آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ذوالحجہ 1439ھ16؍ اگست 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومتی سطح پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود حقیقت یہ ہےکہ رواں موسم گرما میں بھی ملک بھر خصوصاً شہر کراچی میں بجلی کی بندش زوروں پر ہے۔ کراچی میں تو گزشتہ ایک ماہ سے بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس وقت شہر بھر میں عمومی طور پردس سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے اور رمضان المبارک میں بھی صورتحال میں بہتری کا امکان نظر نہیں آرہا۔ حیرت انگیز امر تو یہ ہے وزیراعظم، عدلیہ اور نیپرا کی جانب سے نوٹس لئے جانے کے بعد بھی بجلی کی فراہمی میں تاحال کوئی بہتری نہیں آئی۔ بلکہ کے الیکٹرک انتظامیہ نے ایک پرزہ نہ ہونے کا نیا جواز تراشتے ہوئے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ مزید جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ کے ای ترجمان کے مطابق بن قاسم پاور اسٹیشن کے متاثرہ یونٹ کی بحالی کیلئے پرزہ ہالینڈ سے لایا جا رہا ہے،41 ٹن وزنی پرزہ ہوائی جہاز کے ذریعے16 مئی کو کراچی پہنچنا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ بیرون ملک سے ماہرین طلب کئے جاچکے ہیں۔ پرزے کی تنصیب اور متاثرہ یونٹ کی بحالی کا عمل 20مئی تک مکمل ہوگا جس کے بعدبجلی کی رسد بہتر ہو جائے گی۔ بجلی کی بندش سےجہاں ایک طرف سخت گرمی سے پریشان عوام اذیت مسلسل میں مبتلا ہیں تو دوسری جانب شہر کی تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں جس کے اثرات ملکی معیشت پر بھی مرتب

ہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے بھی کراچی میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے معاملے کی سماعت کی اور کے ای انتظامیہ کی سخت سرزنش کرتے ہوئے بحران کے خاتمے کا حکم دیا۔ ایسی صورت میں کہ جب محکمہ موسمیات کی جانب سے ماہ رمضان میں بھی شدید گرمی کی پیش کوئی کی جارہی ہے، کے الیکٹرک کو بجلی کی مسلسل فراہمی کا پابند بنایا جانا چاہئے۔ ساتھ ہی اس پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو مذکورہ معاملےکا اعلیٰ سطح پر نوٹس لئے جانے کے باوجود مسئلے کے حل میں رکاوٹ ہیں۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں