آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس وقت پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے پر اسٹیبلشمنٹ نواز ہونے کے الزامات عائد کر رہے ہیں ۔ ان الزامات میں صداقت ہو یا نہ ہو لیکن ان کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کے ادارے بلکہ خود سیاست دان بھی بدنام ہو رہے ہیں ۔ کیا یہ سیاسی بیان بازی ہے یا تاریخ کا گریز اور بے رحمانہ عمل ہے ؟
پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے اگلے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے انہیں اسٹیبلشمنٹ سے لڑایا اور خود اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملا لیا ۔ انہوں نے ’’ اینٹ سے اینٹ بجانے ‘‘ اور پرویز مشرف کے استعفیٰ پر ’’ بلے کو بھاگنے نہ دینا ‘‘ کے جو بیانات دیئے تھے ، وہ دراصل نواز شریف کی چال تھی ۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری اتنے بھولے نہیں کہ وہ ان کی باتوں میں آجاتے ۔ میاں نواز شریف نے عمران خان اور آصف علی زرداری دونوں کو اسٹیبلشمنٹ نواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران اور زرداری کو ووٹ دینا کسی اور کو کامیاب کرانے کے مترادف ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کا مقابلہ عمران اور زرداری سے نہیں بلکہ خلائی مخلوق سے ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی ایک انٹر

ویو میں الزام لگایا ہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں نواز شریف فوج کی مدد سے جیتے ہیں ۔ ان انتخابات میں عدلیہ بھی نواز شریف کے ساتھ تھی اور فوج بھی ۔ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ان بیانات نے پاکستان کے اندر اور بیرونی دنیا میں پاکستان کی سیاست اور داخلی حالات کے بارے میںبہت سے سوالات پید اکر دیئے ہیں ۔
آصف علی زرداری کے حالیہ انٹرویو سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ انہوں نے ’’ اینٹ سے اینٹ بجانے ‘‘ اور ’’ بلے کو بھاگنے نہ دینا ‘‘ والے بیانات کا عذر پیش کیا ہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے انہیں لڑانے کا کام نواز شریف نے کرایا ۔ آصف علی زرداری کی طرف سے اس وضاحت کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے کرنا اور غلط فہمیاں دور کرنا چاہتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی باور کرانا چاہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ حمایت کی ہے اور آج میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جو باتیں کر رہے ہیں ، وہ ایک گیم ہے ۔ میاں محمد نواز شریف اپنے بیانات سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے واحد سیاسی رہنما ہیں ، جو اسٹیبلشمنٹ کے عتاب میں ہیں اور وہ سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے آصف علی زرداری اور عمران خان کی پشت پناہی شروع کر دی ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زرداری اور عمران محض مہرے ہیں ۔ ان کا اصل مقابلہ غیر مرئی طاقتوں سے ہے ، جسے انہوں نے خلائی مخلوق کا نام دیا ہے۔ ادھر عمران خان نے فوج اور عدلیہ پر 2013 کے عام انتخابات میں براہ راست مداخلت کا الزام عائد کر دیا ہے اور یہ بھی وضاحت کر دی ہے کہ فوج کے لاڈلے وہ نہیں بلکہ نواز شریف ہیں ۔ اس طرح تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے نہ صرف ایک دوسرے کو مقتدر قوتوں کا کارندہ اور خود کو حقیقی عوامی نمائندہ قرار دیا ہے بلکہ بین السطور یہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا ایک فیصلہ کن کردار ہے ۔ یہ وہ بات ہے ، جو سیاست دانوں نے پہلے کبھی کھل کر نہیں کی ۔
آصف علی زرداری ، میاں محمد نواز شریف اور عمران خان پاکستان کے ایسے سیاست دان ہیں ، جن کی سیاسی جماعتوں کو بڑی عوامی حمایت حاصل ہے لیکن ان کے حالیہ بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ انہیں عوامی طاقت پر یقین نہیں ہے ۔ انہوں نے دنیا کو بھی یہ باور کرا دیا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں غیر سیاسی قوتوں کا عمل دخل فیصلہ کن ہے ۔ اس طرح کے بیانات کے بعد کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ وہ سینیٹ کے سابق چیئرمین میاں رضا ربانی کی تجویز پر عمل کریں ۔
میاں رضا ربانی نے سینیٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے یہ تجویز دی تھی کہ ملک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ’’ ادارہ جاتی مکالمہ ‘‘ ( Institutional Dialogue ) شروع کیا جائے ۔ اس مکالمہ یا ڈائیلاگ میں فوج ، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے نمائندے شامل ہوں اور وہ طے کریں کہ ہر ادارے کا آئینی کردار کیا ہو گا ۔ انہوں نے یہ تجویز سینیٹ میں ہی پیش کی تھی ۔ غالباً اگست 2017 ء میں ہی تجویز پیش کی گئی تھی ۔ میاں رضا ربانی نے ارکان سینیٹ سے اس تجویز کی تائید بھی حاصل کی تھی اور یہ بھی طے ہوا تھا کہ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے ، جو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے غور کرے کہ ریاست کے اداروں کے مابین کوئی تصادم نہ ہو ۔ میاں رضا ربانی کی اس تجویز کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ ریاستی اداروں کے مابین کھینچا تانی موجود ہے اور بڑے تصادم سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈائیلاگ کے ذریعہ اداروں کے آئینی کردار کا ازسر نو تعین کیا جائے تاکہ ادارے اپنے اس آئینی کردار تک محدود رہیں ۔ اس وقت میاں رضا ربانی کی اس تجویز کی خود ان کی پارٹی قیادت نے حمایت نہیں کی تھی جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی کھل کر اس پر اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کیا تھا کیونکہ کوئی سیاسی رہنما اس وقت اپنے منہ سے یہ نہیں کہنا چاہتا تھا کہ سیاست میں غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت ہے لیکن اب تین بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین بالواسطہ یا براہ راست طور پر یہی بات کر رہے ہیں ۔ عمران خان اگرچہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اب ادارے نیو ٹرل ہو گئے ہیں لیکن وہ اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں آزاد امیدوار زیادہ آ گئے تو اس سے ملک تباہ ہو گا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد ان سیاست دانوں کے بیانات کیا ہوں گے ۔ تاریخ کا عمل بے رحمانہ ہوتا ہے اور تضادات کو اپنے منطقی انجام تک پہنچاتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ ’’ ادارہ جاتی مکالمہ ‘‘ کی تجویز پر غور کیا جائے ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں