آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مغل بادشاہ شاہ جہاں کو جب اس کے بیٹے عالمگیر نے فضول خرچیوں اور کمزور حکومتی اقدامات پر معزول کرکے شاہی قید خانے میں رکھا تو داروغہ زندان نے معزول بادشاہ سے پوچھا کہ جیل میں آپ کیا کھانا پسند کرینگے اور آپ کے مشاغل کیا ہونگے ۔شاہ جہاں نے کہا کہ مجھے کھانے میں چنے اور مشاغل کیلئے بچوں کو پڑھانا چاہتا ہوں ۔داروغہ کی سمجھ میں نہیں آیا اس نے آکر اورنگ زیب عالمگیر کو بتا یا تو اُس نے کہا کہ جیل میں بھی بادشاہی کی خو نہیں گئی یعنی اناجوں کا بادشاہ چنا ہوتا ہے جو سو طریقہ سے پکایا اور کھایا جاسکتا ہے ۔اور پڑھانے سے مراد اُستادکی حاکمیت سے ہے ۔کیونکہ اُستاد ہمیشہ حکم دیتا ہے جو بادشاہوں کا وطیرہ ہے ۔میرے خیال میں معزول وزیراعظم نواز شریف نے بھی جب جیل گئے تھے تو اپنے آپ کو مسلم لیگ کی صدارت سے ایک لمحہ بھی دُور رہنے کی بجائے اپنی بادشاہت قائم رکھی تھی ۔اور اتنی طویل سزا سننے کے بعد بھی کسی کو قائم مقام صدر نہیں بنایا تھا ۔اور اب بھی جب اُن کو معزول کیا گیا تو تب بھی انہوں نے اپنی صدارت برقرار رکھی مگر بدقسمتی سے سپریم کورٹ نے اُن کو اس سے بھی محروم کردیا ۔اب وہ مسلم لیگ کے صدر بھی نہیں مگر اب بھی اپنی بادشاہت قائم کئے ہوئے ہیں۔مجبوراً اُن کو مسلم لیگ ن کی صدارت کا عہدہ اپنے بھائی شہباز شریف کو دینا پڑا۔

حالانکہ اُن کی کوشش تھی کہ یہ عہدہ اپنی بیٹی مریم نواز کو دے دیں ۔جو سربراہ خود اپنی پارٹی میں جمہوری عمل سے روگردانی کرے اس کوملک میں جمہوریت کا گلا گھوٹنے کا الزام لگانا کچھ زیب نہیں دیتا۔یہاں میں میاں شہباز شریف کے اس مشورے کا نہ صرف زبردست حامی ہوں بلکہ داد بھی دیتا ہوں کہ انہوں نے فوج سے محاذآرائی اور کشیدگی کم کرنے کا کہا اور ساتھ ساتھ عدالتوں سے بھی نہ الجھنے کا مشورہ دیا ۔میاں صاحب کے اپنے بیانیے پر عمل کرنے سے آہستہ آہستہ اُن کے ایم این اے اور ایم پی اے مسلم لیگ ن سے علیحدہ ہورہے ہیں ۔نواز شریف کہہ رہے ہیںکہ میں جیل جانے کے لئے تیار ہوںاور اس سے زیادہ ہنسی کی بات یہ کہی کہ اب پارٹی کارکن قربانی دینے کے لئے تیار ہوجائیں ۔گویا اقتدار کے مزے میاں صاحب کی فیملی اور ان کے چہیتے اُڑائیں اور قربانی بے چارے کارکن دیں ۔میاں صاحب نے اپنے تمام ادوار میں کارکنوں کو کیا دیا تھا جو وہ ان کے لئے باہر نکلیں اور پولیس کی لاٹھی کھائیں یہ تو وہی بات ہوئی کہ2 دوست جنگل میں جارہے تھے راستے میں ایک پوٹلی پڑی تھی ایک دوست نے اس کو اُٹھالیا ،دیکھا تو اس میں قیمتی اشیاء اور سونا تھا ۔دوسرے دوست نے کہا کہ آئو اس کو آدھا آدھا بانٹ لیتے ہیں ۔پہلے دوست نے کہا کہ پوٹلی میں نے اُٹھائی ہے لہذا میں ہی حقدار ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ نشاندہی میں نےکی تھی لہذا میں اس میں آدھا شریک ہوں ۔مگر پہلے دوست نے کہا کہ بٹوارہ ممکن نہیں ہے یہ میری ملکیت ہے ۔دوسرا دوست چپ ہوکر رہ گیا کیونکہ پہلےوالا دوست تگڑا بھی تھا اور مطلبی بھی ۔خیر آگے بڑھے تو چند آدمیوں کی باتوں کی آوازیں آرہی تھیںدیکھا تو اس پوٹلی کا مالک اور چند پولیس والے اس کی تلاش میں آرہے تھے تو پہلے نے جو پولیس والوں کو دیکھاتو اُس نے کہا کہ یار ہم پھنس گئے ہیں ۔دوسرے نے جواب دیاکہ یہ نہ کہو کہ ہم پھنس گئے ہیں بلکہ یہ کہوکہ میں پھنس گیا ہوں ۔لہذا میاں صاحب کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مصیبت ان پر آئی ہے نہ کہ کارکنوں پر ۔لہذا اس مصیبت پر خود ہی قربانی دیں ۔یہ بیچارے کارکن اور پانی پینے والے مسلم لیگی قائدین جن کو کچھ نہیں ملا وہ کیوں قربانی دیں ۔آواز ان دودھ پینے والے مسلم لیگی قائدین اور خوشامدیوں کو دیں جنہوں نے باربار اقتدار کے مزے لوٹے اور آپ کی بار بارخوشامد کرکے آپ کو اس حال تک پہنچایا ۔مجھے تو بعض مسلم لیگیوں پر ترس بھی آتا ہے جنہوں نے ایام اقتدار میں صرف قربانیاں ہی دیں اور آج بھی وہ مسلم لیگ کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں ۔کیونکہ وہ مسلم لیگ سے واقعی مخلص تھے اور آج بھی ہیں ۔ابھی بھی وقت ہے مسلم لیگ کو بحران سے نکالنے کے لئے اور میاں صاحبان کی مصیبتوں کو کم کرنے کے لئے مخلص قائدین کو آگے لایا جائے کیونکہ مسلم لیگ میں سب کرپٹ نہیں ہیں ۔سیاست کی بساط میں ہمیشہ فتح کا خواب نہیں دیکھا جاتا ہے ۔ شطرنج کی طرح بازی ہاری بھی جاتی ہے اور ہاری ہوئی بازی جیتی بھی جاتی ہے۔خودبقول میاں نواز شریف کے ہم نے بہت سی غلطیاں کی ہیں ۔تو میرا مشورہ یہی ہے کہ ان غلطیوں کو پھر نہ دہرایا جائے ۔کل ہی میاں صاحب کے دیرینہ ساتھی اور وزیرخارجہ خواجہ آصف کو بھی دبئی کی ملازمت چھپانے اور اقامہ تسلیم کرنے پر تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے ۔چوہدری نثار علی خان بھی عرصہ 6ماہ سے مسلم لیگ کے کسی اجلاس میں شرکت نہیں کررہے ہیں ۔اور وہ سخت ناراض ہیں گزشتہ چند دنوں میں میاں شہباز شریف اُن سے4 مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔دو وز قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنی 5سالہ حکومت کا آخری اقتصادی سروے2018جاری کردیا ہے ۔جس میں حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ معیشت کو بحران سے نکال لیا ہے۔ مہنگائی میں بھی کمی کردی گئی ہے، بجلی وافر مقدار میں پیداکرکے توانائی کے بحران پر بھی قابو پالیا گیا ہے۔ اگر بجلی بحران پر قابو پالیا گیا ہے تو پھر پاکستان بھر میں لوڈشیڈنگ کیوں کی جارہی ہے ۔حکومت نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو جڑ سے اُکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے ۔یہاں میں پھر ذکر کروں گا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کم ہوگئی ہے مگر ابھی تک اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا ۔میں چیف آف آرمی اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے پروفیشل انداز میں دہشت گردوں کو ختم کردیا ہے اور مزید کارروائیاں کررہے ہیں ۔دوسری جانب نااہلی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے شیخ رشید بھی چپ ہوگئے ہیں کیونکہ اُن کی نااہلی کے بارے میں فیصلہ بھی آنے والا ہے ۔اور اس کے بعد وزیرداخلہ احسن اقبال کی بھی باری آنے والی ہے ۔بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری بھی خاموش ہوگئے ہیں ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں