آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں ہر الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا ’’جن‘‘ نکال لیا جاتا ہے۔ چند غلط مفروضوں کی بنیاد پر اس علاقے کے انتخابات پر پیش گوئیاں کی جاتی ہیں جو کبھی بھی سچ ثابت نہیں ہوئیں۔ اس مرتبہ بھی مسلم لیگ (ن) چھوڑنے والے چند ممبروں نے یہ جن نکالا لیکن اس جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی کشتی سمندر میں اترتے ہی ڈوبنے لگی اور اس کے سوار جلدی جلدی عمران خان کے جہاز میں سوار ہو گئے۔ غالباً جنوبی پنجاب صوبے کے دعویداروں کو چند دنوں میں ہی معلوم ہو گیا کہ وہ اس نعرے پر انتخابات نہیں جیت سکتے اور ان کو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے پاکستان تحریک انصاف کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔ یہ نتیجہ نکالنا اتنا مشکل نہیں تھا کیونکہ اگر اس نعرے پر الیکشن جیتا جا سکتا تو پچھلے الیکشنوں میں پیپلز پارٹی فتح یاب ہو تی۔ ہم نے پچھلے الیکشن میں بھی اپنے کالم میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی پنجاب میں گونا گوں وجوہات کی بنا پر علیحدہ صوبے کے نام پر الیکشن نہیں جیتا جا سکتا اور یہی کچھ ہوا، یعنی پاکستان مسلم لیگ (ن) باقی پنجاب کی طرح اس علاقے میں بھی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ آنے والے الیکشنوں میںبھی جنوبی پنجاب میں اسی پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں گے جو وسطی پنجاب میں کامیاب ہو گی۔
سب

سے پہلے تو یہی امر اہم ہے کہ پچھلے الیکشنوں تک سرائیکی صوبے کا نعرہ لگایا جاتا تھا جس کو تبدیل کرکے جنوبی پنجاب صوبہ کا نام دیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ جنوبی پنجاب کے بہت سے علاقوں میں پنجابی آبادکاروں کی اکثریت ہے جو سرائیکی کے نام پر ووٹ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لسانی نعرے کو ترک کرکے یہ کہنا کہ نئے صوبے کی ضرورت انتظامی وجوہات کی بنا پر ہے ایک طرح سے شکست کے مترادف ہے۔ اگر پنجاب کو انتظامی وجوہات کی بنا پر تقسیم کیا جانا ہے تو اس کے لئے ٹھوس معروضی حالات کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ابھی تک پنجاب کی تقسیم کا مقدمہ غلط مفروضوں کی بنا پر قائم کیا گیا ہے۔
سب سے بڑا مفروضہ یہ ہے کہ پنجاب بہت بڑا صوبہ ہے لہٰذا اس کے انتظامی امور اچھی طرح سے نہیں چلائے جا رہے۔ کسی ایک صوبے کا آبادی یا رقبے کے لحاظ سے بڑا ہونے کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ وہ ترقی میں دوسرے صوبوں سے پیچھے رہ جائے گا۔ امریکہ میں چالیس ملین کے ساتھ سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کیلیفورنیا امیر ترین ہے جبکہ امریکہ کی غریب ترین ریاست مسس پی کی کل آبادی تین ملین کے قریب ہے۔ ریاست کیلیفورنیا اگر علیحدہ ملک ہو تو اس کی معیشت دنیا میں پانچویں نمبر پر ہو اور اس سے آبادی میں بہت ہی کم مسس پی ترقی پذیر ممالک کی مانند ہے۔
پاکستان میں سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود پنجاب سب سے زیادہ خوشحال رہا ہے اور اب بھی ہے: اگر پنجاب کو علیحدہ ملک کے طور پر لیا جائے تو وہ دنیا میںدرمیانی آمدنی والے ممالک میں شمار کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنوبی پنجاب تو پس ماندہ رہ گیا ہے اور اس لئے اسے علیحدہ کرنے کا جواز موجود ہے۔ جاگیرداری کے بوجھ تلے دبا ہوا جنوبی پنجاب کا بہت سا علاقہ 1947میں بھی وسطی پنجاب کے مقابلے میں پس ماندہ تھا۔ اب جنوبی پنجاب میں معاشی ترقی کی رفتار کو دیکھنے کے لئے اس کا مقابلہ وسطی پنجاب کے بجائے دوسرے چھوٹے صوبوں سے کیا جانا چاہئے۔ استعارے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے کہ کیا آج کا ملتان شہر سندھ کے حیدرآباد، خیبر پختون خوا کے پشاور اور بلوچستان کے کوئٹہ سے بہتر ہے یا بد تر؟ باقی شہروں کا تو ہمیں زیادہ علم نہیں ہے لیکن یہ معلوم ہے کہ حیدر آباد کی حالت ملتان کیا پنجاب کے ساہیوال سے بھی بد تر ہے۔ منطقی بنیادوں پر یہ دیکھا جانا چاہئے کہ کیا پچھلے ستر برس میں جنوبی پنجاب نے زیادہ ترقی کی ہے یا دوسرے چھوٹے صوبوں نے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب نے دوسرے چھوٹے صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی کی ہے اور اسی لئے اس علاقے کے عوام کو علیحدہ صوبے میں دلچسپی نہیں ہے اور وہ انہی پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں جن کو وسطی پنجاب میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ اس لئے اس بات پر حیرانی نہیں ہے کہ آدھ درجن قومی اسمبلی کے ممبران مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ چکے ہیں:اصلی کہانی یہ ہے کہ تمام تر وجوہات کے باوجود جنوبی پنجاب کے تین درجن ممبران قومی اسمبلی کی اکثریت اب بھی مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہے اور ملتان میں مسلم لیگ (ن)کا کامیاب جلسہ ہوتا ہے۔
اگر تاریخی طور پر سیاسی رجحانات کو دیکھا جائے تو 1970کے انتخابات میں ساہیوال سے لے کر راولپنڈی تک ایک سیاسی لہر تھی جس کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب و کامران ٹھہری۔ اس الیکشن میں جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی زیادہ کامیاب نہیں ہوئی تھی اور زیادہ سیٹوں پر روایتی جاگیر دار ہی جیتے تھے۔ پھر جب جاگیرداروں کا بہت بڑا ٹولہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گیا تو وہ اس علاقے میں اپنی حیثیت بہتر بنانے میں کامیاب ہونے لگی۔ جب وسطی پنجاب سے پیپلز پارٹی کا صفایا ہونے لگا تو پھر بھی وہ جنوبی پنجاب میں کافی بہتر حالت میں تھی۔ لیکن جنوبی پنجاب بھی معاشی ترقی کی وجہ سے وسطی پنجاب کی طرح کا ہو گیا اور پچھلے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی سیاسی لہر ملتان سے راولپنڈی تک غالب آگئی۔ جنوبی پنجاب کے عوام نے یہ عندیہ دیا کہ وہ جاگیرداروں کے چنگل میں پھنسنا نہیں چاہتے اور وہ وسطی پنجاب کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس پس منظر میں اگر تاریخی رجحان کو مد نظر رکھا جائے تو زیادہ امکان یہ ہے کہ جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب میں ایک ہی طرح کی سیاسی لہر غالب آئے گی۔ اس ساری دلیل کا یہ ہرگز مقصد نہیں ہے کہ پنجاب میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے: پنجاب میں بھی وسائل اور اقتدار کو نچلی سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے ۔ وفاقی سطح پر بھی صوبوں میں طاقت کے توازن کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں