• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوبز میں خواتین کے بعد میل ماڈلز کو بھی ہراسانی کا سامنا

کراچی(اسٹاف رپورٹر)شوبزنس انڈسٹری میں خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف خواتین اداکارائوں کی جانب سے شرو ع کی گئی مہم ـ"می ٹوـــ"یعنی میں بھی مہم کے بعدایک پاکستانی میل ماڈل کی جانب سے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ شوبزنس انڈسٹری میں انہیں بھی جنسی طور پر ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا ہےاور شاید پاکستانی شوبزنس انڈسٹری میں کسی بھی میل ماڈل کی جانب سے یہ پہلا دعویٰ ہوگا کہ انہیں بھی ہراسگی کا سامنا کرنا پڑا ہےاور اس طرح پاکستان شوبزانڈسٹری میں عورتوں کے بعد پہلی بار مرد بھی’ می ٹو‘مہم کا حصہ بن گئے ،ماڈل مجاہد رسول نے فوٹو گرافر عظیم ثانی پر جنسی ہراسانی کا الزام لگا تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی فیشن انڈسٹری میں جنسی ہراسانی کا کلچر رائج ہے، جہاں طاقتور مرد شخصیات کا نوجوان مرد ماڈلز کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جانا معمول کا حصہ ہے۔ماڈل مجاہد رسول اپنے انسٹاگرام اکاونٹ پر ہیش ٹیگ ’وی ٹو‘ یعنی ’ہم بھی‘ کے ساتھ سلسلہ وار پوسٹس کرتے ہوئے کہا کہ وہ سات، آٹھ سال سے کامیابی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، جس میں ان کو مسلسل جنسی طور پر ہراسگی کا سامنا رہا ہے۔ماڈل مجاہد رسول کے پوسٹ پر بہت سے لوگوں نے ان کی حمایت میں پوسٹ کیں اور مجاہد رسول کو پاکستانی شوبزنس انڈسٹری میں جنسی طور پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف بات کرنے پران کے اس اقدام کو جرائت مندانہ اقدام قرار دیا ہے۔
تازہ ترین