آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سلالہ سے ملالہ تک کا سفرفقط دہشت گردی کی داستان ہی بیان کرتاہے۔سلالہ کا عذاب تو گزر چُکا البتہ اب ملالہ کے سانحہ سے پیدا ہونے والی طغیانی سے قوم دوچارہے۔ اللہ ملالہ کوصحت عطاکرے۔ اس سانحے پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اب تو ٹی وی خبرنامہ پڑھنے والوں کو بھی مختلف الفاظ کی ادائیگی میں دشواری پیش آرہی ہے۔ جیسے کہ کل رات ایک منجھے ہوئے ٹی وی نیوز کاسٹر کی زبان سے ”معاملہ“ کہنے کی بجائے ”ملالہ“ ہی نکلا۔ البتہ اس سانحے کے اثرات پر آج کچھ لکھنے کو جی چاہتاہے کیونکہ اس سانحے کو جس مخصوص انداز سے ہمارے میڈیا نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔اس نے سوات میں فوجی مہم جوئی سے پہلے کے منظرنامے کی یاد تازہ کردی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ صوفی محمدکو جیل سے رہا کر کے سوات میں امن کا سفیر تعینات کیا گیا اوروہ پہلے شخص تھے جنہوں نے بغیر کسی حفاظتی دستے کے وہاں پر چند ہی دنوں میں فائر بندی کر ا کر حکومت سے مذاکرات کےئے اور بالاآخر ایک امن کا معاہدہ طے پایا جس کی توثیق کچھ عرصے بعد صدر مملکت نے کرنا تھی۔ یہیں سے اصل کہانی کا آغاز شروع ہوتا ہے۔ پھر یوں ہوا کہ فوج نے باآواز بلند ایک پیغام دیاکہ کوئی بھی فوجی آپریشن عوام کی تائیداور حکومت کی امداد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتامیڈیا گھرانوں نے فوج کی اس سوچ پر لبیک کہا اور نہ آؤ دیکھا نہ

تاؤاور قوم کو مہم جوئی کے حق میں متحد کردیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا میڈیا نے یہ عمل خود اپنی سوچ،قومی مفاد اور حکومتی پالیسی کے طور پر کیا یا اس میں اندورنی کے علاوہ کوئی بیرونی مفاد بھی شامل تھا؟ جہاں تک وفاقی حکومت کا تعلق ہے ان کا صرف ایک نکاتی ایجنڈا تھا کہ اس نے اس معاہدے کی توثیق نہیں کرنی۔ صوبائی حکومت نے اس معاملے میں سیاسی مفاد کے حصول کے لےئے خاصی اُچھل کود کی مگر نتیجتاً اپنی عاقبت ہی خراب کر بیٹھے اور باقی عرصہ ان کی مرکزی قیادت ہوائی سفر میں ہی مصروف رہی۔ انسانی ونسوانی حقوق کی انجمنوں نے میڈیا کے ذریعے ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت خاصہ واویلا کیا اوراس سلسلے میں ایک خاتون کو کوڑے مارنے والی فلم خاصی کامیاب رہی۔ رہا سوال مغربی دنیا کا تو انہوں نے سارے معاملے کو اپنے مفاد میں اس کمال سے اُچھالا کہ ہم اِن کی گود میں جا بیٹھے۔نتیجتاً قوم آپریشن کے حق میں متحد ہوئی اور متاثرین افعانستان کے بعد سب سے بڑے متاثرین سوات کے آپریشن سے دوچار ہوئے۔
قارئینِ کرام! قوموں کی زندگی میں فوجی آپریشن بعض معاملات میں ناگزیر ہو جاتے ہیں مگر یہ بات طے ہے کہ آپریشن اس معاملے کا مستقل حل نہیں ہواکرتے۔البتہ ان آپریشنز کے بعد سیاسی اور انتظامی عمل ناگزیر ہوتا ہے۔ اس قصے میں بھی فوج نے تو اپنا کام خوش اسلوبی سے کر ڈالا۔ لیکن اس کے بعد کے سیاسی اور انتظامی عمل کے فقدان سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا جس کو پُر کرنے کے لئے خلاباز رفتہ رفتہ اپنی چھتریوں سمیت اترنا شروع ہوگئے ہیں۔ موجودہ ملالہ منظر نامہ سوات کے حالات و واقعات سے خاصی مماثلت رکھتا ہوا دیکھائی دیتاہے۔ البتہ اس بار سوات کا غصہ شمالی وزیرستان میں نکالے جانے کی تیاری کا عندیہ مل رہاہے۔اللہ کرے کہ میرا یہ تاثر غلط ثابت ہو کیونکہ اس بے ساختہ ردِ عمل میں خاصی ”حواس باختگی“ کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہوا کہ جس طرح 9/11 کا واقعہ خُدا نخواستہ اگرپاکستان میں رونما ہوتا تو حکومت وقت موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگا دیتی!
قارئینِ کرام! دہشت گرد کا نہ تو کوئی دین اور نہ ہی ایمان ہوتا ہے وہ فقط اپنے مقاصد کے حصول کے لےئے دہشت کا سہارا لیتا ہے۔اس کے علاوہ ہر انسان میں بچے کے علاوہ ایک وحشی بھی پنہاں ہوتا ہے اوریہ وحشی تمام شعبہ ہائے زندگی میں پائے جاتے ہیں انہیں چاہے آپ بالغان کہیں یا طالبان یہ فقط نام ہیں۔ کیا دہشت گردی کی یہ وحشیانہ مثالیں صرف سوات اور قبائلی علاقاجات میں ہی پائی جاتی ہیں؟ کیا نسوانی تعلیم کے حصول میں رکاوٹ صرف سوات میں ہی ہے؟ کیاباجوڑ کے اسکول پر معصوم بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے حصول میں مشغول ہوتے ہوئے زندہ درگور کرنا اور پھر اس عمل کا میڈیا کے ذریعے دفاع کرنا وحشی پن اور دہشت گردی نہیں؟ مجھے اس بات پر سخت تشویش لاحق ہے کہ آج ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمیں اپنے عوام سے یہ سوال کرنا پڑے کہ وہ طالبان کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ؟ ہمارا خلوص ِ نیت پر مبنی سوال یہ ہونا چاہئے کہ ” کیا ہم بلاتفریق دہشت گردی کے خاتمے کے لےئے مخلص ہیں یا نہیں؟“ دہشت گردتو دہشت گرد ہی رہے گا چاہے وہ اپنی سوچ پر عمل فاٹا میں کرے، کراچی ، لاہور، کوئٹہ میں یا کہیں اور۔ہمیں موجودہ بحث و مباحثے کو دین اور لادینیت کی لپیٹ میں لانے کی بجائے اسے اپنے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی روح کو پروان چڑھانے کے عمل پرمرکوز کرنا چاہیے جس میں قابلیت اور صلاحیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زوردیا جائے۔ بصورت دیگر ہمارا یہ منفی رویہّ ہمیں تقسیم در تقسیم کرتا چلا جائے گا اور نتیجتاً18 افراد 18کروڑپر سواری کریں گے۔ خاکم بدہن۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں