آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

31مئی کو مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے پانچ سال پورے ہوجائیں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اگلے ماہ جون کے پہلے ہفتے میں انتخابی شیڈول کا اعلان ہوجائے گا۔ اگرچہ نگران وزیراعظم کے نام پر تادم تحریر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ امید کی جارہی ہے کہ مرکز اور صوبوں میں نگران حکومتوں کے قیام پر اتفاق رائے بھی جلد ہوجائے گا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے درمیان نگران وزیراعظم کیلئے مشاورت کا عمل ابھی جاری ہے تاہم حکومت نے نگران وزیراعظم کے لئے جسٹس (ر) ناصر الملک، جسٹس (ر) تصدق جیلانی اور ڈاکٹر شمشاد اختر کے نام تجویز کئے ہیں جبکہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اپنی پارٹی کی طرف سے زکاء اشرف، جلیل عباس جیلانی اور سلیم عباس جیلانی کے نام دیئے ہیں۔ اگر حکومت اور اپوزیشن نے ان چھ ناموں میں سے کسی ایک نام پر بھی اتفاق نہ کیا تو یہ معاملہ پارلیمانی پارٹی کے پاس چلا جائے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق پارلیمانی پارٹی تشکیل دیں گے۔ اگر آئین کے مطابق پارلیمانی پارٹی اس معاملے میں ناکام رہی تو الیکشن کمیشن حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے تجویز کردہ چھ ناموں میں سے کسی ایک کو نگران وزیراعظم نامزد کرے گا۔ یوں یہ اہم معاملہ 31مئی تک خوش اسلوبی سے حل ہوجائے گا۔ خوش آئند امر یہ ہے

کہ الیکشن کمیشن نے اپنی انتخابی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور وہ جولائی کے آخری عشرے میں عام انتخابات کرانے میں خاصا پُرعزم دکھائی دے رہاہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کے تقرر کے لئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نوازشریف کو منانے کیلئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے ایک روزکا وقت مانگا ہے۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے لئے یہ ایک یقیناً کڑا امتحان ہے۔ دونوں پارٹیاں اپنے ناموں کے حوالے سے بضد ہیں۔ اسلئے نگران وزیراعظم کے نام پر ابھی تک ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ شنید ہے کہ نگران وزیراعظم کے لئے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی اپنے پیش کئے گئے چھ ناموں کے علاوہ نئے ناموں پر بھی غور کرسکتی ہے۔ امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ملیحہ لودھی نگران وزیراعظم کی اس دوڑ سے باہر ہوچکی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ معاملہ پارلیمنٹ کے ذریعے ہی حل ہو۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ یہ اہم ترین معاملہ پارلیمنٹ میں حل ہوتا ہے یا پھر الیکشن کمیشن حرکت میں آتاہے؟ دونوں صورتوں میں یہی دکھائی دے رہا ہے کہ نگران وزیراعظم کے تقرر کا معاملہ جلد حل ہو جائےگا۔ اسی طرح چاروں صوبوں میں بھی نگران وزرائے اعلیٰ کے ناموں پر مشاورت ہورہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے 25,26,27جولائی کو انتخابات کرانے کی تجویز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھجوائی تھی جو اب صدر مملکت ممنون حسین کو روانہ کردی گئی ہے۔ قانون کے مطابق قومی وصوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کو ایک ہی دن میں کرانا ہوگا۔ صدرمملکت کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن باقاعدہ طور پر انتخابی عمل شروع کردے گا۔ شنید ہے کہ صدر ممنون حسین21جولائی کو ملک میں الیکشن کرانے کی سمری منظور کرلیں گے۔ یکم جون سے الیکشن کمیشن اپنا کام شروع کردے گا۔ انتخابی امیدواروں کو ایک ہفتہ کاغذات نامزدگی کے لئے دیا جائے گا بعدازاں 14دنوں میں کاغذات کی جانچ پڑتال اور ایک ہفتے میں اپیلوں پر فیصلہ ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کے نشانات الاٹ کرنے اور کاغذات نامزدگی سے دستبرداری کے مرحلے کے بعد تین ہفتے کے اندر الیکشن ہوسکیں گے۔ الیکشن کمیشن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اُس نے2013کے انتخابات میں اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔اب2018کے انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدار بنانے کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اعتراضات سننے کے بعد حلقہ بندیوں کا اہم مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ اس بار دھاندلی پر قابو پانے کے لئے بیلٹ پیپرز جرمنی سے خریدے گئے ہیں۔ عام انتخابات کے سرکاری اخراجات کے لئے ابتدائی طور پر 20ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی قوم پر20ارب روپے کے بھاری انتخابی اخراجات کسی عذاب سے کم نہیں مگر جمہوریت کے تسلسل کے لئے قوم کو یہ قربانی دینا پڑے گی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں الیکشن کا عمل انتہائی مہنگا کردیا گیا ہے۔ 20ارب کے سرکاری اخراجات کے علاوہ امیدواروں کے الیکشن اخراجات کا اگر حساب لگایا جائے تویہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہر پانچ سال بعد عام انتخابات ایک خطیر رقم ضائع ہوجاتی ہے۔ ان انتخابی اخراجات کو بڑی حد تک کم بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس جانب شاید الیکشن کمیشن کی کوئی توجہ نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن کی تیاریوں کیساتھ ساتھ اس وقت سیاسی جماعتیں بھی انتخابی میدان میں اترنے کیلئے سرگرم ہوچکی ہیں۔ متحدہ مجلس عمل، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے رابطہ عوام مہم کا آغاز کردیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل نے مینار پاکستان پر گزشتہ دنوں تاریخ ساز جلسہ عام کرکے پاکستانی سیاست میں کھلبلی مچادی ہے۔ مینار پاکستان پر تحریک انصاف نے بھی ایم ایم اے سے چند روز قبل ایک بڑا جلسہ کیا ہے مگر متحدہ مجلس عمل نے تحریک انصاف سے بڑا جلسہ عام منعقد کر کے سیاسی جغادریوں اور بزر جمہروں کو حیران و پریشان کردیا ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ لاہور کی ضلعی انتظامیہ ایم ایم اے کو مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ یوں13مئی کو جلسہ عام سے تین روز قبل متحدہ مجلس عمل کو مینار پاکستان انتظامات کے لئے گرین سگنل دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ لاہور نے تحریری اجازت نہ دے کر ایم ایم اے کے کارکنوں اور قائدین کو آخری وقت تک کنفیوژ کرنے کی کوشش کی مگر اس سب کچھ کے باوجود متحدہ مجلس عمل نے13مئی کو لاہور میں تاریخی اور عظیم الشان جلسہ عام کر کے ثابت کردیا کہ ملک میں اب دو پارٹی سسٹم نہیں چل سکے گا۔ لاہور کے جلسے کے بعد متحدہ مجلس عمل ملک میں تیسری بڑی قوت بن کر ابھری ہے۔ سنجیدہ قومی وسیاسی حلقوں میں اب یہ بحث جاری ہے کہ 2002کی طرح ایم ایم اے آئندہ انتخابات میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کرسکتی ہے۔ مینار پاکستان کے وسیع سبزہ زار پر ہر طرف انسانوں کا جم غفیر تھا۔ لاہور میں کامیاب جلسے کے انعقاد پر متحدہ مجلس عمل کے قائد لیاقت بلوچ، میاں مقصود احمد، ذکراللہ مجاہد اور ان کو پوری ٹیم قابل مبارکباد ہے کہ انہوں نے کم ترین وقت میں شاندار انتظامات کر کے جلسہ عام کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ ایم ایم اے نے لاہور میں زبردست جلسہ عام کرکے یہ پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان میں دینی جماعتوں کے ووٹ بینک کو منتشر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اگر متحدہ مجلس عمل کو 2002کی طرح خیبرپختونخوا، پنجاب، بلوچستان اور کراچی میں اچھی نشستیں مل جاتی ہیں تو ملکی سیاست میں ایم ایم اے کی حیثیت بڑھ جائے گی اور آئندہ نئی حکومت کی تشکیل میں مجلس عمل مرکزی کردار ادا کرسکے گی۔ تحریک انصاف بھی اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہی ہے۔ لگتا یہ ہے کہ 2018کے انتخابات میں تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ اُسے ایم ایم اے بننے سے سیاسی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ البتہ پنجاب میں تحریک انصاف مسلم لیگ(ن) سے بہتر نتائج حاصل کرسکے گی کیونکہ مسلم لیگ(ن) اس وقت گومگو کی کیفیت کا شکار ہے۔ نوازشریف کے قومی سلامتی کیخلاف بیان کے بعد مسلم لیگ(ن) پس منظر میں جاتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن) کے علاوہ متحدہ مجلس بھی اچھی ایڈجسٹمنٹ کر کے کچھ سیٹیں جیت سکتی ہے۔ اسی طرح سندھ میں پیپلزپارٹی اور بلوچستان میں ایم ایم اے زیادہ نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔ عام انتخابات میں کراچی میں بھی جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور پی ایس بی اپنا حصہ بقدرجثہ وصول وصول کرنے کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں