آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اُس شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام جس کی روشنی نے کہا :شکمِ آدم زاد صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے ۔بےشک ابن آدم کی بڑھتی ہوئی عمر ،خواہش ِطویل العمری اور طلب ِمال و زر میں اضافہ کرتی چلی جاتی ہے ۔خواہش ِسرمایہ اپنی جگہ مگر دنیاکے ماضی و حال میں کو ئی کاروبارِ حکومت کا امین نہیں جس نے کاروبارِ کیا ہو۔وہ حکمران جنہوں نے مال دولت جمع کیا وقت نے ان شداد وں اور نمرود وں کے نام کو بھی دشنام بنا دیا ۔افسوس ہمارے یہاں قذافی اور حسنی مبارک کا انجام بھی کسی کو کوئی سبق نہ دے سکا۔یہاں کانوں میں سیسہ بھر ا ہواہے آنکھوں میں سلائیاں پھری ہوئی ہیں ۔غیر قانونی اثاثے ،منی لارنڈنگ ،ٹیکس چوری کے جرم کا جواب یہ نہیں ہوسکتا کہ میں نے ایک جنرل کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ماڈل ٹائون کے چودہ بے گناہوں کی لاشیں جب اپنا گناہ پوچھتی ہیں تو جواباً نہیں کہا جاسکتاکہ موت کا ایک دن معین ہے ۔ وہ وقت گیا جب ڈبل شاہ اپنی گفتگوئے فریب سے عوام کی جیب کاٹ لیتے تھے ۔ابھی جنرل اسد درانی کو جی ایچ کیو میں طلب کیا گیا ہے ۔جنرل یوسف بیگ بھی ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوچکے ہیں ۔یہ دونوں وہی ہیں جن سے نواز شریف نے لمبی رقوم وصول کی تھیں ۔شاید یہاں رشوت لینے اور دینے میں کوئی قباحت نہیں رہی ۔اس وقت اسامہ بن لادن توموجود نہیں مگرجدہ کا وہ

گرین ہوٹل توابھی تک آباد ہے جہاں نواز شریف نے امریکہ کی بربادی تک جاری رہنے والے جہادکے عظیم مجاہد سے مبینہ تین ارب روپے لئے تھے ۔آخر حساب کا وقت آہی گیا ہے ۔اللہ بہت بے نیاز ہے مرنے سے پہلے پہلے مرنے والوں کے اصلی چہرے دکھا دیتا ہے۔چہرہ نواز شریف پر غربت کی لکیریں دورسے نظر آرہی ہیں ۔شاعرِ لاہور شعیب بن عزیزنے کہا تھا
سوائے زر نہیں کچھ بھی امیر ِ شہر کے پاس
کوئی اب اس سے زیادہ غریب کیا ہوگا
امریکہ ، برطانیہ اور بھارت تو را کے اُس ایجنٹ کی پشت پر بھی ہیں جس نے برسوں کراچی کو جہنم بنائے رکھا مگر جب اُس سخت گیر کی بے ڈھب گرفت میں آیا تو ماضی کا کوئی ولن بن کر رہ گیا ۔اللہ کے سامنے کسی امریکہ ومریکہ کی کیا حیثیت ہے ۔نواز شریف نے خوشنودی غیر کےلئے اپنے سینے پر تیر چلائے تو وہیں وقت نے کہا کہ اللہ کی پکڑ میں آ گیا ہے۔یہ اللہ کی ہی پکڑ ہے کہ انہیں بھارت میں مرنے والےسو ڈیڑھ سو لوگ تو یاد رہ گئے۔ بھارتی ڈالر یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہیدوالے ساٹھ ہزارپاکستانی بھول گئے۔بے گناہ پھانسی چڑھنے والااجمل قصاب تو یاد رہا وہ گل بھوشن کے ہولناک جرائم کی فہرست بھول گئے(اس بات کے پختہ ثبوت مل چکے ہیں کہ اجمل قصاب ممبئی کے واقعہ سے پہلے بھارتی فورسز کی قید میں تھا )
ویسے تو شروع سے ہی نواز شریف کا بیانیہ یہی تھاکہ عدالتیں اُن کے خلاف جو فیصلے کر رہی ہیں ان کے پیچھے افواج پاکستان ہے ۔مگر اتنا کھل کر نہیں تھا۔عدلیہ اور فوج پر ایک سابق وزیر اعظم کا یہ الزام ڈان لیکس سے خطرناک ہے ۔یہ دنیا کے سامنے عدلیہ اور فوج کو متنازع بنانے کی خواہش ِ ہے ۔آج تک جتنے بھی آرمی چیف آئے ہیں کسی ایک کے ساتھ بھی نواز شریف کی نہیں بن سکی تھی ۔تاثر ہے کہ نواز شریف کےکچھ نفسیاتی مسائل ہیں جو جنرل جیلانی کے رویے سے شروع ہوئے اور مسلسل بڑھتے چلے گئے ۔وہ خود کو جنرل ضیاالحق کی معنوی اولاد کہتے کہتے ایک دن اچانک ’’شیر ِجمہوریت‘‘ بن گئے ۔بے نظیر بھٹو کے ساتھ جاکھڑے ہوئے ۔ضیا الحق کا مشن پورا کرنے والا ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کا قائد بن گیا ۔میرے خیال میں اب وہ وقت آ گیا ہے جب نواز شریف کا سارا کچا چٹھا سامنے آنے والا ہے ۔غیر ملکی طاقتوں سے تعلقات کی تفصیل ،افواج پاکستان کے ساتھ ماضی کے معاملات، کالعدم تنظیموں سے روابط کے تمام ثبوت میڈیا کی زینت بننے والے ہیں۔
نواز شریف کے دورِ اقتدار کی داستان بڑی تکلیف دہ ہے ۔ سول سروس کی تباہی انہی کے ہاتھوں ہوئی ۔پولیس کو ’’پیشہ ور قاتلوں کا روپ انہی نے دیا۔عابد باکسر کا انٹرویو میڈیا کے پاس محفوظ ہے ۔پٹواری کا دور ِ حکومت یہی لے کر آئے ۔ہائے پٹواری ۔کوئی ایک سال ہونے کو ہے ۔میرے ایک دو ست نعمان بن عزیز ہیں ان کی کچھ زمین اسلام آباد میںہے جو کسی اورکے قبضے میں ہے۔ میں نے اسے واگزار کرانا چاہا تو بری طرح ناکامی ہوئی۔پٹواری راستے میں دیوار بن گیا ۔میں نے سوچا کہ چلو پٹواری کا تبادلہ کراتے ہیں ۔میں نے شہباز شریف کے ایک اہم ترین سیکرٹری سے پٹواری کے تبادلے کےلئے کہا تو اس نے فوراً کانوں کو ہاتھ لگائے اور کہا کہ یہ تبادلہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک وزیر اعلیٰ خود چوہدری نثار علی خان سے بات نہ کرلیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا اس معاملے کا چوہدری نثار سے کیا تعلق ہے اور پٹواری بہت چھوٹا ملازم ہوتا ہے اس کےلئے وزیر اعلیٰ تک پہنچنا میرے لئے بہت عجیب و غریب ہے تو پتہ چلا کہ چوہدری نثار کی مرضی کےبغیر اس علاقےمیں کسی پٹواری کا تبادلہ بھی نہیں ہوتا ۔کل میں نے کسی سے پوچھا کہ چوہدری نثار تحریک انصاف میں شامل کیوں نہیں ہوئےتو پتہ چلا چوہدری نثار ’’وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ان کے خیال میں سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے والے آزاد امیدوار ہونگے وہ تمام اُن کے ساتھ ہونگے۔ان کے خیال میں اس وقت بھی نون لیگ میں پچاس فیصد ایم این اے ان کے ہم خیال ہیں ۔اِس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا۔وزیر اعظم کے ایک امیدوار موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی ہیں ۔ جن پر بدعنوانی کے مختلف الزامات لگائے جاتے ہیں ۔
یہ تاثر عام ہے کہ نواز شریف کے معاملات کبھی صاف ستھرے نہیںرہے ۔ سیمنٹ فیکٹریوں کی تعمیر پر پنجاب میں پابندی عا ئد ہے جب کہ خیبر پختون خوا میں کوئی بھی لگا سکتاہے ۔ قانون بنانے کی منشایہ بیان کی گئی کہ پنجاب کی سیمنٹ فیکٹریوں کے مالکان نواز شریف کےحلقہِ احباب میں شامل ہیں ۔اسی طرح قطر سے انتہائی مہنگی گیس خرید لی مگر آدھی قیمت پر ایران سے گیس نہیں لی ۔اس بات کوقطری خط کے پس منظر میں دیکھئے ۔قصہ وہی ہے کہ آدمی کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے جس کے پاس ایک سونے کی وادی ہوتی ہے وہ دوسری کا آرزومند ہوتا ہے ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں