آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 5؍صفر المظفّر 1440ھ 15؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (ٹی وی رپورٹ) مسلم لیگ ن کے امتحانات کا سلسلہ جاری ہے اور یہ ایک اور امتحان ہے کہ ختم نہیں ہوپارہا ہے کیونکہ اصغر کیس کے حوالے سے ایف آئی اے کی کمیٹی بن گئی ہے جو رپورٹ کرے گی سپریم کورٹ کو ،میاں نواز شریف نے نیشنل سیکورٹی کے اعلامیہ کو ریجکٹ کردیا ہے ، سوال یہ ہے میاں نواز شریف صاحب جس راہ پر چل پڑے ہیں اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ انہوں نے تمام کشتیاں جلادی ہیں خاص طو رپر اس وقت جب الیکشن اب سے کچھ مہینے بعد ہونے والے ہیں ۔ شاہد خاقان عباسی ہوں یا شہباز شریف ان کی وضاحتیں کیا مسلم لیگ ن کو مسائل سے نکال سکتی ہیں ۔ یہ کہنا تھا جیو نیوز کے پروگرام آپس کی بات کے میزبان منیب فاروق کا جو اپنے پروگرام میں ولید اقبال رہنما تحریک انصاف ، حفیظ اللہ نیازی کالم نگار ، تجزیہ کار اور صحافی مظہر عباس ، شہلا رضا ، رہنما پاکستان پیپلز پارٹی سے گفتگو کررہے تھے ۔ منیب فاروق کا کہنا تھاکہ وزیراعظم اور شہباز شریف جو وضاحت پیش کررہے ہیں نواز شریف کا بیانیہ اس کے قریب سے بھی نہیں گزر رہا ہے ، وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے ایک پریس کانفرنس کی لیکن معمہ یہ بنا ہوا ہے کہ کہ ان کی پریس کانفرنس سرکاری ٹی وی نے نشرکیوں نہیں کی،غیر مصدقہ ذرائع بہت سے اطلاعات بھی فراہم کررہے ہیں ، وزیراعظم کی پریس کانفرنس کے حوالے سے

پرائم منسٹر ہاؤس کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ آن ایئر نہیں جارہی ہے اس کی وجہ کیا ہے ۔ چیئرمین نیب کو طلب کرلیا ہے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اور اب تک کی معلومات کے مطابق نیب سے ایک فحش غلطی ہوئی ہے کیا غلطی تسلیم کی جائے گی یا نہیں ۔ ان رہنمائوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کا آپس میں جو توازن ہوتا ہے وہ رہنا چاہئے، جب بھی نواز شریف اپنے موقف پر ڈٹے ہیں ان کو پذیرائی ملی ہے۔حفیظ اللہ نیازی نے اپنی گفتگو میں کہا میاں نواز شریف کی بات پر جو ہنگامہ ہے یہ اس حلقے کی طرف سے ہے جو گزشتہ سال ڈیڑھ سال سے نواز شریف پر یہی الزام لگارہا ہے کہ مودی کا یار ہے ،یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے نواز شریف پر ہر طرح کا الزام لگایا ہے اپنے سیاسی معاملات کو چلانے کے لئے اور اس کے لئے سوشل میڈیا کا بہیمانہ استعمال کیا گیا ہے اورایسا محسوس ہورہا تھا کہ مشرقی پاکستان کے سانحے میں بھی نواز شریف ملوث رہے ہیں حد تو یہ ہے کہ ٹائٹینک کے ڈوبنے تک میں میاں صاحب کے ہاتھ کی بات آگئی تھی جس پر منیب فاروق کا برجستہ کہنا تھا کہ اگر پی ایم ایل این کو ٹائٹینک کہا جائے تو اس میں واقعی انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے جس پر حفیظ اللہ نیازی کا جواب تھا کہ مجھے بھی نواز شریف کی بات پر اعتراض ہے جو انہوں نے کی ہے اور میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اس کو ان کو Avoid کرنا چاہئے تھا ۔ حفیظ اللہ نیازی نے دعویٰ کیا کہ آپ چند دنوں بعد جب میاں صاحب کے جلسے دیکھیں گے تو اس میں ایک نئی پذیرائی دیکھیں گے اور پھر یہی لوگ ان لوگوں کو ہکا بکا کردیں گے کیونکہ یہ لوگ اپنی سیاسی سمجھ بوجھ سے بالکل نابلد عاری ہیں لیکن بات یہ ہے کہ یہاں پر منافقت یہی ہورہی ہے کہ یہی بات ہر بندے نے اپنے انداز میں اس سے زیادہ مشکل طریقے سے کی ہے 11نومبر 2011 میں عمران خان نے ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیا ،مجھے کیا پڑی تھی کہ اس انٹرویو کو دیکھ کر میں نے حامد میر کی منت کرکے سارے کردار زندہ ہیں اگلے دن عمران خان کا انٹرویو کرایا اور اس کو کوشش کی کہ کسی طریقے سے تھوڑانیچے آجائے ۔ اس کے بعد عمران خان نے اکتوبر 2012ء میں بھارتی اخبار کے ساتھ ان کا انٹرویو تھا اس کے اندر ایسی ایسی باتیں کہیں کہ اگر وہ میں کہوں تو شاید نشر بھی نہ ہوسکیں ۔ یہی زرداری صاحب نے کیا سارے کرتے ہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں