آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
الیکشن ایکٹ کی خامی، ووٹروں کی تفصیلات کے غلط استعمال کا خدشہ

آئندہ عام انتخابات کا ایک انتہائی پر خطر پہلو یہ ہے کہ ملک کے 18؍ سال سے زائد کے مرد و خواتین شہریوں کی تصاویر اور ان کا ذاتی ڈیٹا غیر محفوظ ہو چکا ہے اور اس کا ممکنہ طور پر غلط استعمال ہو سکتا ہے۔ باخبر سرکاری ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017ء میں ایک بہت بڑی غلطی کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے ملک بھر کے ووٹروں کی فہرست انتہائی حد تک غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ ان ذرائع نے الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن (3)79 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس میں سنگین خامی ہے۔ سیکشن 79؍ حتمی انتخابی فہرستوں کی فراہمی کی بات کرتا ہے اور اس میں لکھا ہے کہ (۱) الیکشن کمیشن ریٹرننگ افسر کو ہر حلقے کی انتخابی مقامات کے مطابق حتمی انتخابی فہرستیں فراہم کرے گا، (۲) ریٹرننگ افسر ہر پولنگ اسٹیشن کے پریزائڈنگ افسر کو حتمی انتخابی فہرست کی نقول فراہم کرے گا جس میں متعلقہ پولنگ اسٹیشن میں ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کے نام شامل ہوں گے (۳) امید وار یا اس کے الیکشن ایجنٹ کی درخواست پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر یا ان کی جگہ پر کوئی مجاز افسر اُس امیدوار یا اس کے الیکشن ایجنٹ کو

شائع شدہ فہرست (ہارڈ کاپی) اور کمپیوٹر پر دیکھی جانے والی (سرچ ایبل سافٹ کاپی) یو ایس بی میں پی ڈی ایف فائل کی صورت میں یا دوسرے کسی نا قابل ترمیم طریقے سے فراہم کرے گا جس میں ووٹروں کی تصاویر شامل ہوں گی اور اس طرح یقینی بنایا جائے گا کہ یہ وہی نقل ہے جو ریٹرننگ اور پریزائیڈنگ افسران کو فراہم کی گئی تھی۔ فہرست میں 10؍ کروڑ 40؍ لاکھ ایسے ووٹروں کی معلومات شامل ہیں جو آئندہ عام انتخابات برائے 2018ء میں ووٹ ڈالیں گے۔ سائبر سیکورٹی ماہر کے مطابق پاکستانی شہریوں کی ان کی تصایر کے ساتھ شناخت کے حوالے سے دیکھا جائے تو 10؍ کروڑ 40؍ لاکھ ووٹروں کا ڈیٹا، جو دراصل نادرا کے ڈیٹابیس سسٹم سے حاصل کیا گیا ہے، عام آدمی کے حوالے کرنا تباہی کی ترکیب ہے۔ ووٹروں کے ڈیٹا سے بھری سافٹ کاپی فائل کی باآسانی نقول بنائی جا سکتی ہیں اور انہیں ایک ہی بٹن دبا کر مختلف مقامات پر بھیجا جا سکتا ہے نتیجتاً قومی اثاثوں، جیسا کہ سول رجسٹری اور ووٹروں کے ڈیٹابیس، کو زبردست نقصان ہو سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتیں یہ ڈیٹابیس الیکٹرانک یا ڈیجیٹل شکل میں حاصل کر لیں گی اور اپنی ویب سائٹس یا کمپیوٹر سرور پر اسے جاری کر دیں گی۔ ایک ذریعے نے خبردار کیا کہ ہیکرز کیلئے یہ ایسی چیز ہوگی جسے وہ ممکنہ طور پر با آسانی ہدف بنا سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن (3)79 کو منسوخ کر دینا چاہئے تھا تاکہ شہریوں کا پبلک ڈیٹابیس نہ بنایا جا سکے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ 2016ء میں امریکی صدارتی الیکشن کے دوران ہیکرز امریکی ووٹروں کے ڈیٹابیس پر حملہ کر چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے کامیابی کے ساتھ فرانسیسی اور جرمن الیکشن کے دوران بھی کامیاب کوششیں کیں۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ بنیادی ہدف مقامی و قومی سیاسی جماعتوں کا ووٹر ڈیٹابیس تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا صارفین کے فیس بک، ٹوئٹر اکائونٹس پر بھی حملہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ہیکرز کی جانب سے پاکستان کے آن لائن کمپیوٹر سرورز پر کوششیں کی جا رہی ہیں اور غیر معمولی انٹرنیٹ ٹریفک دیکھنے کو ملا ہے۔ حال ہی میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ آن لائن ٹیکسی سروس کریم کے ڈیٹا بیس پر ہیکرز نے حملہ کیا جس کی وجہ سے ایک کروڑ 40؍ لاکھ صارفین شہریوں کا ڈیٹا اور ڈرائیورز کی تفصیلات چوری ہوگئیں۔ بدتر بات یہ ہے کہ درجنوں کریڈٹ کارڈز کا ڈیٹا بھی ہیکرز نے چوری کر لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ہم الیکشن کے قریب ہوتے جا رہے ہیں، ہیکنگ کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جائیں گے، ضرورت اس بات کی ہے کہ آئی ٹی کے سرکردہ ماہرین مل بیٹھیں اور قومی سطح پر ایک حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ ہیکرز کے ممکنہ حملوں کو روکا جا سکے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں