آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کل اراکین قومی اسمبلی غلام بی بی بھروانہ ،صاحبزادہ محمد نذیر سلطان،کرنل غلام عباس قریشی، سابق رکن صوبائی اسمبلی مہر محمد اسلم بھروانہ، میاں مظفر محمود، رانا شہباز احمد خان، میاں آصف کھاٹیہ، غلام احمد خان گادھی، شیخ محمد یعقوب اور مہر سلطان سکندر بھروانہ نےپی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔آج نون لیگ کے رکن قومی اسمبلی سردار جعفر لغاری، سابق سینیٹر سردار محسن لغاری اور سابق ایم این اے ڈاکٹر مینا لغاری تحریک انصاف میں شامل ہوئے ۔ جب سے ’’شریف النفس ‘‘نواز شریف اور اُن کی ’’نظریہ نواز ‘‘بیٹی مریم نوازنے بھارت کے بیانیہ سے اپنا بیانیہ ملاکرافواج ِ پاکستان کو ہدف بنایا ہے لوگ جوق در جوق نون لیگ کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں ۔دراصل یہ مسلم لیگ کا ’’کانگریسی بیانیہ ‘‘جسے حسن نثار نے ’’شیطانیہ ‘‘کہا ہے ۔جسے ہارون الرشید نے ’’خدائی کا نشہ ‘‘ ۔نون لیگ کےلوگوں کے حلق سے نہیں گزر رہا۔مچھلی کے کانٹے کی طرح گلے میں اٹک کر رہ گیا ہے ۔لوگ جانتے ہیں کہ پاکستانی اپنی فوج سے زیادہ کسی سے محبت نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک یہی اس ملک خداداد کاآخری سہارا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستانی فوج ایک نظریاتی فوج ہے ،نظریہ پاکستان کی محافظ ہے ۔یہاں یہ بات ضرور مد نظر رکھی جائے کہ پاکستان اور بھارت کے

درمیان ہونے والی جنگوں کی بنیاد یہی ’’نظریہ ‘‘ہے ۔جس کے بارے میں اندرا گاندھی نے 1971 کی جنگ کے بعد کہا تھا کہ ’’ ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج ِ بنگال میں ڈبو دیا ہے‘‘۔ یعنی نظریہ پاکستان کےمخالف بھارتی حکمران ہیں بھارتی فوج ہے جوبرسوں سے نظریہ پاکستان کے خلاف مصروف جنگ ہے کبھی انڈین یہ جنگ وزیر ستان میں لڑتے ہیں تو کبھی بلوچستان میں ۔جنگوں کی نوعیت بس اب ذرا سی بدل گئی ہے ۔اب جنگ بیک وقت کئی محاذوں پر لڑی جارہی ہوتی ہے ۔ابھی کل ہی بلوچستان کے محاذ پرکرنل سہیل عابد شہید ہوئے ہیں ۔ تھوڑی دیر پہلے سیالکوٹ کے محاذ پر تین بچے ،ایک خاتون شہید اوردس شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر آئی ہے ۔ایسے میں اگر کسی شخص کا بیانیہ بھارت کا ہمنوا ہو تواسے نظریہ پاکستان کا مخالف نہ سمجھا جائےتو کیا سمجھا جائے۔
کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اِس ’’بیانیہ ‘‘ کومندر میں بٹھا کر اُس کی پوجا شروع کردی ہے ۔اس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈال رہے ہیں ۔اسے پاکستانی سیاست میں ’’رومان ‘‘کا درجہ دے رہے ہیں۔ انہیں تھوڑا سا پینٹا گون کےترجمان ڈانا ڈبلیو وائٹ کے اِ س بیان کی طرف بھی متوجہ ہونا چاہئے کہ ’’سابق وزیراعظم نواز شریف کے غیر ریاستی عناصر کے ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کےبیان کے بعد پاکستان فیصلہ کن موڑپر آ کھڑا ہوا ہے ‘‘۔ انہیں اِس بیان پر انڈین میڈیا کے تبصرے بھی سننے چاہئیں جس میں بار بار یہی کہا جارہا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نے آخر کار اقرار کر لیا ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کاسرپرست پاکستان ہے ۔دشمن ملک کا یہ میڈیا برسوں سے پاکستان کے خلاف ایسے زہریلے پروپیگنڈے کرتا چلا آرہا ہے ۔ہمیں اس سے گلہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ دشمنی تو دشمنی ہوتی ہے اس میں لوگ سورج کو بھی سیاہ گولا قرار دے دیتے ہیں ۔ہمیں توگلہ اپنے اندر چھپے ہوئوں سےہے جو ’’بھارتی بیانیہ ‘‘ کو اپنا بیانیہ بنائے پھرتے ہیں۔کچھ مفاد میں اور کچھ نادانی میں ۔میرا ایمان ہے کہ کوئی پاکستانی دہشت گرد نہیں ہو سکتاکیونکہ مذہبی دہشت گرد کا کوئی ملک نہیں ہوا کرتامگر کئی دوست کئی دہشت گردوں کو پاکستانی گردانتے ہیں ۔
ایک دوست نے لکھا ہے کہ’’دہشت گردی انتہاپسندی سے جنم لیتی ہے اور انتہاپسندی پاکستان میں کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے۔ قبل ازیں ہمیں سلفیوں اور دیوبندیوں کے بعض حلقوں کی انتہا پسندی کا سامنا تھا لیکن اب چند بریلوی حلقے بھی اس طرف مائل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں‘‘حالانکہ حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں ۔پاکستان میں دہشت گردی صرف وہ لوگ کررہے ہیں جن کی سرپرستی بھارت کررہاہے ۔ ۔بریلویوں پر یہ الزام کہ ان کا رجحان انتہاپسندی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔حقیقت کے قریب نہیں ۔ان کو صرف نون لیگ سے تکلیف ہے۔ پہلی وجہ ماڈل ٹائون کے خانہ درود میں شہید ہونے والے چودہ لوگ ہیں ۔دوسری وجہ ممتاز قادری کی سزائے موت ہے اور تیسری وجہ ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کی کوشش ہےاور اس وقت یہ تمام لوگ پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہے ہیں تاہم ان کے کچھ مولوی حضرات مولانافضل الرحمن وغیرہ کے ساتھ’’ ایم ایم اے ‘‘ میں بھی موجود ہیں ۔ تحریک ِ لبیک‘‘ کی بھی تھوڑی بہت مقبولیت ہے۔
تحریک انصاف نے آئندہ عام انتخابات میں ممکنہ کامیابی اور حکومت کے پہلے 100 دن کا جوپلان تیار کیاہے۔اور جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین کی مدد لی گئی ہے اُس میں بھی دہشت گردی کے معاملات کومد نظر رکھا گیا ہے ۔ میرے خیال ہےجب یہ سطور آپ پڑھ رہے ہونگے۔اُسی وقت عمران خان اپنا پلان جاری کر رہے ہونگے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں