آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عہد نو کی سیاسی تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ 10 مئی 2018ء کو رونما ہوا ، جب ملائیشیا کے مقبول ترین سیاسی رہنما اور تیسری دنیا کی ترقی کے داعی ڈاکٹر مہاتیر محمد نے 92 سال کی عمر میں ملائیشیا کے 7 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عمر میں انہوں نے نہ صرف سیاست سے اپنی ریٹائرمنٹ واپس لی بلکہ ملائیشیا کے عوام نے انہیں ایک بار پھر اپنے اعتماد سے نوازا ہے ۔ اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اس سیاسی جماعت ’’ باریسان نیشنل ‘‘ کے 61سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا ہے ، جو 1957 ء میں ملائیشیا کی آزادی کے بعد سے اب تک بلا شرکت غیرے ملک پر حکومت کر رہی تھی ۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سیاسی جماعت سے خود ڈاکٹر مہاتیر محمد 71سال تک یعنی 1946 ءسے 2016ء تک وابستہ رہے اور اسی سیاسی جماعت کے نمائندےکے طور پر 24 سال تک ( 6 جولائی 1981 ء سے 31اکتوبر 2003ء تک ) پانچ آئینی مدتوں کیلئے ملائیشیا کے وزیر اعظم رہے ۔ ’’ باریسان نیشنل ‘‘ صرف سیاسی جماعت ہی نہیں بلکہ ملائیشیا کی حقیقی مقتدر قوتوں ( اسٹیبلشمنٹ) کا سیاسی چہرہ بن چکی تھی ۔ باریسان نیشنل کی وجہ سے مہاتیر محمد طویل ترین مدت تک اقتدار میں رہے اور آج مہاتیر محمد کی وجہ سے باریسان نیشنل کے طویل ترین اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ہے ۔ یہ سب

کچھ کیسے ہوا ؟ اس پر گہرائی سے غور کریں تو مزید حیرت انگیز حقائق منکشف ہونگے ، جن میں ہمارے لئے کئی سبق پوشیدہ ہیں ۔
ہمارے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اپنے ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ڈاکٹر مہا تیر محمد ان کے آئیڈیل سیاست دان ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی ڈاکٹر مہاتیر محمد کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ مہاتیر محمد آج کی دنیا کے بڑے سیاست دانوں ، دانشوروں اور تیسری دنیا کے عوام کے ہیرو ہیں ۔ انہوںنے تاریخ میں بڑی آزمائش کے بعد یہ مرتبہ حاصل کیا ہے ۔ ان کا تاریخ میں یہ دوسرا سیاسی جنم ہے ۔ ایک مہاتیر محمد کا جنم وہ تھا ، جب انہوں نے باریسان نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے جدید ملائیشیا کی تعمیر کی اور سرد جنگ کے آخری سالوں سے لے کر سرد جنگ کے بعد کے عہد میں ساری طاقتوں کے سامنے سینہ سپر رہے اور ملا ئیشیا سمیت تیسری دنیا کی حقیقی سیاسی اور معاشی خود مختاری کیلئے لڑتے رہے ۔ مہاتیر محمد کا دوسرا جنم یہ ہے ، جب انہیں محسوس ہوا کہ ان کی سیاسی جماعت غلط لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے ۔ ملک کی خود مختاری کا سودا کر رہی ہے اور بدعنوانی نے اسے عوام کیلئے جنگ کے راستے سے ہٹا دیا ہے ۔ ملائیشیا کے عوام نے بریسان نیشنل پارٹی کو مسترد کرکے مہاتیر محمد کا ہی دوسرے سیاسی جنم میں ساتھ دیا ۔ کاش بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ، ذوالفقار علی بھٹواور بینظیر بھٹو کو بھی اتنی طویل عمر ملتی اور ان کا ایک اور سیاسی جنم ہوتا ۔
ڈاکٹر مہاتیر محمد سے میری دو ملاقاتیں ہوئیں اور دونوں ملاقاتیں ون ٹو ون تھیں ۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم کی حیثیت سے وہ دو مرتبہ پاکستان تشریف لائے ۔ دونوں مرتبہ انہوں نے کراچی کا دورہ بھی کیا ۔ 1990's میں یہ دورے ہوئے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر کی حیثیت سے ڈاکٹر مہاتیر محمد کی مہمان داری اور پروٹوکول کی ذمہ داری کا اعزاز مجھے حاصل ہوا ۔ اس طرح ان سے ون ٹو ون ملاقاتوں میں ملائیشیا اور پاکستان کی سیاست اور علاقائی و عالمی حالات پر تبادلہ خیال کرنے کاموقع ملا ۔ ڈاکٹر صاحب کا بیانیہ وہی تھا ، جو سرد جنگ کے دور میں تیسری دنیا کے سامراج مخالف مقبول سیاسی رہنماؤں کا تھا ۔ ان کیساتھ گفتگو میں یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے ماوزے تنگ ، یا ذوالفقار علی بھٹو کی تحریریں پڑھی جا رہی ہیں ۔ وہ مجھے ’’ مسٹر نفیس ‘‘ نہیں بلکہ ’’ نفیس ‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے ۔ یہ بڑے لوگوں کا وطیرہ ہے کہ ملنے والے سے جلد اپنائیت کا رشتہ قائم کر لیتے ہیں اور بیگانگی کی دیوار فورا گرا دیتے ہیں ۔ ملکی ، علاقائی اور عالمی سیاست پر انہیں گرفت حاصل تھی ۔ انہیں تاریخ کا گہرا ادراک حاصل تھاانکی اپنےعوام کی نبض پر گرفت تھی اور اپنے عہد کے فلسفیانہ اور سیاسی مباحث میں وہ مکمل طور پر شامل تھے اور پیچیدہ اور اہم سوالوں کا ان کے پاس جواب موجود تھا ۔ ایک مرتبہ میں انہیں الوداع کہنےگیا ان کی پرواز کسی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو گئی ۔ پرانے کراچی ایئرپورٹ کے وی آئی پی میں ہم ان کے ساتھ کافی دیر بیٹھے رہے ۔ اس وقت کے سندھ کے گورنر محمود ہارون صاحب بھی وہاں موجود تھے ۔ اس نشست میں مختلف موضوعات پر بہت زیادہ باتیں ہوئیں ۔ میں انکے یہ الفاظ آج تک نہیں بھولا کہ ’’ انجانی قوتوں کے بجائے عوام پر بھروسہ کیا جائے ۔ عوام ہی ہر کامیابی کا سرچشمہ ہیں ۔ عوام کبھی دھوکا نہیں دیتے بشرطیکہ آپ انہیں دھوکا نہ دیں ۔ ‘‘ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنی یہ باتیں سچ ثابت کر دی ہیں ۔
ملائیشیا کی حقیقی ترقی اور جدید ملائیشیا کی تعمیر کا اصل دور وہی تھا ، جب ڈاکٹر مہاتیر محمد وہاں کے وزیر اعظم تھے۔ انہوں نے ملائیشیا میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے بڑے منصوبے مکمل کئے ۔ ان کے دور میں ہی ’’فرسودہ سماج ‘‘ جدیدیت سے آشکار ہوا اور وہاں تیز تر اقتصادی ترقی ہوئی ۔ اسی دور میں ہی ملائیشیا کے لوگ ایک متحد قوم بنے۔ مسلمان ، ملائی ، ہندو ، چینی اور دیگر مذہبی ، نسلی اور قومیتی گروہ ایک دوسرے کے قریب آئے اور ملائیشیائی قوم کا تصور اجاگرہوا ۔ ملائیشیا کئی صدیوں کی ضبت لگا کر عہدنو سے جڑ گیا ۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے نہ صرف اپنے ملک کی تعمیر کی بلکہ وہ عالمی رہنماتھے ۔ انہوں نے تیسری دنیا خصوصاً افریقا ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کے ملکوں کی حقیقی سیاسی اور معاشی خود مختاری کیلئے رہنما ئی کا کردار ادا کیا۔ وہ تیسری دنیا کے ان رہنماؤں میں شامل تھے ، جو عالمی سامراجی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتے تھے ۔ ان کے علاوہ ان رہنماؤں میں کیوبا کے فیڈل کاسترو ، پاکستان کی محترمہ بے نظیر بھٹو اور ایران کے محمد خاتمی شامل تھے ۔ ان رہنماؤں کو ’’ انجام ‘‘ تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ۔ سرد جنگ کے عہد میں تیسری دنیا کے سامراج دشمن اور مقبول رہنماؤں کو ان کے ’’ انجام ‘‘ تک پہنچا دیا گیا تھا اور تیسری دنیا کے ممالک کو ان مقبول رہنماؤں کے قبرستانوں میں تبدیل کر دیا گیا ۔ فیڈل کاسترو اس عہد کے عظیم رہنماؤں کی کہکشاں کا ایک ستارہ تھے ، جو ’’ انجام ‘‘ سے بچ گئے ۔ اس کہکشاں میں ڈاکٹر مہاتیر محمد بھی سرد جنگ کے عہد کے آخری سالوں میں چمکے ۔ وہ بھی بچ گئے ۔ سرد جنگ کے بعد عالمی طاقتوں کیلئے خطرہ بننے والے کئی نئے رہنما پیدا ہوئے ۔ ان سے پہلے والوں اور نئے رہنماؤں کو بھی انجام تک پہنچا دیا گیا ۔ مہاتیر پھر بھی بچ گئے ۔ وہ آج بھی عالمی طاقتوں کی منفی فہرست میں شامل ہیں لیکن وہ پھر عوام کی طاقت سے 92 سال کی عمر میں دوبارہ سیاسی جنم لے کر آ گئے ہیں ۔ ایک عظیم رہنما کے دوسرے جنم سے ہمارے لئے کئی سبق ہیں ۔ 92 سال کی عمر میں ملائیشیا کے عوام نے مہاتیر کو واپس لا کر یہ ثابت کر دیاہے کہ عہد نو میں قیادت کا قحط الرجال ہے ۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت نے وطن کی آزادی حاصل کی ، وہ سیاسی جماعت اگر اپنے راستے سے ہٹ جائے تو عوام اسے مسترد کر دیتے ہیں ۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ سیاسی جماعتوںکو مقبولیت انکے رہنماؤں کے کردار کی وجہ سے ملتی ہے ۔
باریسان نیشنل پارٹی مہاتیر کے زمانے میں پہلے سے زیادہ مقبول سیاسی جماعت بن گئی تھی لیکن اس کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کے کرپشن کے اسکینڈل کی وجہ سے اس سیاسی جماعت کی مقبولیت ختم ہو گئی ۔ ’’ ون ملائیشیا ڈویلپمنٹ برہارڈ ‘‘ نامی منصوبے میں بڑے کرپشن اسکینڈل نے اس ملک کا سیاسی نقشہ تبدیل کر دیا ۔ اس کرپشن کیخلاف بوڑھے مہاتیر نے سڑکوں پر عوام کے احتجاج کی قیادت کی ۔ 9 ستمبر 2016 ء کو اپنی نئی سیاسی جماعت ’’ ملائیشیا یونائیٹڈ انڈی جینس پارٹی ‘‘ قائم کی اور اپنے سابقہ سیاسی حریفوں کیساتھ سیاسی اتحاد بنا کر ملائیشیا کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔ ہم تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرتے لیکن ایک عظیم سیاسی رہنما کے دوسرے جنم کا غیرمعمولی واقعہ ایک تاریخی معجزہ ہے اور ہمارے سیاسی قائدین اور حکمرانوں کیلئے ایک انتباہ بھی ہے ۔ اگر مہاتیر کا دوسرا سیاسی جنم نہیں ہوتا تو ملائیشیا میں خونریزی ہوتی ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں