آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ 1944ء کے اوائل کا ذکر ہے۔ میں ان دنوں سرسہ ہائی اسکول میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا جس میں غیر مسلم طلبہ اور اساتذہ بھاری اکثریت میں تھے۔ انہی دنوں ہمارے ہاں ریاضی کے مسلمان استاد آئے جن کا اسمِ گرامی نظام الدین تھا۔ وہ مجھ پر خصوصی شفقت فرمانے لگے کہ میں اُن سے اُردو ادب اور حالاتِ حاضرہ پر بھی سوال پوچھتا رہتا تھا۔ ایک روز اُنہوں نے مجھے صبح سویرے ناشتے پر بلایا اور دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ اُنہوں نے پورے یقین سے کہا کہ پاکستان وجود میں آ کے رہے گا کہ قدرت نے مسلمانوں کو محمد علی جناح جیسے عظیم، بے داغ اور تاریخ ساز قائد عطا کیے ہیں۔ اِسی گفتگو کے دوران میرے سوال کرنے پر انہوں نے کہا کہ عصرِ حاضر کے سب سے بڑے نثرنگار سید ابو الاعلیٰ مودودی ہیں جن کی تحریر دل میں اتر جاتی اور سینے میں گہرا ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ میں نے مودودی صاحب کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا تو آنکھیں کھلتی گئیں کہ اسلام کا آفاقی اور انقلاب آفریں تصور اور اس کا پورا ضابطۂ حیات میرے ذہنی اُفق پر طلوع ہو رہا تھا۔
انہی دنوں ہمارے شہر میں ایک مسلمان تحصیل دار تعینات ہوئے۔ ان کا بھتیجا فصاحت ہمارا ہم جماعت بنا۔ ہم چند طلبہ نے اپنے طور پر ایک حلقہ بنا لیا تھا جس میں فصاحت بہت سرگرم ہوتا تھا۔ وہ اس یقینِ محکم کا اظہار کرتا کہ

مسلمان اپنی عظمت ِرفتہ ضرور حاصل کر کے رہیں گے۔ دسویں جماعت میں اس کے چچا کا تبادلہ ہو گیا اور 14؍اگست 1947ء کی رات جو لیلۃ القدر تھی، پاکستان رحمتوں کی جلو میں قائم ہوا اَور ہم طالب علموں کا پہلا حسین ترین خواب حقیقت میں ڈھل گیا۔ اب اہلِ سرسہ کو ہجرت کر کے پاکستان جانا تھا، اس لیے وہاں مہاجر کیمپ قائم ہوا۔ یہ کیمپ ہماری بستی میں ہی بنا تھا، لیکن میرے دل کا یہ حال تھا کہ کسی طرح اُڑ کر پاکستان چلا جاؤں۔ نومبر 1947ء میں ہمارا خاندان پاکستان آیا اور دسمبر کے آخر میں لاہور پہنچا۔ میں سب سے پہلے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے اچھرہ گیا اور ان کے پہلے درسِ قرآن میں شامل ہوا۔ یہ میری خوشیوں کی معراج تھی کہ عالمِ اسلام کے عظیم المرتبت مفکر اور قرآن حکیم کے بے مثال مفسر سے ملنے کا جو خواب دیکھا تھا، وہ پورا ہو گیا۔
پاکستان میں روزگار کے مسائل کے باوجود والدین نے حصولِ علم کی جو شمع روشن کی تھی، وہ فروزاں رہی اور ہم تینوں بھائیوں نے پنجاب یونیورسٹی سے مختلف مضامین میں ماسٹرز کیے اور جناب اعجاز حسن قریشی نے جرمنی سے پی ایچ ڈی کیا۔ ہمارے والدِ بزرگوار سرسہ میں بلند آواز سے صبح کے وقت اللہ پاک سے دعا مانگا کرتے تھے کہ میری اولاد کو مولانا ظفر علی خاں کی طرح اپنی ملت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمانا۔ 1960ء میں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی کی قیادت میں اور ملک ظفر اللہ خاں اور راقم الحروف کی شراکت میں ماہنامہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ منصہ شہود پر آیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ ماہنامہ بہت مقبول ہوا اَور صحت مند انقلاب لانے کا باعث بنا۔ والد صاحب کے خواب کو اللہ تعالیٰ نے بڑی فیاضی سے حقیقت میں ڈھال دیا تھا۔
میں 1988ء میں علاج کے سلسلے میں امریکہ گیا، تو وہاں متعدد پاکستانی ڈاکٹروں سے تبادلۂ خیال کرنے کا موقع ملا۔ نیویارک میں ڈاکٹر محمد ظہیر نے اپنا ایک حلقہ بنا رکھا تھا جو پاکستان میں جا کر اعلیٰ معیار کے اسپتال قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ چند ہی سال بعد ڈاکٹر محمد ظہیر اور ان کے رفقا نے اسلام آباد میں ’الشفا انٹرنیشنل‘ کے نام سے بین الاقوامی معیار کا اسپتال قائم کیا اور ’تعمیرِ ملت یونیورسٹی‘ کے ذریعے گھروں کی بیٹھکوں میں نہایت کم خرچ پر تعلیم دی جانے لگی۔ ایک شخص نے مشنری جذبے سے ایک زبردست انقلاب پیدا کر دیا تھا۔
یہ کوئی سات سال پہلے کی بات ہے کہ میرے عزیز بھانجے فیض الرحمٰن نے بتایا کہ میں علاج کی خاطر الشفا انٹرنیشنل اسپتال گیا، تو میرے معالج آپ کے بارے میں دیر تک باتیں کرتے رہے اور جلد ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ میرا اِسلام آباد جانا ہوا، تو جناب ڈاکٹر سعید اختر سے ملاقات ہوئی۔ میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہوں نے بتایا کہ آپ کے ہم جماعت فصاحت میرے خالہ زاد بھائی تھے اور ان کے ذریعے ماضی کے واقعات بڑی تفصیل سے مجھ تک پہنچے ہیں۔ اس کے علاوہ میں آپ کے صحافتی کارناموں سے بھی واقف ہوں۔ بعدازاں ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تین سال پہلے اُن کا فون آیا کہ میں نے امریکہ میں رہتے ہوئے جو ایک خواب دیکھا تھا کہ اپنے وطن میں گردے کی بیماریوں کے علاج کا ایک عالمی معیار کا اسپتال اور تحقیقی مرکز بناؤں گا، اس منصوبے کے نقشے میں نے تیار کر لیے ہیں جن کو لاہور کے صحافیوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میری دعوت پر دس بارہ کالم نگار ڈاکٹر سعید اختر کے دفتر میں جمع ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ وہ امریکی ٹیکساس یونیورسٹی میں شعبہ یورالوجی کے چیئرمین اور سرجری کے کلینکل پروفیسر تھے۔ وہاں طویل عرصے کام کرتے ہوئے یہ خیال شدت اختیار کر گیا کہ پاکستان میں دنیا کا بہترین اسپتال اور تحقیقی مرکز قائم کیا جائے جس میں کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ بھی کیے جائیں اور اُن سے متعلقہ بیماریوں پر جدید تحقیق بھی جاری رہے۔ پاکستان واپس آ کر میں نے الشفا انٹرنیشنل اسپتال میں یہ شعبہ قائم کیا، مگر جلد ہی تنگیٔ داماں کا احساس ہوا، چنانچہ اِس ضمن میں وزیراعلیٰ پنجاب سے رابطہ کیا اور اپنے منصوبوں کی پریزینٹیشن دی۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ساٹھ ایکڑ زمین اور تین سال کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی ضمانت دی۔ کڈنی سنٹر میں لیور ٹرانسپلانٹ کا شعبہ بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق مصر کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ اموات لیور اور کڈنی فیل ہو جانے کے باعث ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر سعید اختر نے بتایا کہ پاکستان میں سالانہ دس ہزار ٹرانسپلانٹ آپریشنز کی ضرورت ہے۔
صحافیوں کے ساتھ مکالمے کا سلسلہ تین گھنٹے جاری رہا۔ بڑے نوکیلے سوالات بھی ہوئے، مگر ڈاکٹر صاحب بڑی خوش دلی سے ہر سوال کا جواب دیتے اور اس امر کا یقین دلاتے رہےکہ غریبوں کا مفت علاج ہو گا اور انسٹی ٹیوٹ میں امریکہ اور برطانیہ سے تجربہ کار کنسلٹنٹ اور سرجن کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ جدید ترین میڈیکل ایکوپمنٹ اور مشینری درآمد کی جائے گی۔ اس کے بعد وہ وقتاً فوقتاً صحافیوں کو پریزینٹیشن دیتے رہے۔ آخری بار جو تفاصیل بیان کیں، اُن کے مطابق وہ امریکہ، برطانیہ اور دوسرے ممالک سے 43 کنسلٹنٹ اور سرجنز کی خدمات حاصل کر چکے ہیں جو مقامی ڈاکٹروں اور نرسوں کی تربیت بھی کریں گے اور اپنا تمام وقت پی کے ایل آئی (پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ) کو دیں گے۔
امریکہ اور برطانیہ میں ڈاکٹر حضرات بالعموم ماہانہ پچاس ساٹھ لاکھ پریکٹس میں کما لیتے ہیں۔ ڈاکٹر سعید اختر کے مشنری جذبے سے متاثر ہو کر دس بارہ لاکھ کے مشاہرے پر پاکستان آ رہے ہیں اور اُن کی اعلیٰ کارکردگی سے ایک معجزہ تخلیق ہونے والا ہے۔ ڈاکٹر سعید اختر نے تین سال تک اِس ادارے کے لیے کام کرنے کا کوئی معاوضہ نہیں
لیا، بلکہ بیرونی دوروں پر اپنی جیب سے خرچ کرتے آئے ہیں۔ بعض حلقوں میں اُن کے بارے میں ہیجان انگیز سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں، مگر مجھے یقین ہے کہ یہ خواب حقیقت میں ڈھل کے رہے گا اور پاکستان کو دنیا کا بہترین کڈنی اور لیور اسپتال قائم کرنے اور خوش اسلوبی سے چلانے کا اعزاز حاصل ہو گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں