آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2مئی 2011ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا وہ بدنما داغ اور زخم ہے جو شاید کبھی مندمل نہ ہوسکے۔ اس سانحہ کو سقوط ڈھاکہ کے بعد ملکی تاریخ کا دوسرا بڑا سانحہ قرار دیا جاتا ہے اور یہ وہ سیاہ دن ہے جو ہمیں اپنی رسوائیوں اور ناکامیوں کی ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا۔ آج سے 7 سال قبل 2 مئی کو امریکی کمانڈوز رات کی تاریکی میں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ایبٹ آبادکے کنٹونمنٹ ایریا میں داخل ہوئے اور اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ میں گھس کر اُسے خفیہ آپریشن میں ہلاک کردیا، ہماری آنکھ اُس وقت کھلی جب امریکی فورسز اسامہ بن لادن کی لاش اور کمپائونڈ سے ملنے والا تمام مواد اپنے ساتھ لے کر افغانستان روانہ ہوگئے۔
گزشتہ دنوں امریکی سی آئی اے نے 2 مئی 2011ء کی رات ہونے والے اس آپریشن کی کہانی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری کی جس میں بتایا گیا کہ ایبٹ آباد آپریشن سے قبل طویل عرصے تک اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کی ریکی کی گئی، آپریشن کی منظوری سی آئی اے ڈائریکٹرلیون پنٹا اور چیئرمین جوائنٹ چیفس نے رات ایک بجکر 25منٹ پر دی جس کے بعد ایک بجکر 51 منٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز نے افغانستان سے پاکستان کی طرف پرواز کی اور 3 بجکر 30 منٹ پر ہیلی کاپٹرز ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپائونڈ پہنچے، رات 3 بجکر 39 منٹ پر اسامہ بن لادن کو کمپاؤنڈ کی

تیسری منزل پر فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا، 3 بجکر 53 منٹ پر اسامہ کی شناخت کی تصدیق کی گئی، 4 بجکر 5 منٹ پر پہلا ہیلی کاپٹر اسامہ کی لاش لے کر افغانستان روانہ ہوا جبکہ 4 بجکر 10 منٹ پر بیک اپ ہیلی کاپٹرز آپریشن ٹیم اور کمپائونڈ سے ملنے والا مواد لے کر افغانستان روانہ ہوئے، اس طرح 5 بجکر 53 منٹ پر پوری ٹیم افغانستان لینڈ کرگئی جہاں امریکی ایڈمرل مک راون نے اُن کا خیر مقدم کیا۔ اس تمام صورتحال کی امریکہ میں موجود اعلیٰ حکام مانیٹرنگ کرتے رہے اور صبح 7 بجکر ایک منٹ پر امریکی صدر باراک اوباما نے اسامہ بن لادن کی شناخت کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی تقریر میں ایبٹ آباد آپریشن کی کامیابی اور اسامہ کی ہلاکت کا اعلان کیا جس کے بعد ایبٹ آباد آپریشن دنیا بھر میں امریکہ کیلئے باعث فخر بن گیا۔
اس سال 2 مئی کا دن اس لئے بھی اہمیت اختیار کرگیا کہ جب کچھ روز قبل میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ایبٹ آباد آپریشن کے اہم کردار امریکی ایجنٹ شکیل آفریدی کو پشاور جیل سے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ یاد رہے کہ شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو مدد فراہم کی تھی اور اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کیلئے ایبٹ آباد میں جعلی پولیو مہم چلائی تھی جس کے نتیجے میں امریکہ کو اسامہ تک رسائی حاصل ہوئی اور ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن عمل میں آیا ۔ پاکستانی غدار شکیل آفریدی کو پشاور جیل سے خفیہ مقام پر منتقل کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کیونکہ سیکورٹی ایجنسیز کو کچھ اس طرح کے اشارے ملے تھے کہ امریکہ 2مئی کو ایبٹ آباد آپریشن کی طرز پر آپریشن کرکے شکیل آفریدی کو پاکستان سے نکالنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے جبکہ اس سے قبل کے پی حکومت بھی وفاقی حکومت سے درخواست کرچکی تھی کہ شکیل آفریدی کو پشاور جیل جہاں طالبان اور القاعدہ کے جنگجو بھی اپنی سزائیں بھگت رہے ہیں، سے کہیں اور منتقل کیا جائے کیونکہ طالبان اور القاعدہ کے جنگجوئوں سے شکیل آفریدی کی جان کو خطرات لاحق ہیں ۔ اس طرح سیکورٹی ایجنسیوں کیلئے یہ ناگزیر ہوگیا کہ شکیل آفریدی کو کسی خفیہ مقام پر منتقل کردیا جائے۔
اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور ایبٹ آباد آپریشن میں ہلاکت یقیناًپاکستان کیلئے تضحیک کا سبب بنا جس کے بعد ہمیں اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ ہم اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے واقف نہیں تھے مگر دنیا نے ہماری وضاحت تسلیم نہ کی۔ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد عوامی دبائو پر جسٹس (ر) جاوید اقبال جو آج کل نیب کے چیئرمین ہیں، کی سربراہی میں ایبٹ آباد کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے اپنی رپورٹ مرتب کرکے تمام ذمہ داروں کا تعین کیا اور سفارشات پیش کیں لیکن سقوط ڈھاکہ اور دیگر کمیشن کی طرح ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو بھی منظر عام پر نہیں لایا گیا اور معاملے کو سرد خانے کی نذر کردیا گیا۔
ایبٹ آباد آپریشن کے بعد امریکہ پاکستان سے مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کیا جائے جبکہ گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد شکیل آفریدی کو منٹوں میں پاکستان سے رہائی دلاکر امریکہ لاسکتے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اس بات کو بعید از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ امریکہ اپنے ’’ہیرو‘‘ کو پاکستان سے نکال لے جانے کیلئے کوئی مہم جوئی کربیٹھے۔ یاد رہے کہ پاکستانی عدالت نے مئی 2012ء میں شکیل آفریدی کو غداری کے مقدمے میں 33 سال قید کی سزا سنائی تھی جسے بعد میں کم کرکے 23 سال کردیا گیا اور اس طرح شکیل آفریدی اپنی سزا کے 7 سال گزار چکا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ یہ بات یقینی بنائے کہ شکیل آفریدی کو سزا مکمل ہونے سے پہلے امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے لیکن اگر دبائو میں آکر امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی طرح شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کیا گیا تو یہ پاکستانی عوام کے ساتھ سنگین مذاق ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے ’’ہیرو‘‘ اور پاکستان کے غدار کو بچا لے جانے میں کامیاب ہوسکتا ہے؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں