آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آسماں بھی کیسے کیسے رنگ بدلتا ہے کوئی سوچ سکتا تھا کہ اعتزاز احسن جیسی شخصیت مجبور ہوجائے گی کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہو جائے ۔اگرچہ وہ ابھی پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوئے مگر ان پر فیملی اوراحباب کا جتنا دبائو ہے ۔اسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ انہیں یہی فیصلہ کرنا ہوگا ۔میں اُس وقت حیران و ششدررہ گیا جب نون لیگ کی ایک اہم شخصیت کہیں کہہ رہی تھی کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال بھی تحریک انصاف میں شامل ہونے والےہیں ۔خوشاب اور میانوالی سے بھی دو اہم لوگ پی ٹی آئی میں جانے والے ہیں۔ یقیناًتحریک انصاف کا آسمان نئے آنے والے کبوتروں کے رنگوں سے کانسی ہوتا جارہا ہے ۔ سیاسی کارکن جوق در جوق نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو چھوڑ چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں ۔
اوپر سے ’’نواز شریف نے بھی کہہ دیا ہے کہ ’’اوپر ‘ کے حکم سے لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں ۔ اِس ’’اوپر ‘‘ کا مفہوم آسمان لیا جائے یا اسٹیبلشمنٹ۔ ’’اوپر ‘‘ سےلوگوں کو یہ بات بتائی گئی ہے کہ اگلی حکومت عمران خان کی ہو گی اور سیاسی لوگ پاکستانی سیاست میں اس لئے آتے ہیں کہ حکومت میں شامل ہوں کیونکہ یہاں نظریہ وغیرہ تو کوئی رہا ہی نہیں ۔جب بقول ندیم افضل چن بلاول بھٹو نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ نظریاتی نہیں ہے تو پھر نظریہ کہاں رہ

گیا ۔ہاں آج کل پاکستان میں پاکستان مخالف نظرئیے پر بہت کام ہورہا ہے ۔ منظور پیشین کے پس منظر میں بھی نون لیگ کا اچکزئی گروپ ہے ۔ کیسی عجیب بات ہے کہ نون لیگ کے اچکزئی گروپ میں خود نواز شریف ہی نہیں اسفند یارولی خان اور مولانا فضل الرحمٰن بھی شامل ہیں ۔اللہ خیر کرے الیکشن سے پہلے اور نگران حکومت کے دور میں بلوچستان میں اچکزئی، پختونخوا میں اے این پی اور پنجاب میں ن لیگ احتجاجی تحریک شروع کر سکتی ہے۔ امکان ہے کہ یہ کام نگران حکومت کے دورمیں شروع ہوگا ۔اسحاق ڈار تو چاہتے ہیں کہ تحریک ابھی سے شروع کر دی جائے کیونکہ وہ موجودہ حکومت سے بہت سخت ناراض ہیں کہ اُس نے ابھی تک نیب کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔نہ ہی پارلیمنٹ نے نیب کے خلاف کوئی بل پاس کیا ہے ۔لندن میں اسحاق ڈار اور نواز شریف کے درمیان اس موضوع پر تفصیلی میٹنگ ہوئی ہے ۔جس کو چیف جسٹس نے ’’مفرور سے ملاقات‘‘ کا عنوان دیا ہے ۔بے شک اس وقت پاکستان کےلئے چیف جسٹس آف پاکستان کسی نعمت سے کم نہیں انہی کی بدولت معاملات میں بہتری آ رہی ہے ۔ایک درخواست میں بھی ان کے حضور کرتا چلوں ۔پاکستان کے ثقافتی و علمی امیج کی رونمائی کے لئے سفارت خانوں کے اربابِ اختیار کے ساتھ ساتھ مختلف یونیورسٹیوں اور اداروں میں پاکستان چیئرز پر پروفیسرز تعینات کئے جاتے ہیں پچھلے دنوں اس سلسلے میں ایچ ای سی نے اشتہار دیا پھر ایک سلیکشن کمیٹی بھی بنائی گئی جس میں بڑے بڑے سیاست دان بھی شامل تھے انٹرویو بھی ہوئے چودہ لوگوں کا انتخاب بھی ہو گیا مگر چونکہ اس میں کسی سفارش کو نہیں مانا گیا اس لئے یہ فائل وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں روک دی گئی ۔
ایک اطلاع کے مطابق پنجاب حکومت نےانتیس اپریل کو لاہور میں ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے کو ناکام بنانے کےلئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں ۔لگ رہا ہے کہ یہ جلسہ لاہور کی تاریخ کا بہت ہی اہم جلسہ ہوگا ۔اس سلسلے میں کارنر میٹنگزشروع ہوچکی ہیں۔جلسے سے پہلے ریلیاں اور مشعل بردار جلوس نکالنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ایک امکان یہ بھی ہے کہ اس جلسے میں پنجاب بھر سے کارکنوں کو شرکت کےلئے کہا جائےگا بلکہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ یہ چاہ رہے ہیں کہ اس میں پورے پاکستان سے لوگوں کو بلایا جائے تاکہ یہ جلسہ ایک نئے دور کی تمہید قرار دیا جا سکے ۔یقیناً اس جلسے میں بھی کئی اہم شخصیات پی ٹی آئی میں شمولیت کااعلان کریں گی۔ خاص طور پر اندرون لاہور کی اہم شخصیات ۔
بہر حال کانسی کبوتروں کی اڑانوں سے تحریک انصاف کے آسمان پر رنگ پھیلتے چلے جا رہے ہیں ایک مسحور کن منظر آنکھوں کے سامنے ہے آخر کار پاکستان کی سر بلندی کی ساعتیں قریب تر آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک نیا پاکستان تخلیق ہونے جا رہا ہے ۔ کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو پہلے پیپلز پارٹی یا نون لیگ میں تھے ان کی شمولیت سے نیا پاکستان کیسے بنے گا تو ان کے لئے عرض ہے کہ ان دونوں جماعتوں کو ووٹ دینے والے لوگ پاکستانی تھے انہیں کسی نہ کسی حد تک عوامی سپورٹ حاصل تھی اب وہ سپورٹ پی ٹی آئی کی طرف جارہی ہے ۔اب لوگوں کو یقین ہو چلا ہے کہ عمران خان نے جو خواب دیکھا تھا وہ تعبیر کےقریب ہے اور جب آدمی کا یقین غیر متزلزل ہو جاتا ہے تو پھر ساری کائنات اس کے ساتھ چل پڑتی ہے ۔اس کی مدد کےلئے ۔اس وقت عمران خان کے ساتھ عوام بھی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ بھی ۔دونوں کو یقین ہو چکا ہے کہ اس ملک کا نجات دہندہ عمران خان ہی ہے ۔
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں