آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے کچھ سال پہلے لکھا تھا’’عیسیٰ خیل میں پچھلے اٹھارہ گھنٹوں سے بجلی نہیں ہے ۔کامونکی میں ایک عورت نے اپنے معصوم بچے کے ساتھ خود کشی کرلی ہےکراچی میں گزشتہ سال دوہزارسے زائدافراد قتل ہوئے ہیں۔بلوچستان میں حکومتی عمل داری کوئٹہ تک محدود ہوکر رہ گئی ہےکوئٹہ میں 87لاشوں کا چار دن تک احتجاج جاری رہا۔مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی ایٹمی حملے سے بچاؤ کے اقدامات کی تشہیری مہم شروع کردی گئی۔روپیہ گرتے گرتے ایک امریکی سینٹ کے برابر آگیامیران شاہ کے قریب ڈرون حملے میں چار بچے اور دو عورتیں مارے گئے ۔بازار سے چینی غائب ہوگئی ہے۔آٹے کی قیمت میں پچاس فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔سی این جی اسٹیشن غیر معینہ مدت تک بند رہیں گے۔ایک سال میں پانچ مرتبہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ۔پیاز دوسو روپے کلو ہوگئے
رینٹل پاور کیس کی تفتیش کرنے والے افسر نے خود کشی کرلی یا اسے قتل کردیا گیا۔انتخابات میں امیدواروں کی چھان بین کیلئے ایک ماہ کا عرصہ متعین کرنے پر ہمیں تحفظات ہیں۔ قائد حزبِ اختلاف پاکستان کے ایک سابق وزیر اعظم کا نیوزی لینڈ میں اربوں ڈالر کا بزنس ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری۔
پاکستان میں روزانہ سات ارب کی کرپشن ہوتی ہے جس میں سے پانچ ارب کی پنجاب میں ہورہی ہے۔ چیئرمین نیب۔صدر پاکستان آصف علی زرداری کے پاس ساٹھ

ارب ڈالر موجود ہیں ۔مغربی میڈیا۔اگر آئین کے مطابق الیکشن کرائے جائیں تو موجودہ اسمبلیوں میں سے نوے فیصد لوگ انتخابات میں حصہ نہیں لیں سکیں گے۔جیوٹی وی۔
آج تین سال کے بعد کونسی ایسی بات ہے جس میں بہتری آگئی ہے ۔کوئی بھی نہیں ۔ لوڈشیڈنگ اسی طرح جاری ہے خود کشیاں اسی طرح ہورہی ہیں ۔حکومت اسی طرح کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے ۔ پاکستانی جمہوریت کے ایسے ایسے کارہائے نمایاں ابھی تک وہی ہیں جن کی مثال کسی ملک کی تاریخ میں نہیں ملے گی۔یہ جملہ پڑھتے ہی آپ کے ذہن میں پہلا خیال یہی آیا ہوگا کہ میں جمہوریت کے خلاف کچھ کہنے والا ہوں ۔جی ہاں میں اُس جمہوریت پر آج تف بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں جس نے پاکستان کو تباہی کے آخری دہانے تک پہنچا دیا ہے ۔بے شک جمہوریت بذات خود کوئی بری شے نہیں اس کا برا استعمال ہی اسے برا بناتا ہے مگرپاکستان میں جمہوریت کا اتنی مرتبہ استحصال کیا گیا ہے ۔ پاکستان میں جمہوریت کے چہرے پر اتنے نقش و نگار بنائے گئے ہیں کہ عوام اس سے بچوں کو ڈرانے کے سوا اور کوئی کام نہیں لے سکتے۔پاکستان میں جمہوریت کی آنکھوں میں اتنی مرتبہ سلائیاں پھیری گئی ہیں کہ اب وہاں آنکھوں کی جگہ دو ہولناک غار بن گئے ہیں جہاں اندھیرے پرورش پاتے ہیں۔پاکستان میں جمہوریت ایک مافیا بن چکی ہے جوصرف چند لوگوں کیلئے غیرقانونی طریقے سے مال و دولت جمع کرتی ہے۔اس جمہوری مافیا کے کئی گروپ ہیں جن کی آپس میں اکثر اوقات لڑائی جاری رہتی ہے مگرجس طرح جرائم پیشہ لوگوں کے درمیان بھی ایک دوسرے کو قانون سے بچانے کا ایک غیر اعلانیہ معاہدہ ہوتا ہے ان گروپس میں بھی ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں جمہوری مافیا کے ان گروپس نے اپنے اپنے علاقے تقسیم کئے ہوئے تھے اور قومی یک جہتی کے خوبصورت لیبل لگاکرلوڈ شیڈنگ کا زہر بازار حکومت میں فروخت کرتے رہے۔کہیں سستی روٹی کے نام پر غریبوں کا پیٹ کاٹا گیا ۔ کہیں بے نظیر انکم سپورٹ کی صورت میں غریب بڑھیا سے اس کی دوائی چھین لی گئی ۔کہیں حجاج کی نیکیا ں چرالی گئیں۔کہیں جعلی ادویات کی فیکٹریوں سے صحتِ عامہ تقسیم کی گئی کہیں بجلی کی چوری سے روشنیوں کو فروغ دیا گیاکہیں میٹرک فیل ممبر سے یونیورسٹیوں میں تعلیم کی ترویج کرائی گئی کہیں اچھے لوگوں کی باقاعدہ ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔کونسا ایسا اقدام ہے جو اس جمہوری مافیا نے اس ملک کی رگ رگ سے خون نچوڑنے کیلئے نہیں کیا۔ انہوں نے تو پتھر بھی نچوڑ کر دیکھے کہ کہیں ان میں بھی کچھ موجود نہ ہو۔اب یہ جمہوری مافیا انتخابات کے مقام سخت و تلخ پر پہنچا ہوا ہے ۔ہر گروپ کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ علاقہ اس کی جاگیر میں آئے ۔عمران خان چاہتے ہیں کہ اس جمہوری مافیا سے عوام کو نجات دلائی جائے ۔یہ جمہوری مافیا اس وقت اتنا پریشان ہے کہ نگران وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ نون لیگ نے آصف زرداری کے ہاتھ میں دیا ہے ۔تاکہ عمران خان کو کسی طرح روکا جائے مگر آسمانوں پر جو کچھ لکھا ہوا ہے وہ اس وقت سب کو نظر آرہا ہے ۔ جمہوری مافیا عمران خان کی طرف بہت پریشان کن نظروں سے دیکھ رہا ہے کہ اصلی جمہوریت کتنی خطرناک چیز ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں