آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی کے گلستان میں پھول بھی کھلتے ہیں اور کانٹے بھی۔ زندگی کے سفر میں خوشیاں اور کامیابیاںبھی ملتی ہیں اورغم اور ناکامیاں بھی۔ زندگی بلاشبہ ایک حیرت کدہ ہے لیکن حیرت جب صدمہ بن جائے تو انسان غور وفکر کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے۔ صدمہ ہوا، مجھے بے حد صدمہ ہوامحترم میاں نوازشریف کا ممبئی حملے کے حوالے سے بیان پڑھ کر۔ بہت سے لوگ کہیں گے کہ ان کے لئے یہ بیان بالکل غیرمتوقع نہیں لیکن میرے لئے یہ بالکل غیر متوقع ہے۔ غیرمتوقع ان معنوں میں کہ میں میاں صاحب کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور 1990 تک ان کو قریب سے دیکھتا رہا ہوں۔ ظاہر ہے کہ وہ بدل چکے ہیں۔ یہ درست ہے کہ میاں صاحب کو کتب بینی سے دلچسپی نہیں، وہ ان لیڈروں میں سے نہیں جو کتابیں پڑھتے،غور و فکر کرتے اور نظریات کی دنیاتراشتے ہیں۔ وہ عملی انسان اورعملی سیاستدان ہیں۔ جب گہرا مطالعہ، غور و فکر، اعلیٰ کردار، ذہانت اور عمل سیاست کی بنیاد بن جائیں تو سیاستدان محمد علی جناح بن کر قائداعظم کہلاتا ہے لیکن قائداعظم تو خال خال ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی تو بقول حضرت مولانا شبیر عثمانی اورنگزیب کے بعد ایک ہی عظیم لیڈر نصیب ہوا جس نے آئینی، قانونی اور سب سے بڑھ کر نظریاتی جنگ لڑ کر ایک آزاد وطن لے دیا۔ سچ یہ ہے کہ نظریاتی جنگ ہی جہاد کہلاتی ہے اور قائداعظم محمد علی جناح نے جہاد کیا، قوم ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی تھی اور بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار رہتی تھی۔ یہی قائداعظم کے ’’جہاد‘‘ کی کامیابی کاراز تھا۔ 

میاں محمد نوازشریف کو جب میں نے چند برس تک قریب سے دیکھا تو ان میں قومی خدمت کا جذبہ پایا۔ ان کی شرافت اور مروت ان سے محبت کے لئے راستہ ہموار کرتی تھی۔ کتاب ، تحریک پاکستان، قائداعظم، اقبال سے وہ مانوس ضرور تھے لیکن ان کی کوئی نظریاتی بنیاد تھی نہ نظریاتی سیاست کا شعور تھا۔ محنت سے ان کی نظریاتی بنیاد بنائی گئی کیونکہ وہ سامع بہت اچھے تھے اور حافظہ اس قدر اچھاکہ جو سنتے وہ یادرہتا۔ اب جب میں نے ان کاممبئی حملے کے حوالے سے بیان پڑھاتو صدمے سے مجروح ہو گیا۔ ان کایہ اعتراف کہ ’’پاکستان سے دہشت گرد بھیجے گئے‘‘ ہماری تاریخ کاایک ایساسانحہ ہے جس کے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر اثرات مرتب ہوں گےاور پاکستان کےبار ےمیں تاثریاامیج خراب سے خراب تر ہوگابلکہ اب ہندوستان کوبھی ایک ایسا ہتھیار ہاتھ آگیا ہے جس سے وہ پاکستان پرمسلسل فائرنگ کرتا رہے گا۔اب ہندوستان پاکستان کو اس بیان کے ذریعے مسلسل دبائو میںرکھے گا اور اس دبائو سے فائدہ اٹھاکر نہ صرف اپنے آبی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے گا بلکہ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی پر بھی پاکستانی مداخلت کا غلاف چڑھائےگا۔ مختصر یہ کہ مجھے اس بیان یا اعتراف کے بے پناہ مضمرات نظر آتے ہیں۔ شیکسپیئر کی زبان میں اسے Most unkindnest cut of all قرار دیا جاسکتاہے۔ میاں شہبازشریف کہتے رہیں کہ میاں صاحب کے بیان کوتوڑ موڑ کر پیش کیاگیا ہے اور مسلم لیگ کی قیادت ہزار تاویلیں گھڑے سچ یہ ہے کہ میرے نزدیک یہ بیان ایک سانحے سے کم نہیں ہے۔ میاں صاحب کی نظریاتی پہچان کے حوالے سے مجھے حیرت اور ذہنی اذیت اس وقت ہوئی جب لندن سے واپسی کے بعد لاہور کی ایک تقریب میں موجود ہندوستانیوں اور ہندوئوں کو دیکھ کر انہوںنے کہا کہ ہم ایک جیسا لباس پہنتے ہیں، ایک جیسی خوراک کھاتے ہیں ، پھر یہ درمیان میں لکیر کہاں سے آگئی۔ یہ اس لکیر کی طرف اشارہ تھا جس کے طفیل وہ پاکستان کے تین بار وزیراعظم بنے ورنہ ہندوستان متحد رہتاتو نہ وہ لیڈر بنتے اور نہ ہی اتفاق فونڈری کی بنیاد رکھ سکتے۔ میاں صاحب کی اس نظریاتی شفٹ (Shift) سے مجھے اندازہ ہواکہ وہ غلط، سطحی، سیکولر اور ہندوستان نواز مشیروں میں گھر گئے ہیں جو بقول ہارون الرشید نہ تحریک پاکستان کا شعور رکھتے ہیں اور نہ ہی قائداعظم بارےکلمہ خیرکہتے ہیں۔ یہ بیان محض سجن جندل سے دوستی یا کاروباری رشتوں کاشاخسانہ نہیں تھا بلکہ یہ میاں صاحب کی ذہنی اور نظریاتی سوچ کو آشکارہ کرتاتھا کیونکہ وہ خود مطالعے اور غور و خوض کے عادی نہیں اس لئے مشیروںکے نظریات کے زیراثر رہتے ہیں ۔ ایک واقف حال کا کہنا ہے کہ وہ اقتدار سے محرومی کا انتقام ان قومی اداروں سے لے رہے ہیں جنہیں وہ اقتدار سے محرومی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ ایک محب وطن ایسا نہیں سوچ سکتا اور چاہے بھی تو ایسا نہیں کرسکتا۔ لگتاہے وہ کچھ غلط قسم کے مشیروں اور خوشامدیوںکے زیراثرہیں۔ اس ’’سوچ‘‘ کے آثار پہلی بار ان کے وزیراعظم بننے سے قبل لاہور کی ان دو تقریبات سے ظاہرہوئے جہاں انہوں نے تقسیم ہند کو محض لکیر قرار دیااور دوسری بار وہ آثار نیوز لیکس کی صورت میں ظاہرہوئے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ نیوز لیکس کے ڈرامے کامرکزی کردارہی اب اس انٹرویو کا اسکرپٹ رائٹر ہے، جس انٹرویو نے پاکستان آرمی کے ’’پاک‘‘ دامن کو داغدارثابت کرنے کی جسارت کی ہے۔ نیوز لیکس کے پس پردہ مشیران ہی اگر اس افسوسناک انٹرویو کے پس پردہ ہوں، تو مجھے ہرگز حیرت نہیںہوگی۔ بظاہر حقانی سازش، نیوز لیکس اور موجودہ اعتراف ایک ہی سلسلے کی کڑیاں نظرآتی ہیں کیونکہ ان سب کا مقصد فوجی قیادت کو ’’تھلے‘‘ لگانا تھا۔
میں وطن سے دور ہوں اگرچہ دل وہیں چھوڑ آیا تھا۔ دوری میں بعض اوقات صحیح سیاق و سباق سامنے نہیں آتے۔ میاں صاحب کے بیان کے بعد ہندوستانی میڈیا کی چیخ و پکار اور چنگھاڑ سن رہا ہوں جو جنگی بخار کی فضا پیدا کررہا ہے اور ممبئی سانحے کےساتھ پٹھان کوٹ حملے کو ملاکر پاکستانی آرمی پر حملے کر رہاہے۔ اس تناظر میں مجھے وہ کتاب یاد آ رہی ہے جو برادرم حفیظ نیازی نے 2013کے اوائل میں مجھے دی تھی اور جسے میں دلچسپی سے چند دنوں میں پڑھ گیا تھا۔ امریکہ کی ایک معروف صحافی کم بارکر کی یہ کتاب TALIBAN SHUFFLE پڑھنے کے لائق ہے۔ کم بارکر امریکی صحافی کی حیثیت سے 2002میں افغانستان آئی تھی۔ وہ شکاگو ٹریبون کی نمائندہ تھی۔ پھر سائوتھ ایشیا کی انچارج بن کر کچھ عرصہ اسلام آباد میں مقیم رہی۔ممبئی حملے کے بعد اس نے اجمل قصاب کے بارے تحقیق کرنے کےلئے رابطے کئے کیونکہ اس وقت پاکستان اجمل قصاب کو اپنا شہری تسلیم کرنے کےلئےتیار نہیں تھا، جبکہ ہندوستان اجمل قصاب کو اس سانحے کا مرکزی کردار قرار دے کر پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑکر رہا تھا۔ ہندوستانی میڈیاکا موقف تھاکہ پاکستان آرمی نے دہشت گرد تنظیمیں پال رکھی ہیں جنہیں ہندوستان کے خلاف استعمال کیاجاتاہے۔ اسی پروپیگنڈے کے نتیجے کے طور پر حافظ سعید اورمولانا اظہر پر اقوام متحدہ کی جانب سے بھی پابندیاں لگ چکی ہیں اور امریکہ کا عتاب بھی نازل ہو چکاہے۔ کم بارکر جو آج کل نیویارک ٹائمز سے منسلک ہے، بنیادی طور پر تحقیقی صحافت سے تعلق رکھتی ہے۔ کم بارکر کے بقول ممبئی سانحے کے بعداس نے میاں نواز شریف سے رابطہ کیا اور انٹرویو لینےرائے ونڈ پہنچ گئی جہاں نہایت پرتکلف دعوت اس کی منتظرتھی۔ اس وقت میاں صاحب تیسری باروزیراعظم نہیں بنے تھے لیکن پنجاب میں ان کا براردر ِ خورد خادم اعلیٰ پنجاب بن چکا تھا۔ کم بارکر نے اس کتاب میں لکھاہے کہ انٹرویو میں میاں صاحب نے اجمل قصاب کو پاکستانی تسلیم کیا اور پھر کم بارکر کی خواہش پر اسے پنجاب پولیس کی حفاظت میں اجمل قصاب کےگائوں نوید کوٹ بھیجا جہاں وہ اس کاگھر دیکھ کر اور محلے والوں سے مل کر آئی۔ اس وزٹ کی بنیاد پر اس نے شکاگو ٹربیون کے لئے تحقیقی رپورٹ لکھی اور پہلی باراجمل قصاب کا اصلی چہرہ دنیا کو دکھایا۔
ممبئی حملے پربہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں ایک یہودی لکھاری ڈیوڈسن کی کتاب اور دوسری ہندوستانی پولیس افسر کی کتاب ’’کرکرے کو کس نے قتل کیا؟‘‘ قابل ذکر ہیں۔ان کتابوں نے یہ ثابت کیا تھاکہ ممبئی حملہ ہندوستانی حکومت کی سازش تھی۔ ان کتابوں نے ہندوستانی رائے عامہ کوبھی تقسیم کردیا تھا۔ میاں صاحب کے اعتراف نے پاکستان کوواحد مجرم بنا کر عالمی دہشت گردوں کی قطار میں لاکھڑا کیا ہے۔ پاکستان کو قومی سلامتی اور خاص طور پر امریکی رویے کے باعث جس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے وہ قومی اتحاد کا تقاضا کرتے ہیں لیکن اس بیان نے قومی اتحاد کا شیرازہ بکھیر دیاہے۔ سچ یہ ہے کہ میں اب تک حیرت میں ہوں کہ میاں صاحب نے انتخابات سے تھوڑا عرصہ قبل ایسا بیان کیوںدیا ہے جو سارے سیاسی کھیل کو بگاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سازش ہے یا حماقت؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں