آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 22؍ شوال المکرم 1440ھ 26؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی فوجی مشقیں اختتام پذیر

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ، پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اورسعودی نائب ولی عہد، نائب وزیراعظم و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سمیت 25ممالک کے قائدین نے پیر کو مشترکہ فوجی مشق گلف شیلڈ ون کی اختتامی تقریب میں شرکت کی اور عسکری مہارتوں کا شاندار مظاہرہ دیکھا۔

یہ خطے میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی فوجی مشق تھی۔شاہ سلمان نے اس حوالے سے ٹویٹر کے اپنے اکائونٹ پر تحریر کیا کہ ہم منظم اتحاداور مشترکہ فوجی نظم کے ذریعے خطے کو درپیش خطرات اور چیلنجوں سے نمٹ سکتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی فوجی مشقیں اختتام پذیر

اختتامی تقریب دمام کے شمال مشرق میں تقریباً 140 کلومیٹر دورایک صحرا ء میں ہوئی۔وزیراعظم کے ہمراہ وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیرخان، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیرخان ہشام بن صدیق بھی موجود تھے۔

41 ممالک کے اتحاد ’’اسلامک ملٹری کائونٹر ٹیررازم کولیشن‘‘ کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف بھی تقریب میں شریک تھے۔ رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشق کی کمان کے تحت سلطنت کےمشرقی ساحل کے ساتھ منعقد ہونے والی تینوں افواج کی مشترکہ مشق کا اہتمام باہمی رابطہ کو فروغ دینے اور مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے مل کر کام کرنے کا عملی تجربہ حاصل کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔

سعودی افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل فیاض الرویلی نے اس موقع پر شریک افواج کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ سے جاری یہ مشقیں اس سے قبل ہونے والی شمال کی گرج (رعد الشمال) کے عنوان سے ہونے والی مشقوں کا توسیع ہیں۔

ہماری وزارت دفاع نے ’’گلف شیلڈ ون‘‘ مشق کو دنیا میں جدید ترین عسکری نظام کے مطابق بروئے کار لائے جانے والی جنگی مہارتوں کے حوالہ سے اسے اہم موڑ قرار دیا ہے۔ انہوں نے شریک افواج کے کمانڈروں ، منصوبہ سازوں اور نگرانی کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری انسانیت نواز تاریخ قابل فخر ہے۔ جب بھی ہمارے کسی برادر اور دوست ملک کو ہماری ضرورت پڑی ، تو ہم نے احسان جتائے بغیر دست تعاون دراز کیا۔ اختتامی تقریب میں بری، فضائی اور بحری افواج نے مربوط حملے میں استعمال کی جانے والی مہارتوں کا مظاہرہ کیا ۔

پاک فضائیہ کے جے ایف 17 لڑاکا طیاروں نے شاندار مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ مشق کے دوران بکتر بند گاڑیوں میں بری افواج نے حملہ کیا اور اسے اپاچی گن شپ کی فضائی معاونت حاصل رہی۔

دریں اثناء سمندر سے بحری افواج نے دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ۔ ا سپیشل سروسز کے دستوں نے مشق میں بقیہ شرپسند عناصر کا صفایا کیا۔شاہ سلمان اور مہمان شخصیات نے ایک بڑے ہال سے اس تقریب کا مشاہدہ کیا جس کے 3 اطراف پر بڑی بڑی شیشے کی دیواریں تھیں اور صحراء کے منظر کو دیکھنے کیلئے درجنوں بڑی ٹی وی ا سکرینیں نصب کی گئی تھیں۔

فائر پاور شو کا اختتام شریک ممالک کے دستوں کی پریڈ اور سعودی عرب اور دیگر علاقائی افواج کی طرف سے استعمال کی جانے والی توپوں، اسلحہ نظام، لانگ رینج آرٹلری اور میزائلوں کے مظاہرہ سے ہوا ۔ فلائی پاسٹ کا بھی شاندار مظاہرہ کیا گیا۔

تقریب میں شریک رہنمائوں میں ابوظبی کے ولی عہد اور یو اے ای مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر شیخ محمد زاید ال نہیان، بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ

حسینہ واجد، مالی، چاڈ اور برکینا فاسو کے صدور شامل تھے۔ پاک فوج کے دستوں، پاک فضائیہ کے سی 130، جے ایف 17 تھنڈر طیاروں، پاک بحریہ کے بحری جہازوں اور اسپیشل سروسز گروپ کے کمانڈوز نے مشق میں حصہ لیا۔

علاوہ ازیں ایف فائیو، ایف 15، ایف 16، ایف 18 سمیت مختلف جدید طیارے شریک تھے۔ مشق کے مقاصد میں علاقائی ممالک کے خلاف خطرات اور چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنا شامل ہے جو ان خطرات سے نبرد آزما ہونے کیلئے یکجا اور مربوط کوششوں کے متقاضی ہیں۔

جن ممالک کے دستوں نے ان مشقوں میں حصہ لیا ان میں پاکستان، سوڈان، جبوتی، مصر، یو اے ای، چاڈ، گیمبیا، بحرین، ملائیشیا، ماریطانیہ، اردن اور کویت شامل ہیں۔مبصر کی حیثیت سے شرکت کرنے والے ممالک میں بنگلہ دیش، ترکی، قطر، افغانستان، برکینا فاسو، امریکہ، برطانیہ، کیمرون جزائر، عمان اور نائیجر شامل تھے۔ پاکستان بحریہ کے بحری جہازوں پی این ایس ٹیپو سلطان، پی این ایس ہمت اور میری ٹائم سیکورٹی شپ ’’بسول‘‘ نے بھی مشق میں شرکت کی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں