آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی انتخابی سیاست کی بساط بچھ چکی ہے اور انتخابی سرگرمیوں کا بڑی حد تک آغاز ہو چکا ہے۔ انتخابی جلسوں کے ساتھ ساتھ سیاسی بیانات میں بھی بدلتے موسم کی طرح گرمی یا حدت بڑھ رہی ہے۔ آج ارادہ تھا مینارِ پاکستان کے جلسے پر خامہ فرسائی کا لیکن سیاسی گرما گرمی اس سے آگے نکل گئی ہے۔ پھر بھی اجمالاً عرض ہے کہ جلسے میں شرکاء کی تعداد پر آپ جو مرضی کہہ لیں لیکن خواتین کے احترام کی خلاف ورزی کا کسی کو کوئی حق نہیں ہونا چاہیے اس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے جو معذرت کی ہے اُسے قبول کیا جانا چاہیے۔ رہ گئی تعداد وہ 35 ہزار تھی یا دو لاکھ، اس کا اندازہ دور سے نہیں قریب کی تصاویر سے لگایا جا سکتا ہے۔
PTI کے حالیہ جلسے کا دوسرا منفی پہلو یہ ہے کہ اس میں لاہوریوں کی شرکت آٹے میں نمک کے برابر تھی جلسہ آپ نے لاہور میں کرنا ہے تو کوئی تُک نہیں بنتی کہ کراؤڈ آپ پشاور سے منگوا رہے ہیں۔ اس پر سابق وزیراعظم کا تجزیہ قابل فہم لگتاہے کہ ’’جلسہ لاہور کا، مجمع پشور کا، ایجنڈا کسی اور کا‘‘ پھر آپ نے اس جلسے میں جو نام نہاد11نکات پیش کیے ہیں وہ بھی سوائے سابقہ برسوں کی تکرار کے اور کچھ نہیں۔ آپ نے پورے پانچ برس ایک صوبے میں حکمرانی کی ہے لیکن اپنی کارکردگی رپورٹ میں قوم کو بتانے کے لیے سوائے دھرنوں کے آپ کے کھیسے میں اور کچھ بھی

نہیں۔ انتخابی سال کی مناسبت سے ان دنوں جو نئے نئے نعرے ایجاد ہو رہے ہیں ان میں شہباز شریف کے یہ دو نعرے بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہیں ’’دھرنا دھرنا، کام نہیں کرنا‘‘ اور ’’مرسوں مرسوں کام نہیں کرسوں‘‘ ان نعروں کے ذریعے دراصل وزیراعلیٰ پنجاب اپنے صوبے کی ترقی اور اپنی کارکردگی سامنے لانا چاہ رہے ہیں جس کا وہ بڑی حد تک استحقاق رکھتے ہیں۔
سابق کھلاڑی کی خدمت میں ہماری گزارش ہے کہ وہ وطنِ عزیز میں بدلتے حالات اور عوامی تقاضوں کی ماہیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ وہ اپنے ربع صدی پرانے ایجنڈے پر نظرثانی فرمائیں۔ وقت کا پہیہ بڑی تیزی سے آگے کو بڑھ چکا ہے جبکہ آپ کی تقریر سے یہ گمان گزرتا ہے کہ آپ وطنِ عزیز کو اکیسویں صدی سے پیچھے کھینچتے ہوئے ازمنہ وسطیٰ کے قبائلی دور میں لے جانا چاہتے ہیں ۔
سیدنا مسیحؑ نے فرمایا تھا کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے خود کوئی برائی نہ کی ہو۔ دوسروں کو بیوقوف خیال کرتے ہوئے اپنی پارسائی کے قصے کہانیاں سنانے کے بجائے KPمیں پانچ سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش فرمائیں جہاں امن و امان کا یہ حال ہے کہ طالبان جیلیں توڑ کر اپنے سینکڑوں دہشت گردوں کو بھگا لے جاتے ہیں اور آپ کی کمزور حکومت منہ میں گھونگھنیاں ڈالے دیکھ رہی ہوتی ہے۔ جہاں بھرے جلسوں میں لوگ آپ کو منہ پر کہتے ہیں کہ تعلیم یا صحت کے حوالے سے کہیں کوئی معمولی تبدیلی یا بہتری نہیں ہوئی۔ جہاں لوگوں کو کرپٹ قرار دے کر حکومت سے نکالتے ہیں اور پھر مجبور ہو کر واپس رکھتے ہیں۔
معذرت خواہ ہیں کہ ہمارا آج کا موضوع تو دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی قیادت میں ہونے والی تلخ بیانی تھا لیکن ایک پریشر گروپ خواہ مخواہ بیچ میں آ گیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کا سابق صدر زرداری کے حوالے سے اخبارات میں استفسار چھپا ہے کہ ’’اب آپ کس کی کٹھ پتلی ہیں؟‘‘ کل آپ میری زبان بول رہے تھے تو آج کس کی زبان بول رہے ہیں؟ اس سے پہلے ہمارے پورے قومی میڈیا میں سابق صدر کی اپنی پارٹی رہنماؤں سے کی گئی گفتگو چھائی رہی جس میں انہوں نے نواز شریف کے حوالے سے تلخ زبان استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ میرا اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان اور مشرف کے بیرون ملک جانے سے قبل ’’بلے‘‘ کو بھاگنے نہ دینے کا بیان بھی نواز شریف کی چال تھی ہم ہر بار جمہوریت کی خاطر نواز شریف کے دھوکے میں آئے۔ ہم سیاست اور وہ تجارت کرتے رہے۔ اب اگرچہ زرداری صاحب اپنے بیان سے انکار کرتے ہوئے مختلف توجیہات پیش کر رہے ہیں لیکن جاننے والے تمام تر حقائق کی مطابقت میں اصلیت کو بخوبی جانتے ہیں ہم زرداری صاحب کے اس بیان کو ان کے دیگر بیانات اور اقدامات کی روشنی میں بھی پرکھ سکتے ہیں ۔
کئی حوالوں سے زرداری صاحب کا غم وغصہ قابلِ فہم ہے لیکن اپنی پارٹی میں وہ خود کو جس طرح ارسطو زماں بنا کر پیش کرتے ہیں اُن کا متذکرہ بالا بیان اس کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے اس لیے انہوں نے بہتری اسی میں جانی کہ اس کی تردید کر دی جائے۔ جواباً خواجہ آصف نے جو مزید انکشافات کیے ہیں وہ خود ایک الگ کالم کا تقاضا کر رہے ہیں۔ زرداری صاحب کی خدمت میں ہماری گزارش ہے کہ وہ اس وقت خوش قسمتی سے ایک بڑی سیاسی پارٹی کو لیڈ کر رہے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر کی شہادت میں صرف پرویز مشرف ہی ذمہ دار نہیں دیگر اندرونی و بیرونی طاقتیں بھی ملوث ہیں۔ محترمہ کی موت اتنا معمولی سانحہ نہیں جس پر پینترے بدل بدل کر جو جی میں آئے بے پر کی اڑائی جائیں بحیثیت شریک حیات اور پارٹی لیڈر اُن کی اولین ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ محترمہ کے قاتلوں کی درست نشاندہی کرتے۔
اب انہیں وضاحت کرنا ہو گی کہ دیگر اندرونی و بیرونی طاقتوں سے ان کی کیا مراد ہے؟ ان دنوں وہ صفائیاں پیش کرتے پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے ماضی میں جو غلطیاں کی ہیں آج وقت نے انہیں ان کا ادراک کروا دیا ہے اور وہ صاف لفظوں میں نہ صرف انہیں تسلیم کر رہے ہیں بلکہ اظہار معذرت کرتے بھی پائے جا رہے ہیں اینٹ سے اینٹ بجانے کے بیان پر بھی ان کی وضاحت واضح ہے اس پر عدم اتفاق اپنی جگہ مگر میاں صاحب کو زرداری صاحب کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ نہیں کرنی چاہیے تھی۔ سندھ میں پی پی لیڈران کے حوالے سے جو زیادتیاں ہوئی ہیں ان میں اگرچہ اصل رول کسی اور کا تھا۔ اس سب کے باوجود درویش کو یہ تسلیم کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ پی پی کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ عوامی پہچان بڑی قربانیوں کے بعد بنی ہے براہ کرم محض وقتی و ہنگامی مفادات کی خاطر اس روشن پہچان پر سیاہی نہ پھیری جائے۔ پی پی قیادت نواز دشمنی میں خود کو سابق کھلاڑی کے لیول تک گرانے سے احتراز کرے اپنی عوامی و جمہوری پہچان کو داغدار کرنے سے باز آ جائے۔ اس کی قیادت پہلے تولے پھر بولے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں