آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل6؍ صفر المظفّر 1440ھ16؍اکتوبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
 دوسری جنگ عظیم کا بم ناکارہ بنانے میں ناکامی،9ہزارافراد کی نقل مکانی

جرمنی کے شہر ڈریسڈن میں دوسری عالمی جنگ کے ایک بم کو ناکارہ بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بم منگل کی شام کو مرکزی ڈریسڈن میں ترقیاتی کام کے دوران ملا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بم250کلو گرام وزنی ہے جسے ناکارہ بنانے کی پہلی کوشش گزشتہ روز کی گئی جوناکام ثابت ہوئی اور نتیجے میں ایک چھوٹا دھماکہ ہوا اور علاقے میں آگ لگ گئی۔

 دوسری جنگ عظیم کا بم ناکارہ بنانے میں ناکامی،9ہزارافراد کی نقل مکانی

حکام کا کہنا ہے کہ 9 ہزار افراد کو علاقے سے باہر نکال لیا گیا ہے جن میں زیادہ تر بزرگ افراد شامل ہیں۔ تمام افراد نے 2راتیں گھروں سے باہر گزاریں جبکہ بم پھٹنے کے خدشات پر ڈریسڈن ایئرپورٹ پر تمام فلائٹس منسوخ کردی گئی ہیں۔

حکام نے مزید بتایا کہ بم جنگ عظیم دوئم میں برطانوی اور امریکی اتحادیوں نے فضائی حملے میں بمباری کے دوران جرمن شہر پر برسائے تھے۔

 دوسری جنگ عظیم کا بم ناکارہ بنانے میں ناکامی،9ہزارافراد کی نقل مکانی

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے خدشات کے باعث سائٹ کے ارد گرد سخت سیکورٹی برقرار رکھی ہے جبکہ فی الحال ایک فائر فائٹر روبوٹ کی مدد سے بم پر ٹھنڈا پانی ڈالا جارہا ہے تاکہ بم ڈسپوزل حکام بم کو آسانی کی ناکارہ بنا سکیں۔

 دوسری جنگ عظیم کا بم ناکارہ بنانے میں ناکامی،9ہزارافراد کی نقل مکانی

واضح رہے کہ فروری 1945میں ڈریسڈن میں برطانیہ اور امریکہ کی بمباری میں 25ہزار افراد مارے گئے تھےجس سے 33کلو میٹر کے علاقے میں آگ بھڑک اٹھی تھی اور شہر تباہ ہوکر کھنڈر میں تبدیل ہوگیا تھا۔

 دوسری جنگ عظیم کا بم ناکارہ بنانے میں ناکامی،9ہزارافراد کی نقل مکانی

نازی جرمنی کے خلاف اس اتحادی فضائی مہم میں ہزاروں بم گرائے گئے جس میں سے معتدد بم پھٹے ہی نہیں اور ابھی بھی جرمی کے کئی شہروںترقیاتی کاموں کےدوران ایسے بم کا پتہ چلتا ہے۔

حال ہی میں مرکزی برلن میں برطانوی جنگی زمانے کے بم کو ناکارہ بنانے کے لیے 10ہزار افراد کو نکال کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھاجس میں بم کو ناکارہ بنانے کا آپریشن کامیاب رہا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں