آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سعودی عرب ، غیر ملکیوں کے انخلا کے باعث مکانات کے کرائے ’گر ‘ گئے

سعودی عرب میں تارکین وطن کے اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ جانے کے سبب مکانات کے کرائے کم ہوگئے ہیں جبکہ ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ رمضان کے بعد مکانات اور دکانوں کے کرائے مزید کم ہوں گے۔

اکثر تارکین وطن تعلیمی سال ختم ہوتے ہی اپنے اہل وعیال کو وطن واپس بھیجنے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ یہ لوگ تعلیمی سال کے اختتام کے منتظر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فیملی فیس سے بچنے کی خاطر تارکین اپنے اہل و عیال کو وطن بھجوا رہے ہیں۔

سبق ویب سائٹ کے نمائندے نے ریاض شہر کے مختلف محلوں کا گشت کرکے پتہ لگایا کہ کثیر تعداد میں مکانات اور دکانیں خالی ہیں۔ جگہ جگہ کرائے کے بورڈ آویزاں ہیں۔ بعض عمارتوں کے مالکان کرایہ داروں کو کئی کئی ماہ کے کرائے کی چھوٹ دینے لگے ہیں۔

اطلاعات یہ ہیں کہ کرایوں میں 10تا 15فیصد کمی واقع ہوگئی ہے اور خالی مکانات و دکانوں کو کرائے پر اٹھانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ مالکان کو نیا کرایہ دار حاصل کرنے کیلئے مہینوں انتظار کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب مشہور ماہر اقتصاد احمد الشہری نے کہا کہ پلاٹس اور عمارتوں کے کرایوں اور سودوں میں مزید کمی متوقع ہے۔ فیملی فیس کی وجہ سے خالی مکانات کی تعداد سعودی عرب کے تمام شہروں میں بڑھتی جارہی ہے ۔

خصوصاً زیادہ آبادی والے شہروں ریاض، جدہ اور مشرقی ریجن کے مکانات دھڑا دھڑ خالی ہوتے جارہے ہیں۔ الشہری نے یہ بھی کہا کہ اگر اقتصادی پہلو سے دیکھا جائے تو ایسے غیر پیداواری تارکین وطن کی مملکت سے رخصتی سعودی خاندانوں کیلئے نیک شگون ثابت ہوگی۔

وہ اپنی محدود آمدنی کے حساب سے کم کرائے والے اچھے مکانات حاصل کرسکیں گے۔

اعدادوشمار سے ظاہر ہورہا ہے کہ فیملی فیس پر عملدرآمد کے نتیجے میں 670ہزار غیر ملکی کارکن 2020ءتک سعودی عرب کو خیر باد کہہ دیں گے۔ اوسطاً ہر سال 165ہزار غیر ملکی سعودی عرب کو چھوڑ دیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں