آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بھارت میں بی جے پی جیت کر بھی ہارگئی

بھارت میں اس ہفتے دو دل چسپ واقعات ہوئے۔ ایک تو پاکستان کو معلومات فراہم کرنے والی مبینہ جاسوس بھارتی سفارت کار مادھوری گپتا کو تین سال قید کی سزا سنا د ی گئی اور دوسرے جنوبی بھارت کی ریاست کرناٹک میں بی جے پی جیت کر بھی ہار گئی مگر پہلے مادھوری کی کہانی۔

مادھوری گپتا اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات تھیں انہیں 2010میں واپس دہلی بلا کر دو سال تک قید میں رکھنے کے بعد 2012میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا ۔ اب تقریباً آٹھ سال مقدمےبازی کے بعد عدالت نے خفیہ ریاستی معلومات پاکستان کو فراہم کرنے کے جرم میں سزا سنا دی ہے۔ جب 2010 میں مادھوری کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت ان کی عمر 53سال تھی اور اب وہ 61 سال کی ہیں۔

مادھوری گپتا کی صلاحیتوں ِکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ پچیس سال سے زیادہ بھارت کی وزارت خارجہ میں ملازم رہیں مگر نچلے عہدوں سے آگے نہ بڑھ سکیں،غالباً یہی بات بھارت سے ان کی ناراضی کا سبب بھی ہو سکتی ہے۔ جب وہ گرفتار ہوئیں تو کسی سنیئر سفارت کاری کے عہدے پر فائز نہیں تھیں،گو کہ بھارت نے یہ نہیں بتایا کہ جن معلومات کو فاش کرنے کا الزام مادھوری پر ہے وہ کس نوعیت کی ہیں لیکن غالباً وہ عسکری یا حساس نوعیت کی معلومات نہیں تھیں،پھر بھی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مادھوری گپتا نے اپنے عمل سے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ مادھوری کی کہانی میں یہ بات دل چسپ ہے کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور غالباً اسی لئے کسی پاکستانی نوجوان کی محبت میں مبتلا ہو گئیں۔ وہ پاکستان سے پہلے ملائیشیا اور دیگر ممالک میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ جب بھارتی حکام کو ان پر شک گزرا تو انہیں 2010میں سارک کے سربراہی اجلاس میں معاونت کے لئے دہلی واپس بلاکر گرفتار کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ وہ بھارتی سفارت خانے میں پریس اور انفارمیشن کی سیکنڈ سیکریٹری تعینات تھیں۔مقدمے کی تفصیلات کے مطابق مادھوری کسی جم نامی شخص کی محبت میں مبتلا تھیں جس سے بھارتی حکام نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ غالباً کسی جمشید کا پیار بھرا نام تھا جس کو مادھوری ای میلز لکھتی تھیں۔ مقدمے کی بنیاد وہ درجنوں ای میلز بنیں جو انہوں نے جم کو لکھیں اور جو بھارتی حکام نے ان کے کمپیوٹر سے برآمد کیں۔ ان پیغامات میں محبت بھرے جذبات ہیں جن کی بنا پر یہ فیصلہ کر لینا گیا کہ مادھوری ایک سیکوٹری رسک بن چکی تھیں۔تفتیشی ادارے سیکڑوں صفحات پر مبنی فرد جرم تیار کرنے میں کام یاب ہو گئے اور یہ الزام بھی لگایا کہ مادھوری نے ایک لاکھ روپے کی رقم بھی وصول کی تھی۔ تیس گواہ ان کے خلاف پیش ہوئے ،جنہوں نے مادھوری کی سرگرمیوں پر شہادت دی۔

فروری 2018میں پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے خبر دی تھی کہ، بھارتی فضائیہ کے ایک گروپ کیپٹن کو بھی جاموسی کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے ،کیوں کہ وہ حساس دستاویزات تک رسائی کی کوشش کر رہے تھے۔ اس گروپ کیپٹن کے فون سے کچھ دستاویزات کی تصویریں برآمد ہوئی تھیں ،جنہیں وہ مبینہ طورپر واٹس ایپ کے ذریعے کسی خاتون کو بھیج رہے تھے۔ ان دو واقعات سے پتا چلتا ہے کہ ریاستیں کس طرح اپنے ملازمین پر نظر یں رکھتی ہیں۔ اور اب تھوڑا ذکر کرناٹک کا، جہاں نئے منتخب ہونے والے وزیر اعلیٰ بی جے پی کی حکومت قائم نہ کر سکے اور صرف تین دن بعد مستعفی ہو گئے۔ یاد رہے کہ اس وقت بھارت میں کل انتیس ریاستیں یا صوبے ہیں جن میں کانگریس کی حکومت صرف تین ریاستوں میں ہے جب کہ بھارتیا جنتا پارٹی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کل اکیس ریاستوں میں حکومت قائم کی ہوئی ہے۔ کانگریس کی تین حکومتیں بھی نسبتاً چھوٹے صوبوں میں ہیں ۔یعنی پوڈو حیرس (سابقہ پانڈے چیری) پنجاب اور میزورام میں ۔ 

شمال مشرقی ریاست میزو رام میں گزشتہ دس سال سے کانگریس کی ہی حکومت چلی آرہی ہے۔ اگر بھارت کے نقشے پر نظر ڈالی جائے تو شمال، مغرب اور وسط میں تمام ریاستیں ایک دو کو چھوڑ کر بی جے پی کے زیر حکومت ہیں، جب کہ خلیج بنگال کے مشرقی ساحل چھوٹی تمام بھارتی ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔ مثلاََآندھرا پردیش بہار اور اوڈیشا میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔ان کے علاوہ تامل ناڈو، تلنگانہ اور مغربی بنگا ل میں بھی بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔ بھارت کے کچھ صوبے پاکستان کی طرح ایک اسمبلی یا ایوان رکھتے ہیں، جب کہ کچھ اور ریاستیں دو ایوانی مقننہ رکھتی ہیں یعنی ایوان زیریں اور ایوان بالا یا سینیٹ۔ ایوان زیریں کو ودھان سبھا کہا جاتا ہے اور ایوان بالا کو ودھان پرس شد۔ کرناٹک ان صوبوں میں شامل ہے جہاں مقننہ دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ بھارت کی تقریباً تمام بڑی ریاستیں دو ایوان رکھتی ہیں جن میں اترپردیش (یو پی) بہار۔ جمو کشمیر، کرناٹک، مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور تلنگا نہ شامل ہے۔ مغربی بنگال غالباً وہ واحد بڑی ریاست ہے جہاں صرف ایک ایوان ہے۔ کرناٹک کی ریاست کو 1956میں الگ صوبے کی حیثیت دی گئی اور 1973 میں اس کا نام میسورے بدل کرناٹک رکھا گیا تھا۔

کرناٹک کی آبادی اس وقت چھ کروڑ سے زیادہ ہے۔ کرناٹک بھارت کے ان صوبوں میں سے ہے جہاں انڈین نیشنل کانگریس نے طویل عرصے حکومت کی ہے۔ 1947سے 1983 تک یہاں کانگریس کی حکومت رہی، حتیٰ کہ 1977میں جب مرکز میں پہلی بار کارنگریس ہاری اس وقت بھی کرناٹک میں کانگریس جیت گئی تھی۔ اس عرصے سے وزیر اعلیٰ نیجالنگ اپا(Nijaling Appa) کے دو مدتوں میں آٹھ سال اور پھر وزیر اعلیٰ دیوراج نے دو مدتوں میں آٹھ سال حکومت کی تھی، بالآخر 1983میں جنتا پارٹی کے رام کرشنا ہیگڑ نے کانگریس کو ہرایا اور 1988تک پانچ سال کرناٹک کے وزیر اعلیٰ رہے تھے۔ 1989 سے 1994تک ایک بار پھر کانگریس کرناٹک میں برسر اقتدار رہی۔

1994 سے 1999تک جنتا دل حکومت میں رہی اور پھر 1999سے 2006تک کانگریس نے حکومت سنبھالی ۔ 2007سے 2013تک پھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت کی، جس کو 2013 میں کانگریس کے سدا رامیا نے ہرایا جو 2018تک کرناٹک کے وزیر اعلیٰ رہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو آزادی کے بعد ستر سال میں کرناٹک پر 53سال کانگریس نے حکومت کی ہے ،جب کہ سترہ سال جنتا پارٹی، جنتا دل یا بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومتیں کی ہیں۔

تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے دو سو بائیس میں سے ایک سو چار نشستیں حاصل کرلی ہیں،مگراسےاسمبلی میںاکثریت کے لیے اب بھی8نشستیں درکار تھیں۔ روایت کے مطابق گورنر نے سب سے بڑی پارٹی یعنی بی جے پی سے حکومت بنانے کا کہا لیکن اس کے نامزد وزیر اعلیٰ بدیورپا مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر پائے ،اس لئے انہیں تین روز بعد ہی استعفا دینا پڑا۔اب کانگریس بطور دوسری بڑی جماعت کے علاقائی پارٹی جنتا دل سے اتحاد کر لے گی ،جس کے بعد کانگریس اور جنتا دل کی مخلوط حکومت وجود میں آئے گی۔ کانگریس کو 78 نشستیں حاصل ہیں اور جنتا دل کے پاس صرف 38 نشستیں ہیں ،پھر بھی کانگریس نے جنتا دل کو غیر مشروط حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔

بی جے پی کے لئے یہ ایک بڑا دھچکا ہے، کیوں کہ عام خیال یہی تھا کہ بی جے پی باآسانی کرناٹک میں مطلوبہ اکثریت حاصل کر لے گی۔ کسی کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ کانگریس اپنی پرانی حریف جنتا دل کی مکمل حمایت کا اعلان کر دے گی۔دراصل کرناٹک کے انتخابات کانگریس اور بی جے پی دونوں کے لئے ایک سبق ثابت ہوئے ہیں۔ کانگریس کو یہ سبق ملا ہے کہ وہ اب بی جے پی کو تنہا ہرانے کی پوزیشن میں نہیں ہے ،جب کہ بی جے پی اب اپنی جیت کے بارے میں زیادہ اعتماد نہیں دکھائے گی۔ اگلے مہینوں میں راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں انتخابات ہونے والے ہیں، جن سے یہ اندازہ ہو گا کہ 2019 میں ہونےوالے عام انتخابات میں بی جے پی کتنی اکثریت سے کامیاب ہو گی۔ عام تاثر یہی ہے کہ مودی دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں گے لیکن کرناٹک کی طرح غیر متوقع نتائج بھی نکل سکتے ہیں

بھارت میں جمہوریت کی کام یابی اس خطے کے دیگر ممالک کے لئے بھی سیکھنے کی چیز ہے، کیوں کہ مختلف پارٹیوں کے اقتدار میں آنے اور جانےکے باوجود وہاں کوئی بھی جمہوریت کو لعن طعن نہیں کرتا ،نہ ہی جمہوری نظام کے خاتمے کی باتیں کی جاتی ہیں، کیوں جمہوریت ہی آج کی دنیا میں سب سے زیادہ قابل عمل طرز حکومت ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں