آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیپال جنوبی ایشیا کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کی آبادی تقریباً تین کروڑ کے لگ بھگ ہے، اس کا دارالحکومت کھٹمنڈو ہے جس کی آبادی سترہ لاکھ کے قریب ہے ،نیپال کی سب سے بڑی پہچان مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی چوٹی کے طورپر جانا جاتا ہے۔نیپال پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی طرح قدرتی حسین سے مالا مال ہے اور ٹورازم فرینڈلی ملک کے طورپر بھی پہچان رکھتا ہے۔نیپال میں سالانہ دس لاکھ کے قریب سیاح آتے ہیں۔نیپال کا دارالحکومت کھٹمنڈو کوئی زیادہ متاثرکن اور خوبصورت نہیں ہے لیکن آپ جب بھی کھٹمنڈو جائیں آپ کو چھوٹے چھوٹے بازاروں، دکانوں اورکلبوں میں گورے ٹورسٹ گھومتے پھرتے نظرآتے ہیں۔درمیانے درجے کے ہوٹلوں کا بھی کاروبار زوروں پر ہوتا ہے ۔کھٹمنڈو میں ایک بازارہے جس کا نام تھامل ہے اس بازارمیں جگہ جگہ ریسٹورنٹس اور کلب بنے ہوئے ہیں جن کے صدردرازوں پر بورڈآویزاں ہیں کہ یہ صرف غیر ملکی سیاحوں کےلیے ہیں اور مجال ہے کہ ان ریسٹورنٹس میں ملکی لوگ جانے کی کوشش کریں یا اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے زبردستی گھسنے کی کوشش کریں۔یہ لوگ سیاحوں کی بہت قدر کرتے ہیں۔ان کے نخرے برداشت کرتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر سیاح کی خوب آئو بھگت کریں۔ ہوٹلوں کی طرف سے اور باہرگھومتے پھرتے آپ کو ٹورسٹ گائیڈ بھی

آسانی سے مل جاتے ہیں لیکن یہ تمام ٹورسٹ گائیڈ حکومت کے پاس رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور انگلش بولنے میں مہارت کے ساتھ ساتھ اپنے کام کے ماہر اور تربیت یافتہ ہوتے ہیں ۔ٹورسٹ ان پر اندھا دھند اعتماد کرتے ہیں کیونکہ ایمانداری اور ٹورسٹ کے ساتھ وفاداری ان کے سنہرے اصول ہوتے ہیں ۔آج سے کچھ دہائیاں پہلے ایک ٹورسٹ گائیڈ نے لالچ میں آکر ایک غیر ملکی ٹورسٹ کو قتل کرکے اس کا مال اسباب لوٹ لیا تھا۔تو حکومت نے نہ صرف اس ٹورسٹ گائیڈ کو سخت سزا دے کر عبرت کا نشان بنایا بلکہ اس کا سٹ(caste) کے تمام ٹورسٹ گائیڈزپرپابندی لگادی کہ یہ ٹورسٹ گائیڈز کی ذمہ داری پوری کرنے کے اہل نہیں۔ تاہم کچھ عرصہ بعد ان پر پابندی اٹھالی گئی تھی۔ اس کے بعد وہاںچوری چکاری یا ڈکیتی کی کوئی واردات دیکھنے کو نہیں ملی اس لیے ٹورسٹ ساری رات کھٹمنڈو کے کلبوں میں اور بازاروں میں آزادانہ گھومتے نظرآتے ہیں۔ان سیاحوں کی آمد سے حکومت نیپال کو خاطر خواہ زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے ان کی ہوٹل انڈسٹری کی سارا سال چاندی رہتی ہے اور ہوٹل انڈسٹری سے منسلک دیگر شعبوں کو بھی ترقی ملتی ہے چھوٹی چھوٹی مارکیٹوں سے خوب خریداری ہوتی ہے مٹی اور دھات کے بنے ہوئے ڈیکوریشن پیس خوب بکتے ہیں۔ جبکہ نیپال کے دیگر سیاحتی مقامات پر لے کرجانے والی گاڑیوں کی بھی خوب بکنگ رہتی ہے۔ لیکن یہ واضح رہے کہ دنیا کی سب سے بڑی چوٹی مائونٹ ایورسٹ کے ہونے سے نیپال کو پہچان ضرور ملی ہے لیکن سارے سیاح اس چوٹی کو سرکرنے کے لیے نہیں جاتے بلکہ ٹو ر سٹ فر ینڈ لی ہو نے اور نیپا ل کی خو بصو ر تی کے دیگر نظا رے کر نے جا تے ہیں۔ قد رت نے پا کستا ن کو بھی قد ر تی حسن سے ما لا مال کر رکھا ہے، دنیا کی دوسری بڑی چوٹی پاکستان میں ہے جسے ہم کے ٹو کے نام سے جانتے ہیں اگر مائونٹ ایورسٹ کی بلندی 8848 میٹرز ہے تو کے ٹو کی بلندی8611 میٹرز ہے پاکستان کا انفرااسٹرکچر بھی نیپال سے بہت بہتر ہے لیکن پاکستان میں امن وامان کی صورتحال کی وجہ سے سیاح پاکستان آنے سے گھبراتے ہیں۔ جبکہ ہماری حکومتوں نے سیاحت کے شعبہ کے حوالے سے بھی کچھ زیادہ سنجیدگی سے کام نہیں کیا ہے۔لیکن پچھلے کچھ سالوں سے پاکستان کا ڈومیسٹک ٹورازم زوروں پر ہے لوگ شمالی علاقہ جات،کشمیر اور دیگر خوبصورت علاقوں کا بھرپور رخ کرتے ہیں بلکہ گرمی کی چھٹیوں میں تو بعض مقامات پر ہوٹلوںمیں جگہ تک نہیں ملتی۔ اس کے باوجودکہ ان مقا مات پر کھانے کے خراب معیار اور زیادہ ترہوٹلوں کی بر ی اور مہنگی رہائش کے باوجود پاکستانی لوگ خوب خرچہ کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں وفاقی دارالحکومت کے قریب مری کا سیاحتی علاقہ تو تقریباً سارا سال ہی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنارہتا ہے۔ حالانکہ وہاں سوائے ایکسپریس ہائی وے کے کچھ زیادہ انفرااسٹرکچر نہیں بن سکا۔ ہوٹلوں کی رہائش اور کھانے پینے کی اشیاء بھی غیر معیا ری اورمہنگے داموں ملتی ہے لیکن اس سے زیادہ بری بات وہاں کے مقامی لوگوں کا سیاحوں سے برا برتائو ہے۔ یہ درست ہے کہ سیاحوں کے روپ میں کچھ من چلے بھی خرابی کا باعث بنتے ہیں لیکن مقامی لوگوں اوروہاں کاروبارکرنے والے لوگوں کو آنے والے سیاحوں کی بہت آئو بھگت کرنی چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ پچھلے کچھ دنوں سے تو مارکٹائی اور فیملی کے ساتھ برے برتائو سمیت بری خبریں آرہی ہیں ۔سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی اس بات کی گواہی دے رہی ہیں جو بہت زیادتی اورسیاحت کے اصولوں کے سخت خلاف ہے ۔مری کے مقامی لوگوں اور مری کی انتظامیہ کوان کے سدباب کے لیے آگے آنا چاہیے ورنہ اگر روزی اور رزق روٹھ جائے تو پھراسے واپس لانا بہت مشکل ہوتا ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں