آپ آف لائن ہیں
پیر2؍ذیقعدہ 1439ھ 16؍جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
طیبہ تشدد کیس،جج اوراہلیہ کو قید اور جرمانہ

طیبہ تشدد کیس میں اسلام آباد کے سابق ایڈیشنل سیشن جج خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین کو ایک ایک سال قید کی سزا اوردونوں کو 50,50ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرناہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27مارچ 2018ء کو محفوظ کیاگیا فیصلہ سنا دیا۔

ہائیکورٹ نے کمسن طیبہ تشدد کیس میں سابق ایڈیشنل سیشن جج خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

اسلام آباد میں گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016ء کو سامنے آیا۔

پولیس نے 29 دسمبر کو سابق جج راجہ خرم علی خان کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لے کر کارروائی شروع کی۔

حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 27مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

دونوں ملزمان کیخلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا۔

3 جنوری 2017ء کو طیبہ کے والدین نے جج راجہ خرم اور ان کی اہلیہ کو معاف کردیا تھا۔

راضی نامے کی خبریں سامنے آنے پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے 8جنوری 2017ء کو طیبہ کو بازیاب کراکے پیش کیا۔

عدالتی حکم پر 12جنوری 2017ء کو راجہ خرم علی خان کو کام سے روک دیا گیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوایا۔

10 فروری کو ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف علی نے ملزمان کی عبوری ضمانت کی توثیق کی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16مئی 2017ء کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔

مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

گواہوں میں 11 سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افراد شامل تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں