی سے کہا اگر میرے خلاف عدالتی فیصلہ آیا تو میرے لئے آپ کے پاس کیا پیکیج ہے، انیس قائم خانی نے کہا اگر آپ کیخلاف فیصلہ آیا تو ہم آپ کو عزت دیتے ہوئے گھر سے آپ کو پی ایس پی میں شامل کرنے کیلئے لے کر جائیں گے اور اگر آپ کے حق میں فیصلہ آجائے تو آپ اپنی پارٹی میں سیاست کیجئے گا، فاروق ستار ہماری اس پیشکش پر بہت خوش ہوئے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ فاروق ستار بانی متحدہ سے بڑے لیڈر نہیں ہیں، جب ہم صحیح اور غلط پر بانی متحدہ کیخلاف کھڑے ہوگئے تو فاروق ستار کیا چیز ہیں، ہم پر ڈرائی کلین کا الزام لگانے والے فاروق ستار ایک ہی رات میں ڈرائی کلین ہو کر آگئے، مجرم کے طور پر پکڑے گئے اور صبح پارٹی سربرا ہ بن کر آگئے، فارو ق ستار ہر جگہ جھوٹ بولتے ہیں اب اس کی انتہا ہوگئی ہے، فاروق ستار شاطر ہیں منافقت کرتے اور جھوٹ بولتے ہیں، فاروق ستار کو پی ایس پی میں شامل نہ کرنے کی بات بھاری دل کے ساتھ کی ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی سے ن لیگ کے الیکشن لڑنے والے امیدوار اور پیپلز پارٹی ڈسٹرکٹ ویسٹ کے صدر کل پی ایس پی میں شامل ہوئے ہیں، پی ٹی آئی کا ایک ایم پی اے ہمارے پاس آگیا ہے، ہمیں کسی کے نام پر نہیں پارٹی کی فلاسفی اورایجنڈے پر ووٹ پڑے گا، ڈولفن کے نشان پر جو کھڑا ہوگا وہ جیتے گا۔میزبان نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ اورا س کے فیصلوں پر تنقید اور بیانات مسلم لیگ ن کو مہنگے پڑرہے ہیں، پیمرا پندرہ دن میں ن لیگ کی قیادت کی عدلیہ پر تنقیدی تقاریر کو نشر کرنے پر پابندی کی درخواستوں کا فیصلہ کرے گا،اس دوران ان رہنمائوں کی عدلیہ پر تنقیدی تقاریر نشر کرنے پر عبوری پابندی ہوگی، کیا یہ پابندی نواز شریف کی تقاریر پر مکمل پابندی کی طرف جاسکتی ہے، اگر ایسا ہوا تو انتخابات سے پہلے ن لیگ کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، یہ معاملہ صرف نواز شریف کا نہیں، بات صرف نواز شریف تک محدود نہیں لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، اہم وفاقی وزراء اور سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف توہین عدالت کی دو درجن سے زائد درخواستیں دائر کی گئی تھیں ، ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ حضرات عدالت عدلیہ مخالف تقاریر کررہے ہیں اور براہ راست ججوں کو نشانہ بنارہے ہیں ، عدلیہ مخالف تقاریر براہ راست نشتر کی جارہی ہیں جو توہین عدالت ہے، درخواست گزارو ں نے ان تقاریر کی بنیاد پر نواز شریف سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست کی اور یہ بھی کہا کہ پیمرا کوا پنا کوڈ آف کنڈکٹ یقینی بنانے کا حکم دیا جائے، ان درخواستوں کی سماعت کیلئے تین دفعہ بنچ تشکیل دیا گیا مگر تینوں دفعہ بنچ ٹوٹ گیا، اب ان درخواستوں کی سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے کی۔شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ یہ بات صرف عدلیہ مخالف تقاریر تک محدود رہے گی یا پھر آگے بڑھے گی یہ سوال اہم ہے کیونکہ لاہور ہائیکورٹ بانی ایم کیوا یم کی تقاریر نشر کرنے اور ان کے بیانات شائع کرنے پر مکمل پابندی لگاچکی ہے، کیا مستقبل میں نواز شریف بھی اسی طرح کی پابندی کی زد میں آسکتے ہیں۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ ملک میں انتخابات قریب آتے ہی سیاسی ہلچل بڑھ رہی ہے، سیاسی جماعتیں عوامی رابطہ مہم چلا رہی ہیں، نئے اتحاد بن رہے ہیں اور نئی جماعتیں وجود میں آرہی ہیں، ساتھ ہی سیاستدان اپنے مستقبل کا فیصلہ کررہے ہیں، پارٹیاں بدل رہے ہیں، کچھ سیاستدانوں نے سیاسی وفاداری بدل لی ہے اور کچھ سیاستدان سیاسی پارٹی چھوڑ کر آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کررہے ہیں تاکہ آزاد حیثیت میں منتخب ہوں اور جو جماعت اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئے اس میں شامل ہوجائیں، کچھ دن پہلے جنوبی پنجاب میں ن لیگ سے وابستہ آٹھ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے پارٹی چھوڑ دی، اب یہ اراکین اسمبلی جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بناچکے ہیں، آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیں گے اور یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ وہ مستقبل میں اس سیاسی جماعت کا ساتھ دیں گے جو اسمبلی کے پہلے اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد منظور کروائے گی، جنوبی پنجاب کے ان اراکین کے مطالبہ پر سوالات اٹھے کہ پانچ سال تک حکومت میں رہنے کے بعد اب نئے صوبے کا مطالبہ کیا جارہا ہے، کیا یہ اراکین سنجیدہ ہیں یہ نعرہ محض ایک بہانہ ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں