آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج ایک دوست کا کالم پڑھتے ہوئے یہ شعر بار بار یاد آیا۔ مجھ کو آتی ہے کچھ حیا لیکن۔ شرم تم کو ذرا نہیں آتی۔ ہمارے ایک اینکر/کالم نگار نے عمران خان کے گیارہ نکات پرکچھ لکھتے ہوئے سچ بیا ن نہیں کیا۔ ذکر گیارہ نکات کا کیا اور لکھاکہ پشاور میں سڑکیں کھنڈر بن چکی ہیں اور نالیاں گندگی سے اٹی ہوئی ہیں۔ دوہفتے پہلے میں نےپشاور میں چار دن قیام کیا۔پتہ نہیں اس وقت سڑکوں کے کھنڈرات اور گندگی سے بھری ہوئی نالیوں کو کون سے جنات اٹھا کر لے گئے تھے۔ اور اس پر مبالغہ آرائی کی آخری حد کہ عمران خان کے گیارہ نکات میں میٹرو اور موٹروے بنانے کا کہیں کوئی ذکر نہیں مگر ہمارے کالم نگار سڑکوں کی خرابی کےنام لے لےکر انہیں شرم اور حیا دلا رہے ہیں ۔
یکساں تعلیم کے نکتہ پر بھی حقائق بیان نہیں کئے بلکہ کمال دیکھئے۔ لکھاہے کہ پی ٹی آئی کے دور میں پختونخوا میں طبقاتی نظام تعلیم کو غیرمعمولی فروغ ملا۔ جب کہ حقیقت حال یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایک لاکھ بچے پرائیویٹ اسکولوں سے سرکاری اسکولوں میں گئےہیں۔
موصوف فرماتے ہیں کہ اگر یہ دعویٰ سچ ثابت ہو تو میں صحافت چھوڑ دوں گا۔سوچنے کی بات ہےوزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اگر یوں نہ ہو گیاتو میرا نام بدل دینا۔ کیا کسی نے ان کا نام بدلا ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ صوبے

میں کوئی نئی یونیورسٹی نہیں بنائی اوراے این پی کے دور میں یونیورسٹیاں دگنی ہوگئی تھیں۔ انہیں یہ بھی نہیں معلوم نہیں کہ ماضی میں جب خیبر پختونخوا میںنئی یونیورسٹیاں بنائی گئی تھیں اس وقت ہائر ایجوکیشن کا محکمہ وفاق کے پاس تھا صوبوں کے پاس نہیں اور یہ یونیورسٹیاں پرویز مشرف کے دور میں ہائر ایجوکیشن کو فراہم کردہ غیر ملکی فنڈنگ سے وجود میں آئی تھیں۔ پہلی بار صوبائی سطح پر پی ٹی آئی کی حکومت نے نو نئی یونیورسٹیاں بنائی ہیں۔ حکومت میں آتے ہی سات ہزا ر ٹیچر زبھرتی کئے گئے تھے۔ اس وقت تک 97ہزار نئے ٹیچرز بھرتی کئے جا چکے ہیں اوران میں سے ایک ٹیچر بھی سفارش پر نہیں رکھا گیا۔834نئے اسکول کھولے گئے ہیں جن میں ستر فیصد گرلز اسکول ہیں۔ آج پختونخوا کی تاریخ میں سب سے زیادہ بچے اسکولوں میں جارہے ہیں۔
صحت کے نکتہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ صحت کی بدحالی کا یہ حال ہے کہ آج تک صوبے میں فرانزک لیب موجود نہیں۔ میں کافی سوچتا رہا۔ کوئی پوچھے کہ فرانزک لیب کا تعلق عام آدمی کی صحت سے نہیں ہوتایہ تو ایک سائنسی تحقیقاتی ادارہ ہوتا ہےجو جرائم تک پہنچنے کےلئے مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے۔ اس لیب میں کمپیوٹر سے لے کر انسانی جسم تک ہر شے کے فرانزک ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ سندھ حکومت نے بھی صوبہ پنجاب کی طرح فرانزک لیبارٹری بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاق میں بھی یہ سائنسی تحقیقاتی ادارہ موجودہے۔ جو وفاق اور پنجاب میں باقاعدہ ایک ایکٹ کے تحت بنایا گیا ہے۔ کیا کہوں لکھنے والے کو لکھتے ہوئے حقائق کا توخیال کرنا چاہئے۔
ریونیوبڑھانے کے نکتے پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ خیبرپختونخوا کی آمدنی میں پانچ فی صد بھی اضافہ نہیں ہوا۔محترم کالم نگار کو یہ معلوم نہیں کہ ریونیو بڑھانے کا محکمہ ایف بی آر ہے اور اُس کا تعلق وفاق سے ہے۔ صوبوں سے نہیں ۔
کرپشن فری پاکستان کے نکتے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوا میں جنہوں نے کرپشن کا سراغ لگا لیا تو الٹا انہیں فارغ کردیا گیا۔ جس صوبے میں وزیر گرفتار کئے گئے ہوں ایم پیز کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہو۔وہاں کرپشن کا الزام حقائق کو نظرانداز کرنے کے سوا کچھ اور نہیں۔پولیس کا محکمہ جو دنیا بھر میں کرپشن کےلئے بہت مشہور ہے خیبر پختون خوا میں آج ایک مثالی محکمہ دکھائی دیتا ہے۔ جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تھی توپولیس کا مورال اتنا پست تھا کہ پانچ بجے شام تھانے اندر سے بند کر دیئے جاتے تھے۔ آج فوج کےتعلقات عامہ کا سربراہ بھی کہہ رہا ہےکہ ملک کی سب سے بہترین پولیس پختون خواکی ہے۔
سرمایہ کاری کے نکتے پر سیاحت کے فروغ پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نتھیاگلی کے کے پی ہائوس کا سب سے زیادہ استعمال خود خان صاحب نے کیا۔ ریکارڈ سے ثابت ہے کہ پی ٹی آئی کی پانچ سالہ حکومت میں کے پی ہائوس اسلام آباد، کے پی ہائوس نتھیاگلی اور دیگر سرکاری ریسٹ ہائوس کا سب سے زیادہ اور بے دریغ استعمال پی ٹی آئی کے وزراء، ایم پی ایز اور دیگر وابستگان کی طرف سے کیا گیا۔ موصوف کو پنجاب ہائوس نہیں دکھائی دیتا جو ایک نا اہل شخص کا دفتر بنا ہوا ہے اور ان کے ساتھ ہر ہفتے وہاں ان کے سینکڑوں حامی قیام کرتے ہیں۔ اوپر جتنے ریسٹ ہائوسز کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کے بارے میں عرض ہے کہ ان کے بنانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ وہاں خیبر پختونخواکی حکومت چلانے والے لوگ قیام کریں۔
جہاں تک سیاحت کے فروغ کی بات ہے تو پختونخوا ایک جنگ زدہ صوبہ تھا وہاں امن قائم کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاحت میں ستر گنا اضافہ ہوا پچھلے دو سالوں میں۔ سوات کی موٹر وے جو اگلے مہینے کھلنی ہے اس کے بعد لوگوں کو مری کے علاوہ سوات میںبھی اپنی چھٹیاں گزارنےکا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ جو اعتراض کئے گئے وہ بھی حقائق سے دور تھے۔ اللہ سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ ویسے کئی لوگوں کو ان دنوں ہدایت مل رہی ہے۔ پانچ سال عمران خان کو گالیاں نکالنے والے ،ان کے متعلق اچھی اچھی باتیں کرتے دکھائی دینےلگے ہیں۔ بلکہ یہاں کہا جا رہا ہے کہ ’’ ہم تو پی ٹی آئی کے بنیادی ارکان میں سے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں