آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اِدھر افطار ڈنر ختم ہوا، اُدھر چائے کا کہہ کر منصوبہ بندی کے تحت ہم نے شیخو کو گھیرا، اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ پاتا ہم میں سے ایک بولا ’’ شیخو تو ایسا کفایت شعار اکثر پرفیوم نہ لگائے کہ کوئی دوسرا نہ سونگھ لے ‘‘ دوسرے دوست نے کہا’’شیخو اس شیخ جیسا جس کے بیٹے نے جب بہت ضد کی کہ ابا میں ٹی وی دیکھ لوں تو شیخ بولا ’’دیکھ لو مگر آن نہ کرنا ‘‘ ، تیسرا دوست بولا ’’ شیخو سے مل کر مٹھائی کی دکان پر بیٹھا شیخ کا وہ بیٹا یاد آجا ئے کہ جس سے اسکے دوست نے جب پوچھا ’’ تمہارا رس گلے کھانے کو جی نہیں کرتا ‘‘ تو اس نے کہا’’ کرتا ہے لیکن ابا رس گلے گن کر جاتے ہیں ،اس لئے جب دل کرتاہے تو رس گلے چوس کر واپس رکھ دیتا ہوں ‘‘، اس سے پہلے شیخو جواب دیتا ،چوتھا دوست بول پڑا ’’شیخو تو ایسا کایاں کہ ایک بار لڑائی کے دوران جب مخالف نے کہا کہ تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات کرو تو شیخو نے فوراً زمین پر دائرہ کھینچا اور اس میں کھڑے ہو کر کہا’’ اب بولو‘‘ شیخو نے کچھ کہنا چاہا مگر ایک دوست اسکی بات کاٹ کر بولا’’شیخو نے تو اپنے محلے میں ڈھول بجا کر سحری کیلئے جگانے والے کو اس لئے منع کر رکھا کہ یہ ظالم آتا تو جگانے کیلئے لیکن ڈھول بجا کر شادی کے جذبات جگا کر چلا جاتا ہے ، اس کی بات ختم ہوئی تو میںنے کہا ’’ جن دنوں شیخو کا چین آنا

جانا تھا ،ان دنوں اس نے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیا ’’ میں شوگر کا مریض ،کیا چینی سے شادی کر سکتا ہوں ‘‘، شیخو بولنے ہی لگا تھا کہ ایک دوست نے کہا’’ شیخو کی انگریزی ایسی کہ say no to corruption کا مطلب یہ بتائے ’’کرپشن کو کچھ مت کہو‘‘ ، دوسرا دوست بولا شیخو کو بتانا یہ کہ ’’ اگر کوئی برا بھلا کہے تو مائنڈ نہ کیا کرو کیونکہ ضروری نہیں کہ وہ لیگی ہی ہو ،کوئی سمجھدار انسان بھی ہو سکتا ہے‘‘۔
اتنے میں چائے آئی ، ہماری توجہ ادھر لگی تو موقع پا کر شیخو نے طنزیہ انداز میں کہا ’’ بس یا کوئی جگت رہ گئی ‘‘ ہم بیک آواز بولے ’’ نہیں اب آپکی باری ،اب آپ بغضِ نواز جھاڑ سکتے ہیں ‘‘، سگار سلگاتے شیخو نے تلخ لہجے میں کہا’’ بغضِ نواز۔مطلب جو کچھ میں اپنے ملک ، قوم، کرپشن یا لوٹ مار کے حوالے سے کہتا ہوں ، تمہاری نظر میں وہ بغضِ نواز ہے ، تم ہی بتاؤ ،جب یہ کہانی سننے کو ملے کہ حسین نواز نے 6ماہ کی عمر میں دوبئی ا سٹیل مل لگالی ، حسن نواز جس کرائے کے فلیٹ میں رہے اسکے مالک سے بے خبرہو، 2005میں دوبئی کی ا سٹیل مل بیچ کر ان پیسوں سے 1993یا 1996میں لندن میں فلیٹ خریدے جائیں ، میاں شریف کروڑوں روپے قطری خاندان کو بھجوادیں اور کوئی لکھت پڑھت نہیں جبکہ سالہا سال بعدان پیسوں کے بدلے حماد بن جاسم لندن کے فلیٹس حسین نواز کو دیدیں اور اس بار بھی کوئی لکھت پڑھت نہیں اورمریم صاحبہ کہیں ،باہر چھوڑیں ،میری اور میرے بہن بھائیوں کی تو اندرون ملک کوئی جائیداد نہیں جبکہ بھائی کہے الحمد للہ لندن فلیٹس ہمارے ، جب یہ سننے کو ملے کہ نواز شریف ،شہباز شریف دونوں سگے بھائی مگر نواز شریف کا باپ ارب پتی جبکہ شہباز شریف کا غریب ، میاں صاحب بیک وقت پاکستان کے وزیراعظم اور دبئی میں بیٹے کے تنخواہ دار ملازم بھی ، مطلب یہاں وہ نوکریاں دے رہے وہاں خود نوکری کر رہے ،داماد کیپٹن صفدر کو 15سو ریال وظیفہ ملے مگر کئی مربعے زمین کا مالک اور ایک طرف چوہدری نثار کہیں میں 92-93میں شریفوں کے لندن کے فلیٹ میں رہ چکا لیکن دوسری طرف بتایا جائے کہ فلیٹس قطری شیخ نے2005-6 میںدیئے اور جو اتفاق برادرز کی لوہے کی بھٹی 1968 میںلگی وہ 1965کی جنگ میں پا ک فوج کیلئے ٹینکوں کے پرزے اور توپیں بناتی ملے اور حسین نواز بتائیں کہ الحمد للہ لندن فلیٹس میرے ، الحمد للہ جدہ اسٹیل مل اپنی ،الحمد للہ دبئی میں والد نواز شریف میرے بھائی حسن نواز کے ملازم لیکن جب عدالت بلائے تو کہیں ’’مجھ سے نہیں پوچھ سکتے کیونکہ الحمد للہ میں تو برطانوی شہری ‘‘اور اب میاں صاحب نے تو کہانی ہی مُکا دی ،قومی اسمبلی اور سپریم کورٹ میں جائیدادوں کی الف سے ےتک کہانی سنا کر احتساب عدالت میں فرمائیں ’’ مجھے تو کچھ پتا نہیں ،حدیبیہ پیپرز ملز کا ابا جی کو علم اور باقی سب کا حسین کو پتا ، میں تو معصوم ، اگر اس الف لیلیٰ کہانی کے حوالے سے کچھ پوچھا جائے تو یہ احتساب نہیں انتقام ، نادیدہ قوتوں، اسٹیبلشمنٹ اور خلائی مخلوق کی جمہوریت کے خلاف سازشیں ، سوال کئے جائیں تو دھمکیاں کہ سازشوں سے باز آجاؤ ورنہ ممبئی حملوں سے دھرنوں تک سب کچھ بتا دوں گا ، اب بھی تم لوگ اگر سمجھ رہے کہ ’’ یہ بغضِ نواز ‘‘ ہے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ۔
شیخو بات مکمل کر کے سگار سلگانے لگا تو میں نے کہا ’’ حضور3دفعہ کا وزیراعظم جس نے موٹروے بنانے سے ایٹمی دھماکے کرنے تک ملک وقوم کیلئے بیسوؤں کام کئے ، اس پر ملک دشمنی کا الزام ، کیا یہ انصاف ہے ‘‘شیخو سگار کے لمبے لمبے کش مار کر بولا’’ یہی تو دُکھ کہ 3دفعہ کا وزیراعظم ممبئی حملوں جیسا بیان دے ،ورنہ محمود درانی ،رحمان ملک اورپرویز مشرف بھی اس طرح کی بات کر چکے یہ علیحدہ بات کہ پرویز مشرف نے پیشیاں بھگتتے ہوئے کبھی یہ دھمکی نہ دی کہ مجھے چھوڑا نہ گیا توسب کچھ بتا دوں گا ، چلو پرویز مشرف تو آمر،بھٹو پھانسی چڑ ھ گیا مگر کچھ نہ بولا،پھر یہ مان بھی لیا جائے کہ میاں صاحب نے ترقی وخوشحالی کے بیسوؤںمنصوبوں کی بنیاد رکھی تو کیا یہ سب کرکے میاں صاحب نے کوئی احسان کیا ، کیا یہی کرنے کیلئے عوام نے انہیں ووٹ نہیں دیئے تھے ،کیا یہی کچھ کرنے وہ اقتدار میں نہیں آئے تھے ،کیا کوئی اور وزیراعظم ہوتا تو وہ یہ سب نہ کرتا ،ویسے میاں صاحب کو وزیراعظم اس لئے نہیں بنایا گیا تھا کہ 5براعظموں میں جائیدادیں بنالیں اور قوم صحت ، تعلیم اور پانی سے بھی محروم رہے جبکہ ان کی نسلوں کی نسلیں بھی سنور جائیں ، اب آجائیے ایٹمی دھماکوں پرتو اطلاعاً عرض ہے کہ میاں صاحب تو دھماکے کرنے سے ہچکچا رہے تھے ، دھماکوں سے 8دن پہلے صحافیوں کا ایک وفد ان سے ملتا ہے ،نوائے وقت کے ایڈیٹر انچیف مجید نظامی کہتے ہیں ’’ وزیراعظم صاحب ہم تو سمجھے تھے کہ آ پ نے ہمیں یہ خوش خبری سنانے کیلئے بلایا کہ ایٹمی دھما کے ہو رہے مگرآپ تو ڈانواں ڈول ،میاں صاحب اگر آپ نے دھماکے نہ کئے تو قوم آپکا دھماکہ کر دے گی ،پھر ایک دن بعد ڈاکٹر قدیر نے خط لکھا کہ ’’اگر آپ نے ایٹمی دھماکے نہ کئے تو میں اور میر ی ٹیم مستعفی ہو جائے گی ‘‘ اورپھر گوہر ایوب بتائیں کہ جب وہ دھماکوں والی صبح وزیراعظم ہاؤس پہنچے تو شہباز شریف نے ڈائننگ روم میں بتایا’’ وزیراعظم امریکی صدر سے فون پر بات کر رہے اور اگر بل کلنٹن نے اچھا پیکج دیا تو ہم دھماکے نہیںکریں گے ‘‘ ،میں نے کہا اب سب کچھ ہو چکا ،دھماکے نہیں روکے جا سکتے اور امریکی وزیر رچرڈ ہالبروک اپنی کتاب میں لکھیں کہ ’’دھماکے کرنے کے بعد نواز شریف نے کہا ،مجھے بہت افسوس کہ میں نے ایٹمی دھماکے کر دیئے ،میں بل کلنٹن سے بہت شرمندہ ہوں ‘‘۔
شیخو نے بجھا سگار پھر سے سلگایا اور دوبارہ ا سٹارٹ ہوگیا ’’ آج کل میاں صاحب کی جو صورتحال ہے مجھے تو یوں لگے کہ کل کلاں وہ یہ بھی کہہ دیں گے کہ فلم بازیگر میں شلپا شیٹھی کو چھت سے شاہ رخ نے نہیں نان اسٹیٹ ایکٹر نے دھکا دیا تھا ‘‘ ،یہ کہہ کر خلاف توقع شیخو اپنا لائیٹر اور سگار بکس اُٹھا کر بولا’’ میں نے ایک دوست کے ہاں جانا، لیکن جاتے جاتے یہ ضرور کہنا ہے کہ ہر وقت لیڈروں کو کوستے رہتے ہو ،کبھی اپنے گریبانوں میں بھی جھانک لیا کرو،قوم کی حالت یہ ہو چکی کہ رمضان میں 50روپے کی چیز ڈھائی سو میں بیچتے ہوئے نظر مسلسل گھڑی پر رہے کہ کہیں باجماعت نماز نہ نکل جائے ۔
دوستو! یہ تو تھا شیخو ، آپ اسے سیریس نہ لیں ، یہی پچھلے رمضان میں فرما رہا تھا کہ جنرل مشرف میں لاکھ خامیاں سہی مگر یہ کیا کم خوبی کہ اس دور میں روزے سردیوں میں آتے تھے البتہ شیخو کی یہ بات درست کہ جیسے اب پرانی فلموں کی گر ل فرینڈز کے وہ باپ نایاب ہوچکے کہ جو کہا کرتے ’’ یہ لو blankچیک اور نکل جاؤ میری بیٹی کی زندگی سے‘‘ ،ویسے ہی اب وہ سیاستدان بھی ناپید ہوچکے جنہیں اپنا پیٹ بھر نے کے بجائے دوسروں کی بھوک کی فکر ہوتی تھی اور جیسے 1990میں لڑکیاں ڈرا کرتیں کہ نجانے ’’ساس ‘‘ کیسی ملے اور 2018میں ’’ساس‘‘ ڈر رہی کہ نجانے بہو کیسی ہو گی ،ویسے ہی کبھی رہنما خوفزدہ تھے کہ کچھ ایسا ویسا کیا تو قوم کو کیا منہ دکھائیں گے ، جبکہ اب قوم منہ کھول کر رالیں بہا رہی کہ ساڈیاں جائیداداں لندن وچ کیوں نئیں ؟
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں