آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب کوئی معاشرہ زوال پذیر ہوتا ہے تو انحطاط کا سلسلہ ہمہ جہت ہوتا ہے اور ہر شعبہ ہائے زندگی کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔اب دیکھیں ناںوطن عزیز میں سیاست سے صحافت تک دیگر تمام شعبے تو تباہ و برباد تھے ہی مگر سیاسی معماری (Political engineering)کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ۔عصر حاضر کے برعکس عہد رفتہ کے ’’پولیٹیکل انجینئرز‘‘کا کمال ِفن دیکھ کر دل سے اِک ہوک سے اٹھتی ہے اور یہ الفاظ مچل جاتے ہیں کہ ہائے! کیا بلندی تھی ،کیسی پستی ہے ۔سیاسی بندوبست کا آغاز تو قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا مگر ایوب خان نے بنیادی جمہوریت کی بنیادوں پر بغیر کسی نقشے کے ایسی دلنشیں عمارت کھڑی کی کہ دیکھنے والے اس صناعی پر عش عش کر اُٹھے۔ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے سیاستدانوں کو ایک ایک کرکے راستے سے ہٹانے کے بجائے 6000سے زائد افراد کو بیک جنبش قلم ’’ایبڈو‘‘ کے تحت نااہل قرار دیدیا گیا تاکہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔لیکن یہ کم بخت بانسری بھی جانے کس خمیر سے متشکل کی جاتی ہے کہ ’’پولیٹیکل انجینئرز‘‘کی بھرپور کاوشوں کے باوجود چند برس بعد پھر سے بجنے لگتی ہے اور یوں نہ چاہتے ہوئے دیپک راگ چھڑ جاتا ہے۔نئے سرے سے ملک بسانے یعنی نیا پاکستان بنانے کے لئے کنونشن لیگ کا ماسٹر پلان بنایا گیا ۔حسین شہید سہروردی ،خان قیوم

خان ،ایوب کھوڑو اور مولانا بھاشانی جیسے روایتی سیاستدانوں کو ٹھکانے لگانے کے بعدذوالفقار علی بھٹو جیسے پرکشش شخصیت کے مالک پڑھے لکھے نواب زادوں کو متعارف کروایا گیا ۔چونکہ منصوبہ قلیل المدتی تھا اس لئے چند برس بعد ہی اس’’ ہائوس آف ایوب‘‘کے دیوار و در لرزنے لگے اور کسی نقصان سے بچنے کے لئے مزید تعمیر و تخریب کی ذمہ داریاں تازہ دم’’ پولیٹیکل انجینئرز‘‘کو سونپ دی گئیں ۔وطن عزیز کے ان ’’سیاسی معماروں ‘‘ نے سوچا کہ بنیادی ڈھانچے میں ہی فالٹ ہے تو کیوں نہ اسے گرا کر ازسرنو منصوبہ بندی کیساتھ کسی منفرد سلیقے اور قرینے سے نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جائے ۔اسی سوچ کے تحت عام انتخابات کا اعلان کر دیا گیا ۔سیاسی بندوبست کے ماہرین نے یحییٰ خان کو رپورٹ دی کہ انتخابات کے نتیجے میں کوئی سیاسی جماعت اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی ،جوتوں میں دال بٹنا شروع ہو گی اور سیاستدان اقتدار کے لئے ’’بندر بانٹ‘‘ پر مجبور ہونگے ۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) کمال متین الدین نے اپنی کتاب’’ ٹریجڈی آف ایررز‘‘ میں اس رپورٹ کا ذکر کیا ہے جو صدر مملکت کو پیش کی گئی ۔اس دور کے ’’آرکیٹیکٹ ‘‘ سوچ رہے تھے کہ عوامی لیگ زیادہ سے زیادہ 80جبکہ نوزائیدہ پیپلز پارٹی 25نشستیں حاصل کر پائے گی ،قیوم لیگ 70جبکہ مسلم لیگ دولتانہ 40نشستیں لے جانے میں کامیاب ہو جائے گی اسی طرح نیشنل عوامی پارٹی کے بارے میں گمان تھا کہ 35نشستیں جیت لے گی، جماعت اسلامی کے بارے میں بھی یہ خوش فہمی تھی کہ مشرقی پاکستان سے 20نشستوں پر کامیابی حاصل کر پائے گی ۔ان رپورٹوں کی روشنی میں یہ سوچا جا رہا تھا کہ ملی جُلی کمزور سرکار وجود میں آئے گی جو ’’پولیٹیکل انجینئرز ‘‘ کے مرہون منت ہو گی اور یوں یحییٰ خان کنگ میکر کی حیثیت سے ایوان صدر براجمان رہیں گے۔ عوامی لیگ نے 160جبکہ پیپلز پارٹی نے 81نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا ۔یہ تخمینے غلط ثابت ہوئے تو ’’آرکیٹیکٹس ‘‘ کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور انہیں سمجھ نہ آئی کہ اب اس بند گلی سے نکلنے کیلئے کیا کریں۔بہر حال ناقص پولیٹیکل انجینئرنگ کے باعث ایسا خوفناک حادثہ پیش آیا کہ ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور عارضی طور پر بچے کچھے ملک کو چلا نے کی ذ مہ داری ذوالفقار علی بھٹو کو سونپ دی گئی ۔
بھٹو صاحب توقع سے کہیں زیادہ ذہین و فطین نکلے ،انہوں نے شاہ جہان کی طرح ان ’’آرکیٹیکٹس ‘‘ کے ہاتھ قلم کرنے کی کوشش کی جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو جیسا سیاست کا تاج محل تراشا تھا تاکہ یہ پہنچے ہوئے ’’کاریگر‘‘ کوئی نیا بُت نہ تراش سکیں مگر اس کوشش میں ان کااپنا پتہ ہی صاف ہو گیا اور’’پولیٹیکل انجینئرز‘‘ نے ایک بار پھر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔سالہا سال کی اکھاڑ پچھاڑ اور غیر سیاسی انتخابات کے نتیجے میں جونیجو ماڈل کا ناکام تجربہ کرنے کے بعد نوازشریف نامی سنگریزے کو تراش کر ہیرے کے روپ میں پیش کیا گیا ۔اس دور میں ریاست کی گاڑی کو سیاست کے اناڑی ڈرائیوروں سے بچانے کے لئے بیشماراقدامات کئے گئے مثلاً ’’اٹھاون ٹو بی ‘‘ نامی ای بی ایس بریک کا اضافہ کردیا گیا۔ریش ڈرائیونگ کرنے والوں کو فارغ کرنے کے لئے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ میں صادق و امین کی شرائط شامل کر دی گئیں۔ بعد ازاں ریاست کی گاڑی کو ٹھیک کرنے کے لئے چھوٹے بڑے بیشمار ’’مستریوں ‘‘ اور ’’ڈپلومہ ہولڈر استادوں ‘‘ کی خدمات بھی حاصل کی گئیں ۔کسی نے مشورہ دیا کہ آئی جے آئی کا لبریکنٹ ڈالا جائے تو گاڑی دھنواں مارنا چھوڑ دے گی۔اسلامک فرنٹ کی اسٹپنی رکھ لی جائے تو کوئی بھی ٹائر برسٹ ہونے کی صورت میں کام آئے گی۔لیکن بظاہر بہت بھولا اور میسنا نظر آنے والا نوازشریف تو بھٹو سے بھی کہیں زیادہ چالاک نکلا اور نہ صرف اسلامک فرنٹ کے غبارے سے ہوا نکال دی بلکہ ’’اٹھاون ٹو بی ‘‘ نامی ایمرجنسی بریک سسٹم کو بھی فلاپ کرکے رکھ دیا ۔باامر مجبوری ایک بار پھر چھوٹے موٹے مستریوں پر انحصار کرنے کے بجائے بڑے کاریگروں کو خود میدان میں آنا پڑا تاکہ معمول کی ٹیوننگ کے بجائے گاڑی کا انجن اوور آل کرکے معاملات ٹھیک کئے جا سکیں۔ نئے ’’انجینئرز‘‘ نے ریاست کی گاڑی میں مسلم لیگ (ق) کا ہیڈ فِٹ کیا ،پیپلز پارٹی پیٹریاٹس کے شاخ ڈالے ،نیشنل الائنس کا بمپر لگایا ،ملت پارٹی کا مڈ گارڈ شامل کیا،متحدہ مجلس عمل کے ٹائر ڈالے اور یوں یہ گاڑی ایک بار پھر فراٹے بھرنے لگی۔
بتایا گیا کہ اب نوازشریف اور بینظیر جیسے ’’شوخے ‘‘ ڈرائیوروں کو اس گاڑی کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا جائے گا ان دونوں نے گیم میں واپس آنے کی کوشش کی توبینظیر بھٹو کو راستے سے ہٹا دیا گیا البتہ نوازشریف ڈرائیونگ سیٹ پر واپس آنے کے بعد ایک بار پھر نکا ل دیئے گئے ۔اس بار ’’انجینئرز‘‘ نے ڈرائیونگ سیٹ پر آنے کا فیصلہ تو نہیں کیا البتہ پیچھے رہتے ہوئے ایک نئے ڈرائیور کو لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ایک بار پھر بتایا جا رہا ہے کہ عام انتخابات کے نتیجے میں کوئی جماعت اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی’’ہنگ پارلیمنٹ‘‘ ہو گی اور ملی جُلی سرکار وجود میں آئے گی جو ’’پولیٹیکل انجینئرز ‘‘ کی محتاج ہو گی ۔جب بعض دوستوںکو پورے وثوق سے یہ بات کہتے سنتا ہوں کہ عام انتخابات میں تحریک انصاف 70سے80نشستیں لینے میں کامیاب ہو جائے گی اور پھر نوازشریف کے بیانیے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر ایک نظر ڈالتا ہوں تو نہ جانے کیوں لیفٹیننٹ جنرل (ر)کمال متین الدین کی کتاب کا عنوان یاد آتا ہے ’’ٹریجڈی آف ایررز ‘‘عرض یہ ہے کہ اس بار یا تو ایسی مستقل نقشہ آرائی فرمائیں کہ لوگ اپنی مرضی سے ڈرائیور منتخب کرنا بھول جائیں یا پھر ’’انجینئرز‘‘ ہی سمجھ جائیں کہ یہ بھولے بھالے اور سیدھے سادے ڈرائیور اسٹیئرنگ سنبھالتے ہی سارا سبق بھول جاتے ہیں اور من مانی پر اتر آتے ہیں تو اس لاحاصل مشق کی کیا ضرورت ہے ؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں