آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا لکھوں اور کیسے کہوں، کیسے دل کو سمجھائوں اور نوحہ کروں کہ مدیحہ گوہر نہیں رہی۔ وہ خاتون جس نے ضیا الحق کے پھانسیوں کے دور میں رجزگائے، سنائے اور دکھائے۔ وہ جس نے انڈیا پاکستان کو باربار یاد دلایا کہ کس جنون میں مبتلا ہو۔ اپنے وسائل ضائع مت کرو۔ دونوں ملکوں میں کروڑوں بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں نہیں، تن پر کپڑے نہیں، منہ میں نوالہ نہیں، سونے کو چھت نہیں اور رشتہ نام کی وہ دنیا نہیں، وہ ملک نہیں جس کو خواب میں دکھاتے ہو۔
ہم لوگ اندرون لاہور میں گلی گلی، محلے محلے ڈرامے کرتے تھے، ایک ڈھول والے سے اعلان کرواتے، دوسرے دن محلے کے بچوں سے کہتے۔ گھروں سے پلنگ لائو، کسی پلنگ سے دیوار بناتے، کسی پلنگ میں دلہن کو بٹھاتے۔ کھلی زمین پر نوآموز نوجوان لڑکے، لڑکیاں دکھ بھری کتھائیں سناتے۔ عورتیں، مرد اور بچے خاموشی سے زمین پر بیٹھ کر پورا اسٹریٹ تھیٹر دیکھتے پھر سوال کرتے کہ آخر کونسا مسئلہ اٹھایا گیا اور اس کا کیا حل ہے۔
سب سے پہلا ڈرامہ تھا کہ ایک کتا گلی کے ایک کونے میں مرا ہوا پایا جاتا ہے۔ پورا محلہ اس کو دیکھ کر تھوتھو کررہا ہے، مسجدوں سے نعرے بلند ہورہے ہیں کہ پلید جگہ کو صاف کرو۔ سارا دن گزر جاتا ہے۔ لوگ دیکھ کر منہ پر کپڑا رکھ کر گزر رہے ہیں۔ ایک دیوانہ ہے جو گندے سندے کپڑوں میں اسی کونے میں

بیٹھا کرتا ہے جہاں کتا مرا ہوا تھا۔ شام ہونے سے پہلے وہ دیوانہ شہر کے چوک سے مرے ہوئے کتے کو اٹھا کر پھینکتا ہے تو علاقے کے سارے لوگ عذاب ٹلنے پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔
کم سن بچیوں کی شادی پر تو پورے پاکستان کے دیہات میں ہم نے مدیحہ اورشاہد کے ساتھ مل کر اسٹریٹ تھیٹر کئے۔ ان ڈراموں کی زبان میں اردو، پنجابی اور دیگر زبانوں کے الفاظ، گیت اور لوک رقص بھی شامل ہوتے تھے۔ ضیاء کے زمانے میں ملک بھر میں سناٹا ہوتا تھا اور ہم کسی گلی، کسی گھر کے لان، کسی بند کمرے میں اپنے ڈرامے اسٹیج کرتے۔ پاکستان کے قیام کے وقت کیسے بزرگ عورتیں اپنے اپنے گھروں کو یاد کرکے روتی تھیں، کیسے مسلمان اور سکھ عورتیں اغوا ہوئی تھیں، ان پر کیا بیتی تھی۔ یہ ڈرامہ انڈیا اور پاکستان کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھی بہت لوگوں کو رلاتا رہا۔
مدیحہ اور شاہد ندیم کی جوڑی خوب نبھی۔ دونوں مل کر سوچتے۔ شاہد ڈرامے کا خاکہ تیار کرتا، مدیحہ اس میں کونسے لوک گیت شامل کرنے ہیں، کیسا لباس ہوگا اور گھر کا آنگن جس میں کبھی دارا شکوہ کی کہانی ہے، کہیں چادر چار دیواری کا قصہ ہے، کہیں بلھے شاہ کی زندگی کا وہ باب جس کو لکھنے سے لوگ ڈرتے ہیں۔ غلام عباس کی وہ کہانی جو انہوں نے 1962ء میں لکھی موہنجوڈارو، آج وہ سارا منظر، اجڑے گھر، ہونق چہرے کسی کو حسن، عشق اور شعر یاد نہیں کہ فنکاروں کو قتل کرنا عین بہادری سمجھا جارہا تھا۔ منٹو کی کہانیاں اور بمبئی میں دق زدہ طوائفیں جن کی ملکیت صرف ایک چارپائی تھی۔ ان کہانیوں کو لکھ کر منٹو فحش نگار کہلایا، مقدمے چلے، سزا ہوئی اور پھر اتنی بے عزتی وہ برداشت نہ کرسکا، مر گیا۔ آج کی دنیا اسے برصغیر کا سب سے بڑا افسانہ نگار کہتی ہے اور حوصلہ تھا مدیحہ اور شاہد کا کہ نہ صرف اسٹیج کیا بلکہ سرمد کھوسٹ کے ساتھ مل کر اس پر فلم بھی بنائی۔
کیا کیا داستان سنائوں۔ وہ کینسر میں مبتلا ہونے کے باوجود اجو کا تھیٹر کو انگلینڈ، امریکہ اور یورپ بھی لے کر گئی۔ نصیرالدین شاہ اور اوم پوری کو پاکستان بلا کر تھیٹر ورکشاپس کروائیں۔ نوخیز لڑکے، لڑکیوں کو اپنے مسائل اجاگر کرنے کا حوصلہ دیا۔ ان کو اسٹیج پر اس شان سے دکھایا کہ ان کا پورا خاندان نہ صرف دیکھنے آیا بلکہ وہ اجوکا کے نام میں حصہ دار بن کر فخر محسوس کررہے تھے اور مدیحہ تھی کہ دلی میں ڈرامہ ختم کرکے اصغر ندیم سید کو کہہ رہی تھی۔ شاہ جی! جائو واپس، میں ابھی یہیں رکوں گی، میرا کل آپریشن ہے۔
مدیحہ کو بننے سنورنے کا بے حد شوق تھا۔ ہر دفعہ نئی ساڑھی، نیا زیور پہنتی۔ میں نے کچھ عرصے سے ساڑھی پہننا بند کردیا تھا، مجھے ڈانٹتی، ساری عمر ساڑھی پہنی، اب کیوں چھوڑ دی۔ پھر یوں ہوا کہ اس کی بھی ساڑھی چھٹ گئی۔ جسم پر جگہ جگہ زخم، ٹانکے اور عجب منظر تھا۔ وہ شلوار قمیض پہن کر آئی۔ مجھے برا لگا۔ مسکراتے ہوئے رو کر بولی۔ اندر کے داغ لوگوں کو نہیں دکھانا، آپ سے سیکھ لیا ہے۔ پھر وہ ایک مرتبہ ہمت کرکے پنجاب، ہریانہ، شملہ سب جگہ بچوں کے ڈرامے اور ’’کالا مینڈا دیس‘‘ جیسے ڈرامے لے کر گئی۔ واپس آتے ہی اسپتال داخل ہوئی۔ جب ہوش میں آتی، فریال گوہر جو اس کی پٹی سے بندھی بیٹھی تھی، اسے سنبھالتی کہ وہ ڈرامہ اسٹیج کرنے کیلئے بھاگنا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے بیٹوں کو بھی ڈرامے میں کردار دے کر بتایا تھا کہ اگر میں نہ رہوں تو تم بابا کے ساتھ اس کام کو جاری رکھنا۔ اس نے اجوکا تھیٹر کے چالیس برس پاکستان کے ہر شہر میں منائے۔ آئو ہم بھی مدیحہ کی زندگی کا جشن منائیں اور لڑکیاں آئیں جو اپنی جوانی، اپنی زندگی اور اپنا جنون مدیحہ کی طرح پاکستان کے بچے بچے کو بتائیں کہ اپنے گھر میں سکھ اس وقت ہوگا جب ملک میں سکھ ہوگا۔ مدیحہ! تم پاکستان کی ہر جھگی میں زندہ رہو گی۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں