آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ22؍ربیع الاوّل 1441ھ 20؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

جمعرات کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف کو آئین کی شق 62۔ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیدیا جس کے بعد ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم ہوگئی اور وہ وزیر خارجہ کے عہدے سے محروم ہوگئے۔ بعض تجزیہ کار اس فیصلے کو مسلم لیگ (ن) کیلئے دھچکے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ بعض دوسرے مبصرین کے نزدیک اس میں حکمران جماعت کیلئے فوائد کے پہلو مضمر ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل 3رکنی بنچ نے 35صفحات پر مشتمل فیصلے کے آخری پیراگراف میں جو آبزرویشن دی وہ مقدمے کے فریقین، سیاستدانوں اور عام لوگوں کو ضرور سامنے رکھنی چاہئے ’’ہم نے بھاری دل کیساتھ یہ فیصلہ سنایا ہے، نہ صرف اس لئے کہ ایک منجھا ہوا سیاستداں نااہل ہوا بلکہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ ووٹروں کی امیدوں اور خوابوں کو بھی ٹھیس پہنچی ہے‘‘۔ خواجہ آصف کے صادق اور امین نہ رہنے کی جو وجوہ تحریر کی گئیں انکے مطابق کاغذات نامزدگی میں اقامہ اور نوکری کا معاہدہ ظاہر نہیں کیا گیا، دانستہ ’کاروبار‘ لکھ کر ملازمت کا معاہدہ چھپایا گیا جو مہلک تھا، کابینہ میں اہم عہدے پر فائز ہونے کے باوجود غیر ملکی کمپنی کی کل وقتی ملازمت سے مفادات کا ٹکرائو واضح ہے۔ خواجہ آصف کے بارے میں

مذکورہ فیصلہ آنے کے بعد جو حلقے مزید نااہلی کے فیصلے آنے کی قیاس آرائیاں کر رہے ہیں انہیں فاضل ججوں کے ان ریمارکس پر ضرور غور کرنا چاہئے جن کا لب لباب یہ ہے کہ سیاسی قوتیں سیاسی سطح پر مسائل حل کرنے کی بجائے عدالت کا رخ کرتی ہیں تو اس کے اثرات اداروں اور عوام دونوں پر پڑتے ہیں۔ سیاسی معاملات عدالتوں میں جانے سے دیگر مقدمات میں فیصلوں کے منتظر سائلین کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔ خواجہ آصف کے پاس ابھی سپریم کورٹ میں اپیل کا ایک آپشن موجود ہے۔یہ بات بہر طور ملحوظ رکھنے کی ہے کہ اگرچہ عدالتی فیصلوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر اس کے اظہار میں عدلیہ کے احترام کا پہلو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔