آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عید الاضحی سے پہلے عدالت عالیہ نے بزرگ اور پاکستان کے معتبر ایماندار سیاست دان ایئر مارشل اصغر خان کے 16سال پرانے کیس کے تاریخی فیصلہ کے نہ صرف ملکی سیاست بلکہ ملکی معیشت اور معاشرت (سوسائٹی ) پر بھی مثبت اور دوررس اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس سے نہ صرف ریاستی اداروں کو آئندہ کے لئے سیاسی اور انتخابی امور میں مداخلت نہ کرنے کا عندیہ ملا ہے بلکہ اس سے سیاسی سرگرمیوں کے نام پر سرکاری اور نجی سطح پر جو کروڑوں بلکہ اربوں روپے کی بالواسطہ اور بلاواسطہ کی کرپشن ہوتی تھی۔ اس کی حوصلہ شکنی ہو گی اس وقت پاکستان کے معاشی حالات عملاً اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ امیر ہو یا غریب سب اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ امیروں کے منافع اور آمدنیوں (جائز اور ناجائز ) میں کمی ہو رہی ہے اور غریبوں کیلئے دو وقت کی روٹی کے لئے وسائل کا بندوبست مشکل ہوتا جا رہا ہے ایسے حالات میں ایک بار عیدالاضحی بھی آرہی ہے جو پچھلے سالوں کی طرح مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی اور دیگر عوامل کے ساتھ آئے گی ۔قوم کی اکثریت تنگدستی کے باوجود سنت ابراہیمی پوری کرنے کے لئے قومی و ملی جذبے سے سرشار نظر آئیگی۔
عید الاضحی کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو اس موقعہ پر عید الفطر سے زیادہ معاشی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں یعنی گائے، بکرا، اونٹ وغیرہ کو خریدوفروخت سے

کروڑوں روپے کی کیش ڈیل ہوتی ہے جس میں جانور فروخت کرنے والے اور خریدنے والے دونوں ہی شامل ہوتے ہیں اس سے معاشی سرگرمیوں میں تھوڑی سی تیزی ضرور آتی ہے ، لیکن دستاویزی معیشت کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ،البتہ قربانی کے جانوروں کی کھالوں سے زرمبادلہ کمانے کے اسباب پیدا ہوتے ہیں ۔اس سلسلہ میں اگر ہمارے ملک میں لائیو سٹاک سیکٹر کو منظم طریقے سے ڈیویلپ کرکے نہ صرف مجموعی طور پر زرعی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے چمڑے اور اس کی ذیلی مصنوعات کی برآمد سے زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ سکتے ہیں لیکن آج تک اس حوالے سے کسی بھی حکومت کے دور میں کئے جانے والے اقدامات ناکافی رہے ہیں ۔ اب کی بار عید قربان سے قبل سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ پر عملدرآمد سے ملکی سیاست میں اس جرم کے ذمہ دار افراد کی قربانی کی ایک نئی مثال رقم ہو سکتی ہے ۔ تاہم اس حوالے سے سپریم کورٹ نے بال حکومت اور جی ایچ کیو کی کورٹ میں پھینک دی ہے دیکھنا یہ ہے کہ ان اداروں کا ردعمل کیا ہوتا ہے اس فیصلہ سے قبل بین الاقوامی سطح پر جہاں ملالہ یوسف زئی کی وجہ سے پاکستان کا امیج بڑی طرح متاثر ہوا تھا وہاں اس فیصلے پر عملدرآمد سے عالمی سطح پر مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے لئے یہ مثبت پیغام بھی جائے گا کہ پاکستان میں اعلیٰ عدالتیں ملکی مفاد کے حوالے سے صحیح فیصلے کرتی ہیں اور حکومت اور متعلقہ ادارے اس پر عمل بھی کرتے ہیں ۔
اس لئے کہ پاکستان ہو یا کوئی اور ملک سرمایہ کار اسے کارپوریٹ کمپنی کے طور پر لیتے ہیں اور وہ ملک میں قانون کی حکمرانی کا عمل دیکھتے ہیں ۔ اگر یہ مثبت ہو تو پھر وہ بلاخوف وخطر وہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت غیر ملکی سرمایہ کاری 2008ء کے بعد سے مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے بلکہ اب تو اس میں 70فیصد تک کی کمی نے سب حلقوں کو پریشان کر رکھا ہے اس کی بنیادی وجوہات میں کرپشن، کمزور گورننس ، بد انتظامی اور بدامنی سمیت کئی چیزیں قابل ذکر ہیں جنہیں دور کرنے کی صلاحیت موجودہ حکومت میں تو نظر نہیں آتی اور نہ ہی کسی اور سیاسی قیادت کے پاس ایسی صلاحیت والی ٹیم نظر آتی ہے ہر جماعت یا گروپ اس سلسلہ میں دعوے ضرور کرتی ہے مگر عملی طور پر ان مسائل کے حل کے لئے انہیں اپنے مفادات کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ جس کا حوصلہ شاید کسی میں بھی نہیں ہے ۔ ان حقائق کے پس منظر میں پاکستان کو ایماندار، محب وطن اور مخلص لیڈر شپ کی ضرورت ہے ۔ جو پاکستان کے معاشی اور سیاسی امور کی بین الاقوامی سطح پر صحیح طریقے سے مارکیٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور اسے پاکستان کے عوام کا درد صرف بیانات کی حد تک نہ ہو اس درد کو جگانے کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آئندہ انتخابات کے حوالے سے جو ضابطہ اخلاق مرتب کرنا چاہئے اس میں کرپشن اور لوٹ مار کی رقوم سے انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حوصلہ شکنی کرنی ہو گی اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو ملکی اور غیر ملکی گروپوں یا سرمایہ کاروں کی طرف سے جو مالی سپورٹ دی جاتی ہے اسے قانونی شکل دینا ہو گی جیسا کہ امریکہ کے انتخابات میں ہوتا ہے وہاں 10ڈالر سے اوپر جو کاروباری ادارہ یا شخصیت سیاسی پارٹیوں کو فنڈز دیتے ہیں انہیں بتانا پڑتا ہے کہ یہ رقم کہاں سے آئی اور اس کا ٹیکس ریکارڈ کیا ہے پاکستان میں 1984ء کے کمپنیز آرڈیننس میں منی سیاسی جماعتوں کے گھپلوں کے لئے تجویز کردہ سزا اتنی کم ہے کہ کوئی اس کی پروا بھی نہیں کرتا ضرورت تو اس بات کی ہے کہ الیکشن کمیشن ، عدلیہ کی سپورٹ سے ایسا ضابطہ اخلاق مرتب کرے جس سے کرپٹ افراد خودبخود انتخابی سسٹم سے باہر ہو جائیں اور سرکاری ادارے بھی کسی بھی جماعت کو خفیہ طریقے سے کوئی سپورٹ نہ کر سکیں اس سے اصغر خاں کیس کے فیصلے کے ثمرات قوم کو ملتے نظر آئیں گے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں