آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تصاویر شعیب احمد،نقیب الرحمان

تنازعات،مشکلات، شکایات اور احتجاج سے بھر پور 17ویں سندھ گیمز کراچی کی برتری کے ساتھ ختم ہوگئے، کراچی نے ان مقابلوں میں اپنے گولڈ میڈلز کی سنچری مکمل کی، کراچی نے 126 گولڈ36 سلور،16 برانزمجموعی طور پر 178 میڈلزجیت کر مائی کلاچی ٹرافی اپنے نام کرلی حیدرآباد نے 15 گولڈ،61 سلور،46 برانزمیڈل کے ساتھ دوسری۔سکھر 12 گولڈ۔20 سلور،51 برانز میڈلز کے ساتھ تیسری میرپورخاص نے 7 گولڈ۔18 سلور اور 43 برانز میڈلز کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی،شہیدبینظیرآباد پانچویں اورلاڑکانہ کو چھٹی پوزیشن ملی،مردوں کے29ایونٹس میں کراچی نے 22میں گولڈ میڈل جیتا، سکھر نے کوڈی کوڈی، ملھ، ونجھ وٹی ، ار شوٹنگ، لاڑکانہ نےٹی ٹوئنٹی کر کٹ،ویٹ لفٹنگ،اور حیدر آباد نے ریسلنگ میں گولڈ میڈل جیتا، خواتین کےتمام17ایونٹس کراچی نے جیت کر اپنی حکمرانی قائم کی،ایشا عفان نے پانچ گولڈ میڈل کے ساتھ بہترین کھلاڑی اور بہترین خاتون ایتھلیٹ کا اعزاز حاصل کیا، کراچی کے ارباب تنولی نے بہترین مرد ایتھلیٹ کا اعزاز اپنے نام کیا، گیمز کی بہترین کھلاڑی ایشا عفان نے ایونٹ کے ایتھلیکٹس مقابلوں میں پانچ گولڈ میڈلز جیتے، 13سالہ عفان نے 100,200,400,4X4, 4X100 مقابلوں میں یہ میڈلز اپنے گلے کی زینت بنائے۔ گورنر سندھ محمد زبیر نے پاکستان اسپورٹس سینٹر میں ان کھیلوں کا افتتاح کیا، جبکہ اسی سینٹر میں کھیلوں کے اختتام پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے انعامات تقسیم کئے، انہوں نے کراچی کے چیف ڈی مشن آ صف عظیم کو ٹرافی دی جبکہ دیگر انعامات تقسیم کئے، اس موقع پر صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر اور سکریٹری کھیل ڈاکٹر نیاز عباسی نے خطاب کیا،ان کھیلوں کے دوران سوائے میڈیا کمیٹی کے جو آ صف عظیم کی سربراہی میں کام کررہی تھی کار کردگی بہتر نظر آئی ، جبکہ انتظامی کمیٹی اور دیگر کمیٹیوں کی پر فار منس خاصی مایوس کن دکھائی دی، کھلاڑیوں کی کسی کو فکر نہیں تھی، ایتھلیکٹس کے ایونٹ میں جو صورت حال سامنے آئی وہ ہر اعتبار سے افسوس ناک تھی ، ہائی مپ مقابلے میں کھلاڑیوںنے اپنی جان خطرے میں دال کر حصہ لیا، ایک کھلاڑی شہریار پھٹے ہوئے گدوں کے درمیان گر کر زخمی بھی ہوا، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سندھ کے وزیر کھیل نے اس واقعہ کی تمام ذمے داری وفاق پر ڈال دی،18ویں ترمیم کے بعد کھیلوں کی وزرات صوبوں کو منتقل کردی گئی تھیں جس کے تحت ہر صوبے میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کے تحت قائم پاکستان اسپوٹس سینٹر بھی صوبوں کے ماتحت ہوگئے تھے، اور ان کے ملازمین بھی صوبائی حکومتوں کے ہوگئے تھے، مگر سندھ کی حکومت نے اپنے موجودہ دور میں اس سینٹر کو اپنی تحویل میں لینے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا،سندھ گیمز کے دوران ایتھلیٹکس ایونٹ میں ناکارہ گدے کے استعمال کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد صوبائی وزیر کھیل نے اس کی تمام ذمے داری وفاق پر ڈال دی،جس پرپاکستان اسپورٹس بورڈ کے ترجمان نے سندھ گیمز کے دوران انتظامی کمیٹی کی نااہلی کا ملبہ پاکستان اسپورٹس بورڈ پہ ڈالنے کی سختی سے مذمت کی ہے سندھ گیمز کے دوران ہائی جمپ کے ایونٹ میں ناقص گدوں کے استعمال سے کھلاڑیوں کو خراش آئی تھی جس پرصوبائی وزیر کھیل غوث محمدبخش مہر نے کہاتھا کہ یہ سامان پاکستان اسپورٹس بورڈ کا ہے جووفاق کے زیرانتظام ہے۔

سندھ گیمز: تنازعات، مشکلات، شکایات اور احتجاج سے بھرپور ہے
سندھ گیمز میں خواتین کی 100میٹر ریس میں کراچی کی ایشا عرفان پہلی پوزیشن پر آرہی ہیں

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ایک اہم عہدے دار نے کہاہے کہ یہ ہائی جمپ کے دوران استعمال ہونے والے گدے سائٹ سے پھٹے ہوئے ضرور تھے مگرمقابلوں کے لیے قابل استعمال تھے ایونٹ کے دوران ٹیکنیکل کمیٹی نے گدوں کو صحیح طریقے سے تربیت نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے ان کے درمیان خلاپیداہوگیا تھا ترجمان نے کہاہے کہ ہرمسئلہ پر پاکستان اسپورٹس بورڈ کو تنقید کا نشانہ بناناآسان ہے جبکہ سندھ کے وزیرکھیل نے اپنی انتظامی اور سامان کمیٹی کی نااہلی کو چھپانے کے لیے پی ایس بی کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ نیشنل کوچنگ سینٹر وفاق کے زیرانتظام ہونے کے باوجود سندھ گیمز کے لیے اس سینٹر کو صوبائی محکمہ کھیل کومفت فراہم کیا گیاابتدائی اختتامی تقریبات اور ایتھلیٹکس ایونٹ کے دوران محکمہ کھیل سے کوئی چارج نہیں لیا گیا۔ یہ بات دل چسپ ہے کہ سندھ گیمز کی افتتاحی اور اختتامی تقریب میں پاکستان اسپورٹس سینٹر کے ڈائریکٹر رفیق پیرزادہ کو مدعو بھی نہیں کیا گیا، دوسری جانب کے پی کے، پنجاب اور بلوچستان میں صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے صوبے کے صوبائی اسپورٹس سینٹر کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے، مگر سندھ حکومت نے اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ اختتامی تقریب میں صوبائی وزیر کھیل نے کہاکہ ان کھیلوں کے دوران چھوٹی موٹی شکایات تھی ، کسی کو یہ بات کب سمجھ میں آئے گی کہ کھیلوں کو رونق بخشنے والے کھلاڑیوں کو ملک میں کھیلوں کے منتظمین کب اہمیت دیں گے، جن کے دم اور پر فار منس سے ہی کسی بھی ایونٹ میں جان پڑتی ہے،سخت گرمی اور دھوپ میں کھلاڑی پانی اور جوس کے لئے ترستے رہے،سائیکلنگ ایونٹ کے علاوہ ہر مقابلے میں کھلاڑیوں کو پانی کے حوالے سے شکایت رہی، اختتامی تقریب میں آنے والے مختلف دستوں کے کھلاڑیوں کو پاکستان اسپورٹس سینٹر میں داخل ہونے میں دشواری کا سامنا رہا، کئی ایک کو اندر جانے سے روک دیا گیا جس پر انہوں نے احتجاج کیا، چار کروڑ60لاکھ روپے مالیت کے ہونے والےسندھ گیمز اپنے اختتام پر بھی انتظامات کے حوالے سےدرسٹ ٹریک پر نہ آ سکے، ہفتے کو بھی کھلاڑیوں کی جانب سے شکایت جاری رہی، پاکستان اسپورٹس کوچنگ سینٹر کراچی میں ہونے والے ایتھلیکٹس ایونٹ کے دوران کھلاڑیوں کو دوا کے استعمال کے لئے پانی بھی دستیاب نہیں تھا، ایک کھلاڑی کے زخمی ہونے پر ڈاکٹر پرویز رضوی کھلاڑی کو کھلانے کے لئے دوا ہاتھ میں لئے بیٹھے رہے مگر کسی بھی کھلاڑی کے پاس پانی کی بوتل موجود نہیں تھی،جس پر باہر سے ایک کھلاڑی پانی کی بوتل خرید کر لایا۔

سندھ گیمز: تنازعات، مشکلات، شکایات اور احتجاج سے بھرپور ہے
سندہ گیمز میں مردوں کی 100میٹر ریس میں کراچی کے اسامہ سلطان پہلی پوزیشن پر آرہے ہیں

 بعض کھلاڑیوں نے شکایت کی کہ انہیں جیت پر جو میڈل دئیے گئے ہیں اس کی کوالٹی حددرجہ ناقص ہے، ایک کھلاڑی نے انکشاف کیا کہ ہاتھ سے دبانے پر اس کا میڈل ٹوٹ گیا،کبڈی مقابلے کے دوران کھلاڑیوں میں لرائی ہوگئی اور معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا، مگر کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔ میڈیکل ٹیم کو گیمز کے چاروں روز اپنی جیب سے کھانے پینے کی اشیاء خریدنی پڑی۔پورے گیمز کے دوران کھلاڑیوں کی شکایت کم نہ ہوسکی،میڈلسٹ کھلاڑیوں کو دئیے جانے والے سرٹیفکٹ پر ڈویژن اور پوزیشن کا ذکر نہیں ہے جس پر ایونٹ کے آرگنائزر ہاتھ سے پوزیشن اور ڈویژن کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کے نام بھی قلم سے لکھ رہے ہیں، جدید دور میں ہونے والے مقابلے میں کھلاڑیوں کوکمپیوٹرائز سرٹیکٹ جاری کئے جاتے ہیں مگر پاکستان میں کھیلوں کے منتظمین آج بھی پرانے دور سے گذر رہے ہیں۔میڈیا اور دیگرذمے داروں کے کارڈ بھی آخری وقت تک نہ بن سکے جبکہ گیمز کی جو کتاب شائع کی گئی تھی اس میں بھی خاصی خامیاں تھیں، اختتامی تقریب تاخیر سے شروع ہونے کی وجہ سے سندھ کے مختلف دستوں کے کھلاڑیوں کو اپنے اپنے شہر جانے کے لئے دشواری اٹھانا پڑی، کھلاڑیوں اور آفیشلز نے واپسی کے لئےکوچ اور بسیں بک کرائی تھی، جس کی وجہ سے اننہیں گاڑی کے مالکان کو زائد رقم دینا پڑی۔ سندھ گیمز میںلاڑکانہ کی چھٹی اور آخری پوزیشن پر لاڑکانہ کے کھیلوں کے حلقوں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ان کھیلوں میں حصہ لینے والے زیادہ تر کھلاڑیوں اور آفشلز کا تعلق لاڑاکانہ ڈسٹرکت تھا، ڈویژن کے کھلاڑیوں اور آفشیلزکو نظر انداز کیا گیا، ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کا انتخاب میرٹ کے بجائے پسند اور ناپسند کی بنیاد پر کیا گیا، کھیلوں کے حلقوں نے پی پی کے چیئرمیں بلاول بھتو، وزیر اعلی سندھ سے اس معاملے کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ 

 
سندھ گیمز: تنازعات، مشکلات، شکایات اور احتجاج سے بھرپور ہے
ٹیبل ٹینس میں گولڈ میڈل جیتنے والی حور فواد

جبوری طور پر سامنے آنے والی شکایات کے باوجود کم از کم سندھ کے محکمہ کھیل کو اس بات کا کریڈٹ ضرور ملنا چاہئے کہ اس نے چھ سال بعد ان کھیلوں کا انعقاد کیا ، جو شکایات اور خامیاں سامنے آئی ہیں وہ اسی کا نتیجہ ہے کہ گیمز کے انعقاد میں طویل عرصے کا وقفہ آگیا جس کی وجہ سے تیاری اور اسے بہتر انداز میں منعقد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، اب وقت آگیا ہے کہ صوبے میں کھیلوں کے منتظمین 17ویں گیمز کے دوران جو ناخوش گوار باتیں اور واقعات سامنے آئے اس کا نیک نیتی اور باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور مستقبل میں کسی بھی بڑے مقابلوں کی میزبانی اس انداز میں کی جائے کہ صرف چھوتی موتی شکایات ہی میڈیا کی زینت بن سکے اور مقابلون کی جان کھلاڑیوں کو اس بات کا احساس ہوسکے کہ ان کی اہمیت کو سمجھ لیا گیا ہے، صوبائی محکمہ کھیل کو اپنی مختصر مدت کے دوران ہی ان لوگوں کا احتساب کرنا چاہئے جو سندھ گیمز کے دوران محکمہ کھیل کی بدنامی کا باعث بنے تاکہ آنے والے وقتوں میں صورت حال بہتر ہوسکے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سندھ نے قومی سطح پر اصلاح الدین، جہانگیر خان، حنیف خان، جاوید میاں داد، ظہیر عباس اور دیگر کھیلوں کے نامور کھلاڑیوں کو جنم دیا جنہوں نے قومی اور انٹر نیشنل سطح پر ملک کا نام روشن کیا، ان کھلاڑیوں کی خدمات سے بھی مستقبل میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، سندھ گیمز سے ایشیا عفان اسامہ سلطان، ایتھلیکٹس، ٹیبل ٹینس میں نو سالہحور فواد جیسی کھلاڑی سامنے آئی ہیں جن کو آنے والے وقتوں کے لئے قومی گیمز کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے، دیگر کھیلون میں بھی اچھے نتائج کے لئے سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں