آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب سے ایک لڑکی بیاہ کر بلتستان کے شہر اسکردو آئی ۔اپنا گھر بنانے کے لئے اسے بنیادی ضرورت کی چیزیں درکار تھیں۔ مثال کے طور پر سوئی دھاگہ چاہئے تھا۔ بہت ڈھونڈا، نہ ملا ۔پاس پڑوس والوں سے پوچھا کہ سوئی دھاگہ کہا ں ملے گا۔ ہر جگہ سے ایک ہی جواب آیا: عبّاس ڈنگو کی دکان سے۔یہ دکان کہاں ہے، جواب ملا کہ پر یشان چوک پر بس یہی ایک دکان ہے۔ پتہ چلا کہ اُس وقت کی ویران گلیوں میں عباس ڈنگو نے ایک کھوکھے نما دکان کھول رکھی تھی جو دکان کم، عجوبہ زیادہ تھی۔ اس ایک دکان میں سوئی دھاگے سے لے کر سلے سلائے کپڑوں تک ، گھریلو چپلوں سے چھوٹوں بڑوں کے جوتوں تک اور دودھ دہی سے لے کر سبزی ترکاری تک ہر شے مل جاتی ہے اور یہی نہیں، گرم چائے بھی تیار رہتی ہے۔ پریشان چوک یوں کہ وہیں آس پاس سارے سرکاری دفتر ہیں جن کے چکر کاٹنے والوں کو صحیح جگہ ڈھونڈنے میں اتنی پریشانی ہوتی تھی کہ اس جگہ کا نام ہی پریشان چوک پڑگیا۔ اسکردو کے نہایت خوش نما پارک میں چہل قدمی کے لئے میں اپنی میزبا ن ڈاکٹر عظمیٰ سلیم کے ساتھ جس جگہ پہنچا ، وہاں چوک کے بیچوں بیچ ایک اہرام جیسی مخروطی شے بنی ہوئی تھی۔ کسی نے بتایا کہ یہی پریشان چوک ہے۔سامنے ایک بازار نظر آیا۔ تاحد نگاہ کاروبار، اتنی دکانیں کہ شمار کرنا مشکل۔ڈاکٹر عظمیٰ نے بتایا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں

جب کچھ بھی نہ تھا، عباس ڈنگوکی دکان تھی۔ میری تجسس کی رگ پھڑکی اور یہ جاننا چاہا کہ یہ ڈنگو صاحب کو ن تھے، کہاں سے آئے، شہر میں کاروبار اور تجارت کی پہلی اینٹ رکھی اور پھر کہاں کو سدھارے۔ کوئی نہ بتا سکا۔ کسی کو یہ بھی اندازہ نہیں کہ اس عجوبے کے قدم اتنے مبارک ثابت ہوئے کہ پھر جو اسکردو میں دکانیں کھلیں اور کاروبار چلا تو آج میں یقین سے وہی بات کہہ سکتا ہوں جو کبھی نپولین بونا پارٹ نے انگریزوں کے بارے میں کہی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ یہ دکان داروں کی قوم ہے ۔آج کے اسکردومیں، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑوں کے بیچ پھنسے ہوئے اس شہر میں کیسے کیسے اعلیٰ اہل کمال آباد ہیں، یہ جان کر جی سرشارہوا۔مگر ان کی ایک دل چسپ عادت کا ذکر کئے بنا نہیں رہ سکتا۔ یہ لوگ جب اپنے گھر بناتے ہیں تو پہلے تین یا چار دکانیں بناکر اس کے اوپر یا پیچھے اپنے رہنے کا ٹھکانہ بناتے ہیں۔ آپ کسی بھی علاقے کی کسی بھی سڑک پر چلیں، دورویہ دکانیں ہی دکانیں چلیں گی۔ اکثر بند، بیشتر کے شٹر بند، سب ہی پر تالہ پڑا ہوا۔ اور یہی نہیں،غریب دکان حیرت کی تصویر بنی ہوئی گویا کہہ رہی ہو’’ مجھے کیوں بنایا‘‘۔نہیں معلوم کہ گھر کے ساتھ ساتھ دکانیں بنانے کے عمل کے پیچھے کون سی حکمت کارفرما ہوتی ہے۔ ایک اور مزے کی بات کہ وہ قدیم وقتوں کی ٹوٹی پھوٹی ، خستہ حال دکانیں ہر چند کہ بند ہیں مگر موجود ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ وہ بھی ڈھائی جائیں گی اور وہاں بھی مال اور پلازے بنیں گے۔اگر دکانیں ہی خوش حالی کی علامت ہیں تو یہ سلامت رہیں۔ جی چاہتا ہے کہ اسکردو ہی نہیں ، پورا بلتستان ترقی کرے اور یہ جس آئینی مخمصے میں گرفتار ہے اس سے نجات پائے اور اس کی سرزمین پوری طرح اپنے وطن کی سرزمین قرار پائے۔یہاں میرا دریا صدیوں سے اپنے ساتھ جو چمکیلی ریت بہا کر لارہا ہے اس نے دور دور تک ریگستان کا منظر تراش دیا ہے جس کے بیچ دریائے سندھ پہلو بدل بدل کر بہہ رہا ہے اور جس کے ساحل پر اب گرم ریت کے بادل اڑاتی کاروں کی ریلی ہونے لگی ہے ۔کیسا اچھا ہو کہ ان بچوں کی دعا قبول ہوجائے جو میرے کمرے کی کھڑکی کے نیچے روز صبح تڑکے دونوں ہاتھ اٹھا کر سر بکھیر کر کہا کرتے ہیں: ہو مرے دم سے یوں ہی میرے وطن کی زینت جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت۔
اسکردو کی دکانوں کا ذ کر ابھی جاری ہے۔ خوب آباد اور پر ہجوم بازاروں میں جو کاروبار کثرت سے نظر آتا ہے وہ بیکری کا کاروبار ہے جہاں وہی کام ہوتا ہے جو اگلے وقتوں میں ہمارا نانبائی کیا کرتا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ بلتستان میں ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے انگریزوں نے بلتی باشندوں کو بیکری کے سارے کام دھام سکھا دئیے تھے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ جہاں بھی بیکری کا کاروبار ہو، آپ دیکھیں گے کہ وہاں کام کرنے والوں میں بلتی باشندے ضرور ہوں گے۔یہ سچ ہے کہ جیسے عمدہ کیک اور ڈبل روٹی وغیرہ بلتستان میں ملتی ہے، کہیں اور نہیں ملتی۔ انگریزوں سے ان کے میل جول کا ایک دل چسپ نتیجہ یوں نکلا کہ نیچے میدانوںمیں بالٹی گوشت کے نام سے جو سالن پکایا جاتا ہے وہ دراصل ’بلتی گوشت‘ ہے۔ انگریزی میں لکھے ہوئے لفظ ’بلتی‘ کو لوگ بالٹی کہنے لگے۔ ویسے بلتستان میںسکھا کر محفوظ کیا ہوا گوشت بہت شوق سے کھایا جاتا ہے ۔اب تو میں نے مرغیوں کے پنجروں سے بھرے ٹرک آتے جاتے دیکھے۔ لوگ اب ہاتھ کے ہاتھ ذبح کئے ہوئے مرغ کھانے لگے ہیں۔ حیرت ہے ابھی تک کسی کو خیال نہیں آیا۔ کوئی دن جاتا ہے بلتستان میں فاسٹ فوڈ کی بین الاقوامی دکانیں کھلیں گی اور لوگ برگر کھایا کریں گے۔
میں نے اسکردو میں خوا تین کا بازار دیکھا۔ حوا مارکیٹ دیکھی۔ جہاں بڑا بڑا لکھا تھا:پارٹی میک اپ اور برائیڈل میک اپ دستیاب ہے۔ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ حوا مارکیٹ میں مردوں کا داخلہ سخت ممنوع ہے۔میں کار میں بیٹھا تھا جسے ڈاکٹر عظمیٰ سلیم چلارہی تھیں جو شہر میں خواتین کے سب سے بڑے کالج کی پرنسپل ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے کہیں آرائشِ حسن کی دکان کی جھلک نظر آئی تھی۔ کہنے لگیں کہ آگے غریبوں کامحلّہ آنے والا ہے ، اس کے شروع ہی میں دیکھئے گا۔پھر ہوا یہ کہ دیکھا۔ غریب پاڑے میں بیوٹی پارلر زور وشور سے چل رہا تھا۔
یہ وہی جگہ ہے جہا ں کوئی تیس سال پہلے میں انٹرویو کرنے کے لئے خواتین کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔ دو خواتین ملی تھیں ، وہ بھی مشکل سے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں