آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چودھویں صدی میں یورپ میں طاعون کی وبا پھیلی، کروڑوں لوگ اس بیماری کے ہاتھوں ہلاک ہوئے، 1348میں انگلستان میں جب یہ وبا پہنچی تو شاہ ایڈوروڈ سوئم نے بشپ کو چٹھی لکھی کہ گرجا گھروں میں دعائیں کروائی جائیں تاکہ اس عفریت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے، یہ دعائیں مگر قبول نہ ہوئیں اور طاعون نے آدھے انگلستان کو نگل لیا (بالکل اسی طرح جیسے انیسویں صدی میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کیا تو امیر بخارا نے حکم دیا کہ تمام مدرسوں اور مسجدوں میں ختم خواجگان پڑھایا جائے)۔ اس تباہی نے پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیا، یورپ پر اس طاعون نے گہرا اثر چھوڑا، لوگوں کے رہن سہن کے طریقے یکسر تبدیل ہو گئے، کچھ دیوانے ہو گئے اور کچھ تارک الدنیا، کچھ نے سوچا کہ یہ زندگی اتنی مختصر اور بے معنی ہے کہ اسے سوائے موج مستی کے کسی اور طریقے سے گزارنا حماقت ہے۔ اس زمانے میں یورپ میں جاگیرداری نظام اپنے عروج پر تھا، بادشاہ تمام تر زمین کا مالک تصور کیا جاتا تھا، اس کے نیچے جاگیردار تھے اور اُن جاگیر داروں کے نیچے مزارعے۔ بادشاہ اُن جاگیرداروں کو مختلف خدمات کے عوض جاگیریں عطا کرتے تھے، جاگیردار پھر یہ زمینیں اپنے مزارعوں کے حوالے کرتے جو اُن میں اپنا خون جلا کر کھیتی باڑی کرتے، اُن کی حیثیت غلاموں جیسی ہوا کرتی تھی، انہیں کسی قسم کا معاوضہ

نہیں دیا جاتا تھا، الٹا مختلف غلطیوں اور کوتاہیوں کی پاداش میں اُن پر طرح طرح کے جرمانے عائد کئے جاتے تھے، یہ مزارعے اپنے مالک کی مرضی کے بغیر وہ زمین چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے تھے ’’جاگیردار اُن زمینوں کا نہ صرف مالک ہوا کرتا تھا بلکہ اُن مزارعوں کی زندگیوں میں ایک ایسا کردار تھا جو بیک وقت جج اور جیوری کا اختیار بھی رکھتا تھا اور ضرورت پیش آنے پر تھانیدار کا روپ بھی دھار لیتا تھا۔‘‘(Why Nation Fails، صفحہ 98)۔ طاعون کی وبا سے جہاں تباہی پھیلی وہاں ایک عجیب و غریب تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ جاگیردارانہ نظام کی بنیادیں ہل کر رہ گئیں، مزارعوں کے مطالبے پر بہت سے جرمانے ختم کر دیئے گئے اور انہیں کسی حد تک کام کا معاوضہ دیا جانے لگا، گو کہ انگلستان کی حکومت نے مختلف حکم ناموں کے ذریعے غریب کسانوں کو بلا اجازت زمین چھوڑنے کی صورت میں سخت سزائیں مقرر کیں مگر ان کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوا، الٹا بغاوت ہو گئی جسے کچل دیا گیا مگر اِس کے بعد اِس قسم کی سزائیں جاری کرنے کا سلسلہ بھی بند کر دیا گیا۔ مغربی یورپ میں کسان جاگیرداروں کے تسلط سے آزاد ہونا شروع ہو گئے، ان پر لگی پابندیاں ختم ہو گئیں، جرمانے بند ہو گئے اور معاوضے بڑھ گئے۔ مشرقی یورپ میں مگر یہ سب کچھ نہیں ہوا حالانکہ وہاں بھی طاعون کی وبا پھیلی تھی، وہاں بھی کروڑوں اموات ہوئی تھیں، وہاں بھی جاگیردارانہ نظام ایسے ہی قائم تھا مگر وہاں کسی قسم کی اصلاحات نہ ہو سکیں، مشرقی یورپ کے بعض ممالک میں مزارعین اور ان کے بچوں کو بلا معاوضہ کام کرنا پڑتا تھا اور مشرقی جرمنی میں سولہویں صدی تک جاگیردار اپنے مزارعوں سے ایک ہفتے میں تین دن بیگار لیتے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخ میں ایسا کیا ہوا کہ انگلستان، جس کی نصف آبادی کو طاعون کھا گیا تھا، تین سو برس کے عرصے میں ایک ایسی طاقت بن گیا جس کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا مگر مشرقی یورپ یہ عروج حاصل نہ کرسکا؟؟؟
یہ سوال اگر مطالعہ پاکستان کے کسی پرچے میں پوچھا جائے تو نونہالان وطن غالباً کچھ اِس قسم کا جواب دیں گے کہ انگلستان میں چھاؤنیاں قائم کی گئیں تاکہ طاعون کی وبا کا مقابلہ کیا جا سکے، وبا چونکہ فرانس سے آئی تھی سو انگلستان کی افواج نے فرانس پر حملہ کر کے اس کے چھکے چھڑا دیئے، بنیادی جمہوریتوں کا نظام متعارف کروایا گیا جس کے تحت اختیارات پڑھے لکھے لوگوں کو نچلی سطح پر منتقل کئے گئے تاکہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کیا جا سکے اور اس کے نتیجے میں فیلڈ مارشل منٹگمری کو صدر منتخب کیا جا سکے، وغیرہ وغیرہ۔ ایسا جواب ہمارے طلبہ کو دس میں سے دس نمبر دلوا سکتا ہے بشرطیکہ ممتحن شام کو پارٹ ٹائم کسی ٹی وی ٹاک شو میں بطور دفاعی تجزیہ نگار کا کام بھی کرتا ہو۔ بدقسمتی سے معاملہ چونکہ انگلستان کا ہے جہاں تاریخ کچھ اور ہے سو طلبہ کی سہولت کے لئے ہم اس سوال کا مختصر جواب بتا دیتے ہیں۔ انگلستان کے عروج کی بہت سی وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ ’’انقلاب باشکوہ‘‘ (Glorious Revolution) ہے، اس انقلاب کے نتیجے میں بادشاہ کا اختیار محدود ہو گیا، پارلیمان کی طاقت میں اضافہ ہوا اور ایک ایسے سیاسی نظام نے جنم لیا جس میں سماج کے ایک بڑے حصے کو ریاست کے فیصلوں میں حصہ لینے کا موقع ملا، اس انقلاب نے ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھ دی جہاں لوگوں کو پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ وہ بھی حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں۔ حکومت نے اس کے بعد کئی معاشی اصلاحات کیں، جائیداد اور زمین سے متعلق حقوق کا تعین کیا، سرمایہ کاری کی ترغیبات دیں اور ان لوگوں کے حقوق دانش بھی محفوظ کئے جو کوئی نئی تخلیق یا ایجاد کرتے۔
ان اصلاحات نے ایک اور انقلاب کا دروازہ کھول دیا اور چند دہائیوں بعد انگلستان میں صنعتی انقلاب بھی برپا ہو گیا۔ باقی تاریخ ہے۔
پاکستان میں نونہالان انقلاب کی خواہشات بھی کچھ ایسی ہی ہیں، یہ محب وطن نونہال چاہتے ہیں کہ ملک میں ایک انقلاب برپا کرکے ویسا نظام قائم کر دیا جائے جیسا انگلستان نے کیا تھا، پھر ہم بھی سپر پاور بن جائیں گے، یونین جیک کی طرح ہمارا سبز ہلالی پرچم بھی کبھی سرنگوں نہیں ہوگا، پوری دنیا میں ہماری ایجادات کی دھوم ہوگی، سیلیکون ویلی جیسا شہر مردان میں ہوگا اور نیویارک جیسا ہوائی اڈہ کراچی میں، اولمپک کے مقابلے لاہور میں ہوں گے اور شنگھائی جیسی بندرگاہ بلوچستان میں۔ یہ خواہشیں جائز بھی ہیں اور وطن سے محبت کی دلیل بھی مگر خواہش کرنے اور اسے عملی جامہ پہنانے کے درمیان ایک راستہ ہوتا ہے جسے طے کرنا ہوتا ہے، یہ راستہ اسی شخص یا قوم کو طے کرنا پڑتا ہے جو خواہش کی تکمیل چاہتی ہے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ بطور قوم ہم ایک خواہش کریں اور ہمارے لئے اس کی تکمیل چینی، امریکی یا فرانسیسی قوم کرے۔ انگلستان سمیت دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے جو ترقی کی اس میں کئی سو برس کی جدوجہد کے بعد یہ اصول طے ہوا کہ جمہوریت ہی واحد قابل قبول سیاسی نظام ہے اور آزادیٔ اظہار جمہوریت کے لئے بنیادی شرط ہے۔ جبکہ ہمارا تصور انقلاب یہ ہے کہ ایک خونی انقلاب میں دس بیس لاکھ بندہ
مارا جائے تو یہ نظام خود بخود ٹھیک ہو جائے گا شرط مگر یہ ہے کہ اس خونی انقلاب کے وقت ہم انگلستان میں ہوں۔ ملک کو سپر پاور بنانے کی خواہش ہماری ضرور ہے مگر اس وقت حال ہمارا یہ ہے کہ تاریخ کا پہیہ الٹا گھمانے کی کوششوں میں لگے ہیں، دنیا ترقی کے لئے جو اصول طے کر چکی ہے ہم انہی اصولوں کو پامال کرکے روشنی کی امید کئے بیٹھے ہیں۔ انگلستان کے انقلاب نے معاشرے کی زنجیریں توڑی تھیں، ہم معاشرے کو بیڑیاں پہنا کر سمجھ رہے ہیں کہ اسے زیور سے آراستہ کر دیا گیا ہے۔ تاریخ کا فیصلہ دیوار پر لکھا ہے۔
کالم کی دُم:حقوق نسواں کے کسی مظاہرے میں ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا نعرہ جو کسی پلے کارڈ پر درج تھا آج کل خاصا مشہور ہے، مجھے اس نعرے کے انداز بیاں پر تھوڑا بہت اعتراض ہے تاہم اگر کوئی شخص یہ نعرہ لگائے کہ ’’تیرا جسم، میری مرضی‘‘ تو کم از کم ایسے کسی نعرے سے پہلے والا سلوگن ہی بہتر ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں