آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزرے منگل (15مئی) کے ’’آئین نو‘‘ میں نواز شریف کا ’’ٹیلر میڈ پریشانیہ‘‘ پر قارئین کا فیڈ بیک (معلوم اثر یا نون امپیکٹ) دلچسپ رہا۔ سو، موضوع میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لئے اس کی مزید تشریح، ان ٹیک یا فالو اپ ہی نہیں ہوگا بلکہ یہ تعلیم عامہ کے زمرے میں آئے گا۔ پہلے کچھ فیڈ بیک بارے، کچھ نے تو ’’ٹیلرمیڈ پریشانیے‘‘ کو درست سمجھ کر اس کی عین روح کے مطابق گھڑی اصطلاح کو پراثر قرار دیا یعنی اسے عالم پریشانی میں نواز شریف کی کثیر المقاصد لیکن حد درجہ منفی نیت کا عکاس ہی جانا۔ کچھ نے سوال کھڑا کیا کہ پریشانیہ تو شاید سخت پریشانی میں دیا گیا بیانیہ ہے جبکہ بعض قارئین اس کے لسانی پہلو پرہی فوکس ہوگئے کہ نصف انگریزی اور نصف اردو سے گھڑی یہ کنفیوژڈ اصطلاح ہے۔ کچھ قارئین ’’ٹیلرمیڈ‘‘ کا مطلب نہ سمجھ پائے اور یہ پوچھا کہ نوازشریف کےبیانیے کا ٹیلر کون ہے؟ نواز شریف خود یا پریشانیہ (بیانیہ) کسی نے ان کے منہ میں ڈال دیا ہے اور وہ اس پر ڈٹ نہیں اَڑ گئے کہ یہ ان کی نظر میںبہت موثر ہوگا۔ واضح رہے ڈٹنا تو بہادری ہوتی ہے اَڑنا ہٹ دھرمی۔لیکن نوازشریف کے بارے میں تمام تجزیوںاور خبروں میں لکھا جارہاہے کہ وہ ’’ڈٹ‘‘ گئے، جو غلط ہے۔ ڈٹنا کی کانوٹیشن تو مثبت ہوتی ہے۔
قارئین کرام! یوں سمجھیں کہ مختلف شعبوں کی

مخصوص زبان کی طرح صحافت و سیاست کی زبان بھی ہمیشہ ہی ارتقا پذیر رہی ہے۔15روز میں ختم ہونے والے عشرہ ٔ جمہوریت نے ہر دو زبانوں کو دو ایسے الفاظ دیئے ہیں جن کا جاری چند سالوں میں سیاستدانوں کے میڈیا منیجرز، ان کے ابلاغی معاونین اور خود میڈیا نےاپنے سیاسی ابلاغ، خبروں اور تجزیوں میں بے دریغ استعمال کیاہے۔ یہ ہیں ’’ایک پیج‘‘ اور ’’بیانیہ‘‘ ..... ابلاغیات کے طالب علم کے طور پرمیری ’’بیانیے‘‘ کی تعریف یوں ہے ’’بیانیہ ابلاغ عامہ کی پیغام سازی میں مختصر ترین مگر جامع فقرے پر مشتمل ایسا پیغام ہے جو کسی بڑے مقصد یا مقاصدکے حصول کو بذریعہ مطلوب رائے عامہ کی تشکیل کے لئے تخلیق کیا جاتا ہے۔‘‘ بیانیہ (نیریٹو) سب سےزیادہ ترقیاتی ابلاغی بلند سطح کے سیاسی ابلاغ اور سائیکالوجیکل وار فیئر (جدید پروپیگنڈہ سائنس) کے ماہرین کے علاوہ سفارتی زبان میں استعمال ہوتا ہے لیکن اب یہ پاکستان کے سرگرم اور ووکل میڈیاکے ہتھے چڑھ گیا ہے تو اردو کے سیاسی ابلا غ اورمیڈیا میں ’’بیانیے‘‘ نے خوب جگہ بنائی ہے۔ ابلاغ عامہ کی پیغام سازی صرف خبر، انٹرویو، تجزیوں، کالم اور اداریے کی شکل یا اشتہاری سلوگنزتک ہی محدود نہیں،جب کسی مقصد پر رائے عامہ بنانا مقصود ہو تو مختصرترین مگر جامع مطلب کاحامل فقرہ تیارکرنا فقط ’’چائے کےکپ کی تیاری‘‘ نہیں ہوتی، یہ ابلاغی مہارت کے اہم اور حساس کاموں میں سے ایک ہے جو پاپڑ بیلنے سےبھی آگے کاہے، جس کے لئے ایک ہی نہیں کئی طرح کی مہارت اور تجربہ مطلوب ہونے کے علاوہ ابلاغ عامہ کی فہم اور علم سےواقفیت بھی لازم ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ کے تناظرمیں پراثر بیانیوں کی اہمیت اور نتیجہ خیز ہونے کا اندازہ اس سے لگالیں کہ یہ بیانیے دوقومی نظریے، بھارت کی تقسیم، پاکستان کے قیام، پھر پہلے عام ملکی انتخابات میں مشرقی پاکستان میں مجیب اورمغربی میں بھٹو کے اکثریت حاصل کرنےکی بڑی وجوہات کاباعث بنے۔
قارئین غور فرمائیں۔ جداگانہ انتخاب، دو قومی نظریہ، مسلمانان ہند کی علیحدہ ریاست، بنگلہ بندھو بنگلہ دیشی، روٹی کپڑا اور مکان، اُدھر تم اِدھر ہم،کتنے نتیجہ خیز بیانیے تھے۔ قطعہ نظراس کے کہ یہ نتائج کے اعتبار سے تاریخ کا سنگ میل بنے یا تباہ کن ثابت ہوئے، سو، واضح ہونا چاہئے کہ بیانیہ بے پناہ مہارت، ذمہ داری ، ناپ تول اور وسیع الدماغی سے تیار کرنا مطلوب ہوتا ہے۔ ’’ٹیلر میڈ میسیج کنسٹرکشن‘‘ کی اصطلاح منجھے ہوئے ماہرین ابلاغیات، خصوصاً ترقیاتی اورسیاسی ابلاغ کے بھی ماہر حساس اور اہم ترین پیغام سازی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
ہر شعبے کے بڑے مقصد کےلئے ہر بیانیہ ٹیلر میڈ ہونا چاہئے، تبھی وہ نتیجہ خیز ثابت ہوتاہے۔ ماہر اور اچھا ٹیلر جو لباس تیار کرتاہے وہ لباس برائے لباس ہی نہیں ہوتا بلکہ سترپوشی کے علاوہ ٹیلر کو گاہک کے آرام، لباس بمطابق موسم و شخصیت، شخصی خوش نمائی جیسے مقاصد پیش نظر رکھناہوتے ہیں۔ اس کے لئے وہ بہت احتیاط، مہارت، ناپ تول اور حساب کتاب سے لباس تیار کرتا ہے۔ گویا یہ اس کا بڑا منظم، سوچا سمجھا، نپا تلا ماہرانہ اور پیشہ ورانہ کام ہوتا ہے۔
نواز شریف کا جو حالیہ ’’بیانیہ‘‘ ملک بھر اور بھارت میں زیربحث ہے، خصوصاً پروپیگنڈے کے لئے نئی دلّی کے ہاتھ لگاہے وہ اپنی جانب سے تو ٹیلرمیڈ ہی ہے۔ جیسے اس کی تیاری ہوئی، جس طرح ’’ایک اخبار‘‘ کواستعمال کرتے ہوئے اس کے رپورٹر کو انگیج کیاگیا، مخصوص مقام کاتعین، پروٹوکول، پھر الٹا رپورٹر سے سوال کرتے ہوئے بڑی چالاکی سے بیانیے کی ادائیگی ہوئی کہ’’ہمیں نان اسٹیٹ ایکٹرز کو سرحدپار کرکے ممبئی میں 150افراد کوقتل کرنے کی اجازت دینی چاہئے؟ کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہماری طرف سے ایساہوا‘‘ اوراب اس کے درست یا غلط ہونے کا سوال اٹھایا جارہا ہے۔ بیانیہ، چالاکیہ بن کربھی کتنے ہی منفی مقاصد پورے کرسکتا ہے۔ جس کی ناکام کوشش نواز شریف نے بڑی چالاکی سے اپنے انٹرویو کے بیانیے میں کی۔ اپنی جانب سے تواسے ٹیلرمیڈ ہی بنایاگیا لیکن ٹیلر بہت اناڑی تھا۔ یہ ہی ٹیلر میڈ (چالاکیہ) ہے جس کے کتنے ہی مقاصد نکلتے ہیں۔ سب کے سب منفی۔ یہ پیغام دینا کہ میں مجیب الرحمٰن بن رہاہوں، ریاستی راز کھول سکتا ہوں 3مرتبہ کے وزیراعظم کے منہ سے تشویشناک تو ہے لیکن اب یہ زیادہ کرپشن کے ملزم کا سمجھا جارہاہے۔ اپنی مایوسی اور انتہا کی پریشانی کا یہ بیانیہ فقط مایوسی اورپریشانی سے ہی نہیں دیاگیا بلکہ مکمل مکاری سے انتہائی سیلف سینٹرڈ ہوکردیا گیاہے۔ جو کسی طور پر پاکستان کےلئے مثبت نہیں بلکہ تباہ کن اور اپنے تئیں صرف بیانیہ ہی نہیں، پریشانیہ، اکسانیہ اور چالاکیہ بھی ہے۔ کتنے ہی تجزیوں کے مطابق یہ کرپشن کی سزا سے پہلے باغیانہ انداز کوغالب کرکے اس کی سزا پانا اور اپنے سماجی پسماندہ ووٹ بینک میں خود کو حریت پسند ثابت کرنا ہے۔ لیکن قوم بے وقوف نہیں بنی۔ یہ ہی سوچی سمجھی ٹیلرمیڈ پیغام سازی ہے، جو ملک کے لئے اتنی خطرناک ہے کہ چھوٹے میاں صاحب بالآخرمیڈیا پر انٹرویو کو توڑنے مروڑنے کے روایتی الزام سے دستبردار ہوکر یہ کہنے پرمجبور ہو گئے کہ ’’جس نے انٹرویو کرایا، وہ نوازشریف (یا ن لیگ) کا سب سے بڑا دشمن ہے۔‘‘  
ووٹر کی بجائے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ تو پہلے ہی اک بے اثر اور فقط ووٹر کو عارضی اہمیت (جو کہ صرف انتخابی مہم کےدوران روایتی انداز میں دی جاتی ہے) برائے حصول ووٹ ذاتی سیاسی فائدے کا بیانیہ ہے اورایسے ہی سمجھاجارہا ہے۔ اس کا مقصد یہی پیغام ہے کہ ’’پاکستان میں ووٹرکو عزت نہیں دی جارہی اوران کی اقتدارسے علیحدگی اورنااہلی ماورائے آئین اور انہیں ہٹانے کا روایتی طریقہ ہے، جبکہ پوری قوم ہر حال میں جمہوریت کو برقرار رکھتے ہوئے ن لیگ کو ہی اقتدارکی باری پوری کرانے پر ایک پیج پر ہے۔ کیافوج، کیا سول، کیا اپوزیشن اور چھوٹی بڑی سب پارلیمانی قوتیں۔ اب سب ہی کا تجزیہ ہے کہ ملتان میں تیار ہوئے بیانیہ کے مقابل ریاستی فریم اور نظام کا بیانیہ، اپنے اور آل اولاد کے بلاجواز سمندر پار ’’اثاثوں کی منی ٹریل دو‘‘ پر خاموشی کے نتائج سے بچنے کا بیانیہ تو ہے ہی لیکن یہ نواز شریف کا پریشانیہ بھی ہے جبکہ اس کیفیت میں کبھی ٹیلرمیڈ لباس تیار نہیں ہوتا جو جامہ میاںصاحب نے بنایا اور پہناہے، وہ ملک کےلئے وقتی طور پر پریشان کن اور خود ان،ان کی جماعت اور خاندان کی سیاسی تباہی کاسامان لئے ہوئے ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں