آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 10؍صفر المظفّر 1440ھ 20؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن



فیشن کی دنیا میں انسانی بالوں کی وگ کی عالمی مانگ بڑھ رہی ہے،اس حوالے سے میانمار انسانی بالوں کی تجارت کا تیسرابڑاذریعہ ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورت کے مطابق میانمار سے آنے والے بال ایشیا کے بعد سب سے نرم اورسب سے زیادہ مطلوب تصور کئے جاتےہیں۔

اعداو شمار کے مطابق میانماربھارت اور تیونس کے بعد بال برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہےجہاں 2016 میں انسانی بالوں کی قیمت آٹھ کروڑ 74 لاکھ ڈالرز تھی۔

میانمار میں انسانی بالوں کی تجارت

چین میانمار کے بالوں کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے،میانمار سے بال پہلے چین بھیجے جاتے ہیں جہاں انہیں ایک عمل سے گزارا جاتا ہے اور پھر مغربی ممالک میں ہیئر اسٹائلسٹ کو فروخت کر دیئے جاتے ہیں۔

ایک مقامی بال فروش خاتون کا کہنا ہے کہ وہ بال کاٹنے کے پیسے لیتی نہیں بلکہ دیتی ہیں اور دن میں مجموعی طور پر سات سے دس خواتین بال کٹوانے آتی ہیں ، کچھ خواتین ان پیسوں کواپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں اور کئی ان پیسوں کو کسی خیراتی ادارے میں دے دیتی ہیں۔

میانمار میں انسانی بالوں کی تجارت

بالوں کی قیمت کا انحصار ان کے معیار اور وزن پر ہوتا ہے،جس خاتون کے بال لمبے ہوتے ہیں اس کے مزے آجاتے ہیں۔

پیسوں کی خاطرمرد حضرات بھی بال بڑھا کر کٹواتے ہیں مگر ایسا بہت ہی کم ہو تا ہے اگرچہخریداروں کو مردوں کے بھی بال خریدنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔

میانمار میں انسانی بالوں کی تجارت

واضح رہے بدھ مت کے نئے سال کے جشن کے دورانمیانمار میں بال کٹوانا قربانی دینےکے مترادف سمجھا جاتا ہے، اسی لئے کئی خواتین مذہب کی خاطر بالوں کی قربانی دے دیتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں